کراچی (نیوز ڈیسک) خامنہ ای کی شہادت کے بعد کیا ایران کا نظام ٹوٹ جائیگا یا مزید سخت ہوگا؟ امریکا کی فوری حکومتی زوال کی پیش گوئی، ماہرین کا کہنا ہے طاقت کا خلا ایک زیادہ جارح فوجی قیادت کو جنم دے سکتا ہے، عبوری قیادت کے قیام سے نظام کے بقا کا طریقۂ کار متحرک، اسٹریٹجک صبر کا دور ختم ہونے اور سخت ردعمل کے امکانات پیدا ہوگئے۔ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد امریکا اسے نظام کی فوری کمزوری قرار دے رہا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف فضائی کارروائیوں سے نظام کی تبدیلی ممکن نہیں کیونکہ ایران کا ڈھانچہ ادارہ جاتی نوعیت کا ہے اور اس کی دوہری عسکری ساخت، یعنی باقاعدہ فوج اور پاسدارانِ انقلاب، ریاست کو سہارا دیتی ہے جبکہ بسیج ملیشیا اندرونی کنٹرول مضبوط رکھتی ہے۔ ایرانی قیادت نے تیزی سے عبوری کونسل بنانے کا اعلان کیا ہے جس میں صدر، عدلیہ کے سربراہ اور گارڈین کونسل کے ایک فقیہ کو شامل کیا جائے گا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بقا کا نظام فعال ہو چکا ہے۔