• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کوئی واپس نہیں جانا چاہتا، پاکستان سے ملک بدر ہونے سے خوفزدہ افغان

راولپنڈی (اے ایف پی) بے نظیر رؤفی اپنے ریسٹورنٹ میں تنہا کھڑی ہیں، پاکستان کی حکومت کی جانب سے لاکھوں افغانوں کے رہائشی اجازت نامے منسوخ کرنے کے اعلان کے بعد سے ان کا عملہ اور گاہک خوفزدہ ہیں۔اسلام آباد نے مارچ کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ ملک بدری کے پروگرام کا دوسرے مرحلے میں 8لاکھ افغان سٹیزن کارڈز (اے سی سی) کو منسوخ کر دیا جائے گا ، جس نے پہلے ہی 8لاکھ غیر دستاویزی افغانوں کو سرحد پار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔13برس کی عمر میں90 کی دہائی میں افغانستان کی خانہ جنگی سے فرارہونے والی 45سالہ بے نظیر رؤفی کا کہنا ہے کہ اگر مجھے ملک بدر کیا گیا تو میں برباد ہوجاؤں گی، یا تو میرا دل بند ہو جائے گا، یا میں اپنی جان لے لوں گی۔پاکستان نے ہمیں مسکراہٹ دی اور اب وہ مسکراہٹیں چھینی جا رہی ہیں۔ان کے لیے کام کرنے والی دس افغان خواتین نے راولپنڈی کے ریسٹورنٹ پر پولیس کے چھاپے کے بعد گھر سے نکلنے سے انکار کر دیا ہے،انہیں ایک ایسے ملک میں بے دخلی کا سامنا ہے جہاں خواتین پر تعلیم حاصل کرنے، مخصوص ملازمتوں اور پارکوں جیسے عوامی مقامات پر جانے پر پابندی ہے۔بے نظیر رؤفی نے دکھی لہجے میں کہا کہ میرے پاس واپس جانے والا کوئی نہیں ہے، طالبان ہمیں قبول نہیں کریں گے۔اے سی سی ہولڈرز کو رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنے کے لیے حکومت کی ڈیڈ لائن میں اپریل تک توسیع دی گئی، لیکن کارکنوں کے مطابق، حکام کی جانب سے گزشتہ کئی ماہ سے ہراساں کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔پاکستان میں پیدا ہونے والے، پاکستانیوں سے شادی کرنے والے، یا ملک میں کئی دہائیوں سے رہنے والے ان لوگوں میں شامل ہیں جن کے سرکاری رہائشی اجازت نامے منسوخ کیے گئے ہیں۔ملک بدری کی یہ مہم اس وقت سامنے آئی ہےجب سرحد پر پاکستان کی تیزی سے بگڑتی ہوئی سکیورٹی کی صورتحال پر ہمسایہ حکومتوں کے درمیان سیاسی تعلقات میں تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔
اہم خبریں سے مزید