کراچی (نیوز ڈیسک) ایران پر امریکی حملے کے اقتصادی اثرات: مہنگائی، اسٹاک مارکیٹ اور تیل قیمتوں میں اضافہ، خام تیل قیمتیں، اسٹاک مارکیٹ اتار چڑھاؤ اور سرمایہ کاری کمی امریکی صارفین کا روزمرہ خرچ، مالی بوجھ بڑھا رہی ہیں، آبنائے ہرمز بندش، عالمی شپنگ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر دباؤ، معیشت نمو متاثر، سرمایہ کار محتاط ہو گئے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکا کے ایران پر حملے کے فوری اور طویل المدتی اقتصادی اثرات امریکی صارفین اور عالمی معیشت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ خام تیل کی قیمتیں پہلے ہی 12فیصد بڑھ کر 73ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہیں اور اگر جنگ طویل ہو گئی تو قیمتیں 80 ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہیں، جبکہ ایران اور خلیجی ممالک سے تیل کی ترسیل میں رکاوٹ سے قیمتیں تین ہندسوں تک جا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، سرمایہ کاری کی قدر میں کمی، اور عالمی شپنگ میں خلل جیسے عوامل امریکی صارفین کے لیے مہنگائی اور روزمرہ اخراجات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ تیل کی اہم گزرگاہ، آبنائے ہرمز کی بندش یا خطرے سے عالمی شپنگ متاثر ہوگی، جس سے خلیج اور ایشیا کے پورٹس میں رش اور نرخوں میں اضافہ ممکن ہے۔