کراچی (نیوز ڈیسک) چین، جاپان اور جنوبی کوریا نے برسوں کے تجارتی تنازعات ختم کرتے ہوئے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور ایشیائی و عالمی تجارتی نظام کو نئی ترتیب دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس تاریخی معاہدے کو چین کی قیادت میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ایشیا کے اخبارات میں شائع ہونے والی سرخیوں میں تینوں اقتصادی طاقتوں کے وزرائے تجارت کو ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے دکھایا گیا، جو عالمی تجارتی نقشے میں ایک اہم تبدیلی کا عندیہ دے رہا ہے۔ تاہم، امریکی ذرائع ابلاغ میں یہ خبر زیادہ نمایاں نہ ہو سکی۔ یہ صورتحال امریکا کیلئے اقتصادی محاذ پر ایک دھچکے سے کم نہیں۔ سینئر تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال امریکا کی معیشت کیلئے ایک بڑی شکست ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آزاد تجارتی پالیسی کے اثرات دو دھاری تلوار ثابت ہو رہے ہیں، جہاں کچھ اقتصادی شعبے اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، وہیں عالمی سطح پر امریکا تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے آزاد تجارتی معاہدوں کو آگے بڑھانے کے ساتھ علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری (RCEP) کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اس معاہدے کو دنیا کا سب سے بڑا تجارتی اتحاد تصور کیا جا رہا ہے۔ امریکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ چین کے عالمی اقتصادی غلبے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ برطانیہ کی یونیورسٹی آف سسیکس کے یو کے ٹریڈ پالیسی آبزرویٹری کے ڈائریکٹر مائیکل گاسیوک نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عملاً امریکا اب عالمی تجارتی نظام میں ایک باغی ملک بن چکا ہے۔ چین نے یورپی حکام اور کمپنیوں کو اپنے قریب کرنے کیلئے ایک وسیع سفارتی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ اس ضمن میں مرسڈیز اور بی ایم ڈبلیو کے اعلیٰ حکام کو چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی دعوت بھی دی گئی ہے۔ یورپی یونین کے تجارتی کمشنر ماروش شیو چووچ حال ہی میں بیجنگ کا دورہ کر چکے ہیں تاکہ چین اور یورپ کے درمیان تجارتی معاہدے کے امکانات پر بات کی جا سکے۔ چند ہفتے قبل کی بات ہے کہ یورپی کمیشن چین کے ساتھ برقی گاڑیوں پر ممکنہ محصولات کے معاملے پر تنازع کا شکار تھا۔ چین کے نائب وزیراعظم ہی لی فینگ نے اس معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین اور یورپی یونین کو امریکا کے تجارتی حملوں کا سامنا ہے، اور اس سے نمٹنے کیلئے ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا۔ عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹرمپ کا تجارتی ماڈل 1930 کی دہائی میں نافذ ہونے والے امریکی تحفظاتی اقدامات سے مختلف ہے۔ اس وقت دنیا کی معیشت زیادہ جڑی ہوئی نہیں تھی اور امریکا کے سموٹ ہالی ٹیرف ایکٹ کے بعد مزید اقتصادی بلاکس میں تقسیم ہو گئی تھی۔ لیکن آج صورتحال مختلف ہے۔ امریکا کی تنہائی کے باوجود دنیا کی 80 فیصد معیشت کھلی تجارت کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ امریکا اپنی پالیسیوں کے نتائج خود بھگتنے پر مجبور ہے۔