• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ریاست مٹی کا کوئی گھروندا نہیں ،جسے بچے حسبِ شوق جوڑتے پھر توڑتے ہیں۔ ریاستوں میں پہاڑ جیسے مسائل و مصائب کا پیدا اور حل ہونا معمول کا بزنس ہے، جیو کا معاملہ بھی حل ہو ہی جائے گا۔ ان مراحل میں البتہ جو جو واقعات آئے، انہیں سبق آموز زاویہ نگاہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس سے آئندہ ایسی ہی غلطیوں یا کوتاہیوں سے بچ جانے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ رات گئی اور بات گئی یا مٹی پائو حل کے مصلحتی عواقب ضرور ہیں لیکن حکمت و بصارت کے تقاضے فکر، تدبر اور سدباب کے باب میں بہتر تاریخی عمل کیلئے تیاری ہے۔ یہ امر بھی بلاشبہ غور طلب ہے کہ اہلِ صحافت کے ساتھ ماجرے میں سول سوسائٹی اور سیاستدانوں کا کردار کیا رہا۔ دیکھا جائے تو ہم نے ایک سنگین جرم کے گرد سے ایک ایسا طوفان برپا کر دیا جس میں اصل موضوع یعنی ’’حامد میر صاحب پر قاتلانہ حملہ کس نے کیا‘‘ سرے سے غائب ہی ہو گیا، ملزمان کا گرفت میں لایا جانا تو دور کی بات، بڑی فنکارانہ چابکدستی سے عوام و خواص کی توجہ ہی نان ایشوز کی جانب موڑ دی گئی۔ بزمِ خود ناراض ہو کر میڈیا پرسنز اور سیاستدانوں نے جن الزامات اور نکات پر محاذ گرم کیا ان کا تعلق کسی طور اصل کہانی سے تھا ہی نہیں! بقول فیض صاحب۔
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے
پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے آنے کے بعد جہاں ’’بدعتوں‘‘ کا سیلاب اُمڈآیا وہاں ایک تاثر یہ بھی پیدا ہوا کہ صحافت کیلئے اب پروفیشنل ازم ناگزیر نہیں رہا۔ خوبصورت چہرے ترجیح قرار دینے کے باعث ٹی وی اسکرین پر نسوانیت غالب آگئی، اس روایت کو پذیرائی یوں ملی کہ پرنٹ میڈیا میں الفاظ بولتے ہیں اور الیکٹرانک میڈیا پر چہرے!! اسے سینئرز نے معیوب بھی نہیں ٹھہرایا، ایک تو ایک حد تک مستور جنس نے جلوہ افروز ہو کر اپنی صلاحیتوں کا اظہار آپ کیا، تو دوسری طرف صنفِ نازک کیلئے باعزت روزگار کے دروازے بھی وا ہوئے۔ حالیہ جیو اور جینے دو کی جدوجہد میں ہوا مگر یہ ہے کہ ایسی خواتین ان پروفیشنل سے کہیں آگے آگے ہیں جن کا یہ دعویٰ رہا ہے کہ وہی صحافتی اصولوں کے نگہبان ہیں، چنانچہ اب یہ تمیز کرنا ایک مشکل امر ہے کہ اصل نسوانیت کس جنس میں ہے !!؟ لیکن پھر بھی بقول احمد فراز
یار خوش ہیں کہ انہیں جامۂ احرام ملا
لوگ ہنستے ہیں کہ قامت سے زیادہ پہنا
گزشتہ روز’’ آزادی گلی‘‘ میں جیو سے اظہار یکجہتی کیلئے لگائے گئے کیمپ میں جیو کراچی کے بیورو چیف فیصل عزیز آسمانِ صحافت کے روشن ستاروں کا جب استقبال کر رہے تھے تو کیمپ میں جوش و جذبہ دیدنی تھا لیکن میں نے ان بڑے اور کھرے اصحاب امتیاز عالم، پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد خان، نذیر لغاری، ڈاکٹر جبار خٹک، عامر محمود، احمد جان بلوچ کی تقاریر میں اُداسی محسوس کی، یہ اساتذہ اگرچہ جیو کے بند ہونے پر دکھی تو تھے ہی لیکن ملال اپنی برادری کا بھی تھا، جیسے کہہ رہے ہوں۔
میں تو لب کھول کے پابند سلاسل ٹھہرا
تیری بات اور ہے تو صاحبِ محفل ٹھہرا
کیا کہوں کس نے قبیلہ مرا تقسیم کیا
آج یوں ہے کوئی بِسمل، کوئی قاتل ٹھہرا
ذرق برق پاکستانی سول سوسائٹی بھی کیا خوب ہے، اس میں خوب سیرت و خوبصورت لوگوں کی بہتات ہے، البتہ جب فہمائش ہو تو بزم آرا ہو جاتی ہے اور جب کوئی ان کی رعنائیاں نظر بد سے بچانے کی خاطر زیرِنقاب رکھنے پر مصر ہو تو پھر ’’حالیہ رزم‘‘ بھی ان کی گرم نگاہِ التفات کے خراج کا حقدار نہیں ٹھہرتا۔
