برطانیہ کی لبرل ڈیموکریٹ کے سربراہ سر ایڈ ڈیوی نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرکاری دورہ برطانیہ کے دوران شاہی عشائیے میں شرکت نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ انہوں نے غزہ میں جاری انسانی بحران کے خلاف ایک "پیغام دینے" کے لیے کیا ہے۔
ایڈ ڈیوی نے کہا کہ شاہ چارلس کی دعوت کو قبول نہ کرنا ان کے "فطری میلان" کے خلاف ہے کیونکہ شاہی دعوت کسی بھی رہنما کے لیے اعزاز کی بات ہوتی ہے۔
تاہم انہوں نے زور دیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس اسرائیل، قطر اور دیگر خلیجی ممالک پر اثر و رسوخ استعمال کر کے قحط، بھوک اور اموات کو روکنے اور یرغمالیوں کی رہائی کو ممکن بنانے کی طاقت موجود ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا کو 17 سے 19 ستمبر تک تین روزہ سرکاری دورے کے دوران شاہی محل ونڈسر کیسل میں شاہ چارلس سوم اور ملکہ کمیلا کی جانب سے مدعو کیا گیا ہے۔ شاہی عشائیے میں عام طور پر 150 مہمان شریک ہوتے ہیں جن میں سیاست دان، سفارت کار، مذہبی رہنما اور مشہور شخصیات شامل ہوتی ہیں۔
سر ایڈ ڈیوی نے کہا کہ ایملی اور میں نے سارا موسم گرما اس پر غور اور دعا کی۔ بادشاہ کی دعوت سے بڑا کوئی اعزاز نہیں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ یاد دلانا ہوگا کہ ان کے پاس یہ طاقت ہے کہ وہ غزہ میں موت اور بھوک کو ختم کر سکتے ہیں اور یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شاہی عشائیے کا بائیکاٹ ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے وہ ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کو یہ پیغام دے سکتے ہیں کہ وہ آنکھیں بند کر کے اس معاملے کو نظرانداز نہ کریں۔
دوسری جانب کنزرویٹو جماعت کی شیڈو وزیر خارجہ ڈیم پریتی پٹیل نے ایڈ ڈیوی کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ ہمارے قریب ترین اتحادی اور سلامتی کے شراکت دار کے سرکاری دورے کے دوران انتہائی غلط فیصلہ ہے۔
انہوں نے کہا یہ بادشاہ معظم کے ساتھ گہری بے ادبی ہے، ایڈ ڈیوی نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ سنجیدہ لیڈر نہیں بلکہ محض نمائشی سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں۔