اگر آپ 100 سال تک جینا چاہتے ہیں تو پھل، دودھ اور گری دار میوے اپنی خوراک میں شامل کر لیں، کیونکہ ایک نئی تحقیق میں ان غذاؤں کو طویل زندگی کا راز قرار دیا گیا ہے۔
اسپین کے سائنسدانوں نے حالیہ تحقیق میں دریافت کیا کہ بحیرہ روم کی طرزِ خوراک (Mediterranean Diet) پر سختی سے عمل کرنے سے قبل از وقت موت کے امکانات میں 20 فیصد سے زائد کمی آ سکتی ہے۔
اس طرزِ خوراک میں کم گوشت، مرغی، اناج، پھل، سبزیاں، زیتون یا سورج مکھی کا تیل شامل ہوتے ہیں۔
مطالعے کے مطابق وہ افراد جو اپنی خوراک میں پھل، دودھ، گری دار میوے اور غیر سیر شدہ تیل (جیسے زیتون کا تیل) کو شامل کرتے ہیں، ان میں قبل از وقت موت کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہو جاتا ہے۔
دوسری جانب، تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا کہ سافٹ ڈرنکس اور میٹھی بیکری اشیاء (جیسے پیسٹریز) کا مسلسل استعمال موت کے امکانات کو بڑھا سکتا ہے۔
یہ تحقیق اسپین کے شہر میڈرڈ کی آٹونومس یونیورسٹی کے ماہرین نے کی، جنہوں نے 11 ہزار سے زائد بالغ افراد کی خوراک کا جائزہ لیا۔ ان افراد کی عمر کا اوسط 48 سال تھا۔ شرکاء کو "Planetary Health Diet (PHD)" اور "Mediterranean Diet" کے تحت پوائنٹس دیے گئے، جن کی بنیاد پر ان کی غذائی عادات کو جانچا گیا۔
PHD ڈائیٹ کا مقصد نہ صرف بیماریوں سے بچاؤ ہے بلکہ ماحولیات اور زراعت پر بھی مثبت اثر ڈالنا ہے۔ یہ خوراک زیادہ تر پودوں پر مبنی ہوتی ہے اور اس میں گوشت کی مقدار کم رکھی جاتی ہے جبکہ اوسطاً 2500 کیلوریز روزانہ تجویز کی جاتی ہیں۔
14 سال پر محیط اس تحقیق میں 1157 افراد کا انتقال ہوا۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ "جو افراد PHD ڈائیٹ پر سب سے زیادہ عمل پیرا تھے ان میں موت کا خطرہ 22 فیصد کم تھا جبکہ وہ افراد جو میڈیٹیرین ڈائیٹ کی طرزِ خوراک کے زیادہ قریب تھے ان میں بھی یہ خطرہ 21 فیصد کم رہا۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ ان دونوں ڈائیٹس کے اندر موجود کچھ اجزاء- خاص طور پر پھل، دودھ، غیر سیر شدہ تیل اور گری دار میوے کو انفرادی طور پر بھی موت کے خطرے میں کمی سے منسلک کیا گیا۔
دنیا کی سب سے معمر شخصیت اس وقت برازیل کی راہبہ اناہ کانابارو لوکاس ہیں، جن کی عمر 116 سال ہے۔ برطانیہ کی سب سے عمر رسیدہ خاتون ایتھل کیٹرم ہیں جن کی عمر 115 سال ہے۔ دنیا کی تاریخ کی سب سے عمر رسیدہ شخصیت فرانس کی ژین لوئس کالمنٹ تھیں جو 122 سال اور 164 دن تک زندہ رہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ لمبی عمر کا راز صرف خوراک میں نہیں بلکہ زندگی گزارنے کے انداز میں بھی ہے۔ جسمانی سرگرمی، مختلف اقسام کی قدرتی خوراک، محبت، رفاقت اور زندگی کا مقصد، یہ سب وہ عوامل ہیں جو دنیا کی ان جگہوں پر عام پائے جاتے ہیں جہاں لوگ اکثر 100 سال سے زائد زندہ رہتے ہیں، جنہیں ’بلیو زونز‘ کہا جاتا ہے۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی بہترین خوراک جاننے کےلیے ماہر غذائیت سے رابطہ کریں۔