ہماری وہ سیاسی و مذہبی جماعتیں، جو یوں تو جمہوری اقدار کی خاطر دریائے سندھ کو اپنے لہو سے سرخ کرنے کی داعی ہیں لیکن جہاں جیو پر پابندی و جرمانہ میاں صاحب کی جمہوری حکومت کا طرہ امتیاز کہلائے گا وہاں اکثر سیاسی مذہبی جماعتوں کا پھُس پھَسانہ کردار بھی تاریخ کے حوالے ہو گیا ہے۔ ہم لاکھ اس پابندی کا سہرا کسی اور کے سر باندھیں لیکن جیو بہر صورت سیاسی حکومت کے دور میں ہی بند ہوا ہے۔ یہ بات بھی اب پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ جمہوریت محض سیاسی جماعتوں کا وہ راگ ملہار ہے جو راگ ’’درباری‘‘ کے چھیڑتے ہی بے روح ہو جاتا ہے، جمہوری نعرے اب ادرش نہیں ، پُرفریب سلوگن نظر آتے ہیں۔ اب نا ممکن اگر نہ بھی ہو تو یہ مشکل ضرور ہے کہ اظہار آزادی یا بنیادی آئینی و انسانی حقوق کا کوئی نعرہ مستانہ ایسی جماعتوں کے مرُدہ دلوں اور مضمحل بلکہ معطل قویٰ میں عمل کی کوئی روح پھونک دے۔ راقم خواجہ آصف صاحب کی شعلہ بیانی کا قدر داں رہا ہے لیکن اب لگتا ہے کہ جیسے وہ تھک سے گئے ہیں حضرت تاثیر نے کہا تھا
بے باک چال، چال سے بے باک تر نظر
اب حُسن تو بہت ہے مگر فتنہ گر نہیں
با الفاظ دیگراں، لگتا ہے سیاستدانوں کی اُٹھک بیٹھک ہی کسی کی منشاء سے مشروط ہے یعنی سیاستدانوں کے نزدیک ’’کسی کی‘‘ رضا ہی دراصل داخلِ ہنر ہے!! لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس نگوڑماری سے اظہارِ آزادی کا ستیاناس بلکہ ساڑھے ستیاناس ہوگیا ہے۔ احمد فراز یاد دلاتے ہیں
نوحہ گروں میں دیدہ تر بھی اُسی کا تھا
مجھ پر یہ ظلم بارِ دگر بھی اُسی کا تھا
یہاں یہ افسوسناک امر ملاحظہ فرمائیں کہ جن عناصر نے ہمارے اداروں کی نظروں میں نمبر بڑھانے کیلئے دوڑ شروع کی، گویا انہوں نے ہی سب سے زیادہ ہمارے ان محترم اداروں کی نیک نامی و وقار کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، کوئی بھی ایشو اتنا طویل نہیں چلتا، جس طرح اسے بنایا گیا، لامحالہ گھر گھر ہمارے یہ ادارے موضوع بحث بن گئے۔ جہاں تک جیو پر بلاناغہ گُل پاشی کا معمہ ہے تو اس حوالے سے صرف اتنا کہنا ہے کہ سرمایہ کے بل پر اہلِ صحافت کو یرغمال بنانے والوں کے جو اہلِ صحافت آلہ کار بنے، اگرچہ یہ ان کا حق تھا لیکن ان سے زیادہ کون یہ جانتا ہو گا کہ کاروباری مسابقت اپنی جگہ، لیکن جنگ گروپ نے یہ مقام چار چھ سال میں نہیں بنایا بلکہ حضرت حفیظ جالندھری نےجو کہا تھا
تشکیل و تکمیل فن میں جو بھی حفیظ کا حصہ ہے
نصف صدی کاقصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں
یہاں تو بات نصف صدی سے بھی آگے نکل جاتی ہے، یہی وجہ تو ہے کہ جب جیو آیا، تو گویا ’’ وہ آیا اُس نے دیکھا اور فتح کر لیا ‘‘ کہ مصداق گھر گھر پہنچ گیا ، یہ تو حالیہ بحران کے دنوں میں سب کو معلوم ہو ہی گیا کہ جیو تو بقول شاہین قریشی صاحب اب فیملی ممبر بن چکا ہے اور خاندان کا رکن ہی تو ہے کہ اس کے بند ہونے سے مملکت خداداد پاکستان کا ہر شہری اداس ہے۔
اس قدر افسردہ خاطر کون محفل سے گیا
ہر کسی کی آنکھ پُرنم ہے دلِ آزاراں سمیت
دلِ آزاراں‘‘ کو جب گھر پر جیو کی تشنگی محسوس ہوتی ہے تو اسٹوڈیو آکر خود کو ’’سیراب‘‘ کر لیتے ہیں۔!!!!
لاریب، اپنے قومی اداروں کی حُرمت پر اپنی انا نچھاور کر کے اور اظہار آزادی کی جنگ میں ثابت قدم رہ کر جیو نے جینے کا قرینہ سکھا دیا ہے ایسے وطن دوست چینل کیلئے ہر پاکستانی کی یہی دعا ہے۔
تم جیو ہزاروں سال....ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار
تازہ ترین