• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یوکرین کا ڈرون حملہ، پیوٹن کے محل کے قریب جنگلاتی آگ بھڑک اٹھی

فوٹو: امریکی میڈیا
فوٹو: امریکی میڈیا 

یوکرین کے ڈرون حملوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جنگلاتی آگ بھڑک اٹھی جو روسی صدر کے شاندار ’’پیوٹن محل‘‘ سے چند میل کے فاصلے تک پہنچ گئی۔

روسی حکام کا کہنا ہے کہ فضائی فورسز نے یوکرینی ڈرونز کو مار گرایا جس کے ملبے سے یہ آگ لگی۔ تقریباً 100 فائر بریگیڈ اور ایمرجنسی ٹیمیں کئی گھنٹوں تک آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف رہیں۔

رپورٹ کے مطابق  آگ کا پھیلاؤ کیپ ایڈوکوپاس (Cape Idokopas) کے جنگلات میں ہوا، جو بحیرہ اسود کے ریزورٹ شہر جیلنجک کے قریب ہے۔

 حکام نے بتایا کہ شعلے پیوٹن کی 1,90,000 اسکوائر فٹ پر مشتمل رہائش گاہ سے تقریباً 6 میل کی مسافت تک پہنچ گئے، جبکہ آزاد روسی میڈیا آئی اسٹوریز (iStories) نے دعویٰ کیا کہ آگ محض دو میل کے فاصلے پر تھی۔

حادثے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم دھوئیں کے باعث 23 سیاح پھنس گئے جنہیں کشتی کے ذریعے نکالا گیا۔

خیال رہے کہ "پیوٹن پیلس"  جس کی قیمت تقریباً 1.5 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے، پہلی بار 2021 میں اپوزیشن رہنما الیگزی ناوالنی کی دستاویزی فلم کے ذریعے منظرِ عام پر آیا تھا۔ 

فوٹو: امریکی میڈیا
فوٹو: امریکی میڈیا 

رپورٹ کے مطابق اس میں کیسینو، تھیٹر، آئس ہاکی رِنک، شراب خانہ اور حتیٰ کہ ایک "ہوکا لاؤنج" بھی شامل تھا جو مبینہ طور پر اسٹریپ کلب کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔

تاہم حالیہ برسوں میں اس محل کی تزئین و آرائش کی گئی اور کیسینو و ڈانس ہال کی جگہ ایک گرجا گھر اور فوجی پینٹنگز لگائی گئی ہیں۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس رہائش گاہ کے اندر خفیہ زیرِ زمین بنکرز موجود ہیں جو کئی ہفتوں تک رہائش اور بقا کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید