کراچی (ٹی وی رپورٹ) سینئر صحافی و تجزیہ کار طاہر خان اور احسان ٹیپو محسود نےکہا ہے کہ جنگ مسئلہ کا حل نہیں،پاکستان کو طویل المدتی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔پاکستان کیلئے ٹی ٹی پی بڑا اندرونی خطرہ بن سکتی ہے، جس پر فوری اور سنجیدہ توجہ کی ضرورت ہے۔ وہ جیو نیوز کے پروگرام ’’جرگہ‘‘ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کررہے تھے۔ تفصیلات کے مطابق پروگرام ”جرگہ“ میں پاک۔افغان کشیدگی پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے میزبان ”سلیم صافی“ نے کہا کہ بدقسمتی سے گزشتہ چند روز سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ حالات باقاعدہ مسلح جھڑپوں کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ دونوں طرف سے دعووٴں اور جوابی دعووٴں کا سلسلہ جاری ہے، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ دو برادر ہمسایہ ممالک کے تعلقات اس نہج تک کیوں اور کیسے پہنچے؟۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار طاہر خان نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ کشیدگی کی بنیادی وجوہات میں پاکستان کے اندر سرگرم مسلح گروہوں کا مسئلہ سرفہرست ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد پاکستان میں یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ خطے میں استحکام آئے گا اور سیکیورٹی صورتحال بہتر ہوگی، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نکلے۔انہوں نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے کابل کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس ملاقات کو غیر ضروری تنقید کا سامنا کرنا پڑا، حالانکہ اس وقت اہم نکتہ یہ تھا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو کنٹرول کیا جائے۔ ان کے مطابق پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان بداعتمادی کی فضا پہلے سے موجود تھی، جس کی ایک بڑی وجہ ماضی کے واقعات ہیں، خصوصاً وہ دور جب پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا ساتھ دیا اور اڈے فراہم کئے۔ یہ عنصر افغان طالبان کے ذہنوں سے مکمل طور پر محو نہیں ہوا۔ طاہر خان نے کہا کہ بعض اوقات پاکستان میں توقعات حقیقت سے زیادہ وابستہ کر لی جاتی ہیں، جو بعد میں مایوسی اور غلط فہمیوں کو جنم دیتی ہیں۔ اگرچہ پاکستان نے اعتماد سازی کے اقدامات کیے، مثلاً کابل میں سفارت خانہ طالبان کے حوالے کرنا اور اسلامی تعاون تنظیم کی خصوصی میٹنگ بلانا، تاہم یہ اقدامات دیرپا اعتماد قائم کرنے کے لئے ناکافی ثابت ہوئے۔