• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں نئے صوبوں اور طرزِ حکمرانی کی اصلاحات پر ماہرین میں اختلاف

اسلام آباد (مریم نواز) ایک کثیر الجہتی راؤنڈ ٹیبل کانفرنس نے پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام، حکمرانی کی ناکامیوں اور معاشی پالیسیوں پر ایک فکری بحث کو جنم دیا۔ مختلف شعبوں کے ماہرین، جن میں قانون، معیشت، صحافت اور سیاست شامل ہیں، نے متضاد آراء پیش کیں کہ آیا نئے انتظامی یونٹس پاکستان کے طرزِ حکمرانی کے بحران کا حل ہیں یا اصل مسئلہ اداروں کی مضبوطی اور اشرافیہ کی بالادستی میں مضمر ہے۔ ایس ڈی پی آئی (سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ) کے زیر اہتمام کانفرنس میں قانونی ماہرین، سابق بیوروکریٹس، سینئر صحافیوں اور ماہرین اقتصادیات نے شرکت کی۔ماہرِ تعلیم میاں عامر محمود نے پاکستان کے طرزِ حکمرانی کے ڈھانچے پر ایک تفصیلی تحقیقی رپورٹ پیش کی، جس میں موجودہ انتظامی فریم ورک اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی (ڈی سینٹرلائزیشن) کی ضرورت پر گفتگو کی گئی۔ کرنل (ر) انعام الرحمٰن، جو کہ ایک سینئر وکیل ہیں، نے نئے صوبے بنانے کی بھرپور حمایت کی اور کہا کہ موجودہ صوبائی ڈھانچہ غیر مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ چھوٹے اور زیادہ قابلِ انتظام انتظامی یونٹس بہتر طرزِ حکمرانی، قانون کی بالادستی اور جوابدہی کو یقینی بنائیں گے۔
اہم خبریں سے مزید