• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گنڈا پور کا انکار، پنجاب حکومت کی غیر قانونی افغانوں کی ڈائریکٹ بیدخلی

لاہور(آصف محمود بٹ ) وفاقی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں مقیم غیر قانونی افغان باشندوں کے انخلاء سے متعلق احکامات کے باوجود وزیر اعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈا پور کی طرف سے انہیں زبردستی واپس افغانستان نہ بھجوانے کے اعلان کے برعکس پنجاب حکومت نے صوبہ بھر میں غیر قانونی طور پرمقیم افغان باشندوں کوخود اپنی تحویل میں طورخم بارڈر تک پہنچا کر افغان حکام کے حوالے کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے اس حوالے سے جاری آپریشن کی نگرانی وزیر اعلی مریم نواز شریف خود کر رہی ہیں ۔محکمہ داخلہ پنجاب انخلاء کے حوالے سے تمام اہم پیش رفت سے آگاہی وزیر اعلی پنجاب کو دے رہا ہے۔ وزیر اعلی پنجاب مریم نوا ز نے نظر ثانی شدہ نیشنل ایکشن پلان ، وفاقی اپیکس کمیٹی کے فیصلوں اوروفاقی حکومت کی طرف سے غیر قانونی باشندوں کے انخلاء کی پالیسیوں پر فوری عملدرآمد کے احکامات جاری کر رکھے ہیں ۔ اس حوالے سے محکمہ داخلہ پنجاب میں قائم کردہ فارن نیشنل سکیورٹی سیل 24/7 متحرک اور مستعد ہے۔ گزشتہ دو روز میں پنجاب سے 1153 افراد کو طورخم کے راستے افغانستان واپس بھجوایا جا چکا ہے جبکہ پنجاب کے ہولڈنگ ایریاز میں اس وقت بھی 1903 افراد موجود ہیں جنہیں آج ہی طورخم روانہ کر دیا جائیگا۔ اسی طرح ضلعی انتظامیہ، سپیشل برانچ اور پولیس کے مربوط آپریشنز کی مدد سے 155 افراد کو آج رات ہولڈنگ ایریاز میں منتقل کر دیا جائے گا۔ یہ بات واضح رہے کہ صرف غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو واپس منتقل کیا جا رہا ہے۔ اے سی سی ہولڈرز کو آج واپس بھجوایا جا رہا ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کا خصوصی سیل صوبہ بھر میں مانیٹرنگ اور کوارڈینیشن کر رہا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر صوبہ بھر سے رپورٹس لی جا رہی ہیں۔ یہاں یہ پہلو بھی قابل ذکر ہے کہ پنجاب کی انتظامیہ غیر قانونی طور پر مقیم باشندوں کو خود اپنی تحویل میں طورخم بارڈر تک پہنچا رہی ہے جہاں انکے کاغذات کو افغان حکام کے حوالے کیا جاتا ہے۔ بادرڈ پر تصدیقی عمل مکمل اور افغان شہریوں کے بارڈر کراس کرنے کا تمام عمل اپنی نگرانی میں مکمل کروایا جاتا ہے۔ غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی واپسی پر آنے والے اخراجات حکومت پنجاب برداشت کر رہی ہے۔ اس ضمن میں تمام اضلاع سے آنے والے کیسز کو کابینہ کمیٹی برائے امن و امان میں منظوری کیلئے پیش کیا جاتا ہے جہاں سے منظوری کے بعد محکمہ داخلہ کے بلاک ایلوکیشن سے رقم ادا کی جاتی ہے۔
اہم خبریں سے مزید