• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

موجودہ نظام اسوقت تک چلے گا جب تک اسٹیبلشمنٹ چاہے گی، تجزیہ کار

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیوکے پروگرام’’ جرگہ‘‘ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے انویسٹی گیٹو جرنلسٹ دی نیوز فخر درانی نے کہا کہ موجودہ نظام بنایا ہی اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر گیا ہے اور یہ چلے گا بھی اسی وقت تک جب تک اسٹیبلشمنٹ چاہے گی ، لاہور سے نمائندہ جیو نیوز رئیس انصاری نے کہاکہ بزدار دور اور مریم نواز دور کا آپس میں کوئی موازنہ بنتا نہیں ہے،مریم نواز بالکل کام کرتی نظر آرہی ہیں، ارشد عزیز ملک ریذیڈنٹ ایڈیٹر جنگ پشاور نے کہا کہ کے پی میں گورننس کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کے پی میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے جنوبی اضلاع میں حکومتی رٹ ختم نظر آتی ہے،سلمان اشرف نمائندہ خصوصی جیو نیوز کوئٹہ نے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں گورننس کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا صوبے میں اس وقت انتہائی خراب حالات ہیں،افضل ندیم ڈوگر نمائندہ خصوصی جیو نیوز کراچی نے کہاکہ کراچی میں دہشت گردی نہیں ہے لیکن کراچی میں اسٹریٹ کرائم اس وقت عروج پر ہے جبکہ ٹریفک حادثات بھی کافی حد تک بڑھ چکے ہیں ۔لاہور سے نمائندہ جیو نیوز رئیس انصاری نے پنجاب بالخصوص لاہور کی سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا یہ تاثر جارہا ہے کہ نمائشی گورننس ہورہی ہے لیکن ایسا مکمل طو رپر درست نہیں گورننس میں کام بھی ہورہے ہیں بزدار دور اور مریم نواز دور کا آپس میں کوئی موازنہ بنتا نہیں ہے اصل موازنہ تو شہباز شریف دور اور مریم نواز دور کا کیا جانا چاہئے ۔مریم نواز بالکل کام کرتی نظر آرہی ہیں پنجاب میں اسپتالوں کا قیام ہورہا ہے بالخصوص ماحولیات میں کافی کام ہوا ہے جس میں حکومت کا ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوا ہے۔سینٹرل پنجاب پر توجہ اور جنوبی پنجاب نظر انداز تاثر پر رئیس انصاری نے کہا لاہور کی آبادی پونے دو کروڑ کے لگ بھگ ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی زیادہ تر توجہ سینٹرل پر ہوتی ہے لیکن جنوبی پنجاب کو نظر انداز نہیں کیا جارہا وہاں پر بھی کام ہورہے ہیں اور تمام شہروں کو مدنظر رکھ کر سمریاں بنائی جاتی ہیں ۔ارشد عزیز ملک ریذیڈنٹ ایڈیٹر جنگ پشاور نے کے پی میں گورننس کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کے پی میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے جنوبی اضلاع میں حکومتی رٹ ختم نظر آتی ہے جبکہ جو ضم اضلاع ہیں وہ پہلے ہی ہاتھ سے نکل چکے ہیں جبکہ ٹانک کی صورتحال یہ ہے کہ وہاں سرکاری دفاتر کھل نہیں پارہے ہیں کیونکہ وہاں کام کرنا بہت مشکل ہے جنوبی اضلاع میں جن کا ٹرانسفر ہوا ہے وہ وہاں جاتے نہیں وہ جانتے ہیں کہ وہاں سے واپسی ممکن نہیں ہے ۔تازہ اطلاعات یہ ہیں کہ صوبے کے تمام اضلاع میں ٹی ٹی پی کے لوگ پہنچ چکے ہیں تاہم اس میں سنجیدگی نہ ہی وفاق کی جانب سے اورنہ ہی صوبے کی جانب سے دکھائی دے رہی ہے دونوں ہی تنازعے میں پڑے ہوئے ہیں اس وقت دیکھا جائے تو امن و امان بڑا مسئلہ ہے ۔سلمان اشرف نمائندہ خصوصی جیو نیوز کوئٹہ نے صوبہ بلوچستان میں گورننس کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا صوبے میں اس وقت انتہائی خراب حالات ہیں مستونگ میں بی این پی کا ایک دھرنا جاری ہے جس کی وجہ سے بلوچستان کے بارہ ڈسٹرکٹ سے رابطہ منقطع ہے کوئٹہ کراچی روٹ مکمل طو رپر بندہے جبکہ کوئٹہ تفتان شاہراہ بھی بند ہے تین ماہ میں 202کے قریب دہشت گردی کے واقعات رونما ہوئے ہیں صوبے میں ۔

اہم خبریں سے مزید