مکّہ معظمہ: (انصار عباسی)… امریکا میں مقیم پاکستانی ڈاکٹروں اور تاجروں کے ایک گروپ نے اسلام آباد میں ایک سینئر عہدیدار اور پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی ہے۔
یہ روابط پی ٹی آئی اور اس کے ہمدردوں کی عمران خان کیلئے کچھ ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔ بیک چینل کی یہ کوششیں اُن پس پردہ مذاکرات سے الگ ہیں جو پی ٹی آئی اور متعلقہ حلقوں کے درمیان ہوئی تھیں۔
اگرچہ توقع ہے کہ پی ٹی آئی ور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بیک چینل مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں لیکن تاحال کسی کوشش میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ پی ٹی آئی کے کچھ رہنما، جو ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت کرتے رہے ہیں، بیک چینل مذاکرات کی بحالی کی کوشش کر رہے ہیں۔
ملٹری اسٹیبلشمنٹ مسلسل اس بات پر اصرار کرتی رہی ہے کہ وہ سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں سے بات نہیں کرے گی اور یہ سیاسی جماعتوں کا کام ہے کہ وہ آپس میں سیاست اور اس سے جڑے امُور پر بات چیت کریں۔ تاہم پی ٹی آئی کے کچھ رہنمائوں نے بیک چینل مذاکرات کے حوالے سے بات کی ہے۔
امریکا میں مقیم ڈاکٹروں اور تاجروں کی ایک اہم عہدیدار اور عمران خان کے ساتھ بات چیت سے آگاہ ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ ایسی کوششوں کی کامیابی کا انحصار پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اور عمران خان کے رویے پر ہے۔
عمران خان اور پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا اور پارٹی کے غیر ملکی چیپٹرز بالخصوص پی ٹی آئی کا امریکا اور برطانیہ کا چیپٹر فوج اور اس کی اعلیٰ کمان کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔ پارٹی کے سوشل میڈیا پر فوج اور اس کی کمان کیخلاف یکے بعد دیگرے مہمات چلائی گئیں۔
جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں جبکہ عمران خان کی رہائی کیلئے اسلام آباد اور جی ایچ کیو پر دبائو ڈالنے کی خاطر واشنگٹن اور لندن سمیت بااثر عالمی دارالحکومتوں سے رابطے کیے گئے۔ پاکستان کیلئے آئی ایم ایف کے پروگرام کو نقصان پہنچانے کے علاوہ تحریک انصاف ملک کی فوج پر پابندیاں عائد کرانے کیلئے بھی سرگرم رہی ہے۔
پی ٹی آئی کی دوسرے درجے کی قیادت، جو خود پارٹی کے سوشل میڈیا اور اس کے غیر ملکی چیپٹرز کو پارٹی اور اس کی اعلیٰ قیادت کیلئے مسائل کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے، جانتی ہے کہ پارٹی اور اس کے جیل میں قید رہنما کیلئے حالات اس وقت تک نہیں بہتر نہیں ہو سکتے جب تک پی ٹی آئی سوشل میڈیا اور عمران خان فوج کے ادارے اور اس کی اعلیٰ کمان پر تنقید بند نہیں کرتے۔
اب جبکہ امریکا میں مقیم پاکستانی ڈاکٹروں اور تاجروں کے وفد نے ایک اہم عہدیدار اور عمران خان سے ملاقات کی ہے، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا عمران خان اور پارٹی سوشل میڈیا کچھ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہیں یا نہیں۔
خیال کیا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی اور اس کی اعلیٰ قیادت کے حالات صرف اسی صورت بہتر ہو سکتے ہیں جب وہ منفی سیاست بند، فوج کے ادارے کو نشانہ بنانے سے گریز کریں اور معیشت کو نقصان نہ پہنچائیں۔ پی ٹی آئی اور اس کے ہمدردوں کیلئے اہم ترین معاملہ یہ ہے کہ عمران خان کو ریلیف ملے۔