• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
فوٹو بشکریہ بھارتی میڈیا
فوٹو بشکریہ بھارتی میڈیا 

بھارتی لوک سبھا کے بعد بھارتی راجیہ سبھا میں متنازع وقف ترمیمی بل منظور کر لیا گیا۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق متنازع وقف ترمیمی بل کو راجیہ سبھا میں ایک طویل بحث کے بعد منظور کیا گیا جس  کے حق میں 128 ووٹ جبکہ مخالفت میں 95 ووٹ پڑے۔

سخت گیر ہندو تنظیم شیو سینا بھی بھارتی راجیہ سبھا میں متنازع وقف ترمیمی بل کے خلاف آواز اُٹھاتی نظر آئی۔

مہاراشٹر سے پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ سنجے راوت نے کہا ہے کہ مودی آج جتنی مسلمانوں کی فکر کر رہے ہیں، اتنی تو بیرسٹر جناح نے بھی نہیں کی ہو گی۔

اُنہوں نے وقف کی زمینیں فروخت کر کے مسلمان لڑکیوں کی شادی کروانے کے وزیرِ داخلہ کے بیان پر اپنے ردِعمل میں کہا ہے کہ یہ بات کر کے مودی حکومت کا بھانڈا پھوٹ گیا، ان کا یہ بل لانے کا اصل مقصد ہی زمینیں بیچنا ہے۔

وقف ترمیمی بل کیا ہے؟

مودی حکومت نے مسلمانوں کی وقف کردہ زمین کے انتظام میں زبردست تبدیلیوں کا منصوبہ بنایا ہے جس سے حکومت اور مسلمانوں کے درمیان ممکنہ طور پر کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔

زمین اور جائیدادیں وقف کے زمرے میں آتی ہیں جو مذہبی، تعلیمی یا خیراتی مقاصد کے لیے کسی مسلمان کی جانب سے عطیہ کی گئی ہیں اور ایسی اراضی کو منتقل یا فروخت نہیں کیا جا سکتا۔

حکومت اور مسلم تنظیموں کا اندازہ ہے کہ وقف بورڈ کے پاس تقریباً 8 لاکھ 51 ہزار 5 سو 35 جائیدادیں اور 9 لاکھ ایکڑ اراضی ہے جس سے وہ بھارت کے سرِ فہرست تین بڑے زمینداروں میں شامل ہوتا ہے۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت کے پیش کردہ وقف (ترمیمی) بل میں مرکزی وقف کونسل اور وقف بورڈ میں غیر مسلم اراکین کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے اور اس سے حکومت کو متنازع وقف املاک کی ملکیت کا تعین کرنے کا اختیار مل جائے گا۔

یہ قانون مسلم برادری اور مودی حکومت کے درمیان کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید