• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریک انصاف میں بحران موجود، پالیسی پر بھی کنفیوژن، تجزیہ کار

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیو کے پروگرام ’’رپورٹ کارڈ‘‘ میں میزبان علینا فاروق شیخ کے پوچھے گئے سوال کیا پی ٹی آئی سب کو یکجا کرکے حکومت کے خلاف کوئی موثر اور بڑی تحریک چلاسکے گی ؟ جواب میں سینئر صحافی اور تجزیہ کار فخر درانی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اپنے اندر ہی اتحاد کا فقدان ہے۔

فخر درانی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے اپنے اندر ہی اتحاد کا فقدان ہے ورنہ تو پی ٹی آئی کسی بھی حکومت کے خلاف ایک موثر تحریک چلانے میں اپنا بہترین کردار ادا کرسکتی ہے ابھی دیکھنا ہوگا کہ آیا کیا پی ٹی آئی باقی کی اپوزیشن جماعتوں کو اکھٹا کرسکے گی یا نہیں۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سینئر تجزیہ کار ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ اس وقت کے پی صوبے میں مسائل کا انبار لگا ہوا ہے لیکن وفاق ان کے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک کررہا ہے وفاق کو تو کے پی صوبے کے مسائل حل کرنے چاہیے۔

اُنہوں نے کہا کہ میری نظر میں تو پی ٹی آئی اس وقت جو آواز اٹھارہی ہے وہ بالکل درست اٹھارہی ہے کیونکہ کے پی اور وفاق کی پالیسی بھی اس وقت ایک پیچ پر نہیں ہے یہ بھی درست ہے کہ پی ٹی آئی میں اختلافات ہیں دھڑے بندیاں ہیں قیادت کا بھی بحران ہے۔

ارشاد بھٹی نے مزید کہا کہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اوپر عمران خان ہے نیچے عوام ہے درمیان میں پارٹی مسنگ ہے تو جب حالات ایسے ہوں تو پھر لازم ہے کہ کوئی مؤثر تحریک چل نہیں سکے گی ۔

سینئر صحافی آصف بشیر چوہدری کا کہنا تھا کہ لیڈر شپ کا تو پاکستان تحریک انصاف میں بحران موجود ہے جبکہ پالیسی لیول پر بھی کنفیوژن نظر آتی ہے خود پی ٹی آئی کے ہی وزیراعلیٰ اپنی ہی پارٹی کے لوگوں کو نام لے کر کرپٹ کہہ رہے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ اسد قیصر جنہوں نے اپوزیشن جماعتوں سے بات کرنی اور عید کے بات تحریک چلانی تھی وہ ملک سے باہر ہیں۔  

آصف بشیر چوہدری نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد کی بات کریں تو ایک نام فوری جو ذہن میں آتا ہے وہ مولانا فضل الرحمٰن کا تاہم یہ سوال بھی ہے کہ وہ کیونکر پی ٹی آئی کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے مقابل کھڑے ہوں گے اور ویسے بھی مولانا معترض ہیں کہ پی ٹی آئی کے لوگ ان کے خلاف بیان دیتے ہیں دوسرا یہ کہ کوئی ایسا بندہ بھی ان کی پارٹی میں موجود نہیں جو عمران خان کے حوالے سے گارنٹی دے سکے کہ وہ کن چیزوں کو مانیں گے اور کن کو نہیں مانیں گے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ میری نظر میں ابھی تک تو پی ٹی آئی کے لیے تحریک چلانے کے لیے حالات موزوں نہیں ہیں پالیسی لیول پر بھی پارٹی میں فقدان ہے۔

اہم خبریں سے مزید