• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان جوابی ٹیرف لگانے کا متحمل نہیں ہوسکتا، یورپی منڈیوں میں مقابلہ مزید سخت ہوگا

اسلام آباد (مہتاب حیدر)امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سمیت 180سے زائد ممالک پر بے مثال جوابی ٹیرف نافذ کر دیے ہیں، جن کے تحت پاکستان کی تیار شدہ مصنوعات (میڈ اپس) پر 29 فیصد اضافی محصول عائد کر دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے امریکا پاکستان سے درآمد کی جانے والی مصنوعات پر 0 سے 2 فیصد تک ٹیرف لگاتا تھا، مگر اس اضافے کے بعد بعض مصنوعات پر مجموعی ٹیرف 58 فیصد تک جا پہنچے گا۔ پاکستان طاقتور ممالک کی طرح جوابی ٹیرف لگانے کا متحمل نہیں ہوسکتا،یورپی منڈیوں میں مقابلہ مزیدسخت ہوگا۔بھارت کے مقابلے میں پاکستانی ٹیکسٹائل دبائو کا شکا ررہیں گی البتہ بنگلہ دیش اور ویتنام کے مقابلے میں ریلیف ملےگا۔امریکی حکام کے مطابق پاکستان نے امریکی مصنوعات پر اوسطاً 58 فیصد تک ٹیرف یا دیگر رکاوٹیں عائد کر رکھی ہیں، لہٰذا اب امریکہ نے جواباً 29فیصد کا ٹیرف عائد کیا ہے۔امریکہ اگرچہ پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، لیکن دوطرفہ تجارتی توازن پاکستان کے حق میں ہے۔سال 2024 میں امریکہ کی سب سے زیادہ درآمدات میکسیکو ($509.9 ارب)، چین ($462.6 ارب) اور کینیڈا ($421.2 ارب) سے ہوئیں، جبکہ بھارت سے $91.2 ارب اور پاکستان سے صرف $5.47 ارب کی درآمدات ہوئیں۔پاکستان کو اپنی تجارت کے تحفظ کے لیے دو پہلوؤں پر کام کرنے کی ضرورت ہے: ایک طرف امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مستحکم بنانا اور دوسری طرف پاکستانی مصنوعات کے لیے نئی منڈیاں اور خریدار تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ تجارت کو صرف ٹیکسٹائل اور ملبوسات تک محدود رکھنے کے بجائے دیگر شعبوں میں بھی پھیلانا ہوگا۔

اہم خبریں سے مزید