24 نومبر کو لیجنڈری اداکار دھرمیندر چل بسے، میڈیا و سوشل میڈیا پر ان کے شاندار کیریئر کی یادیں تازہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے، وہیں ان کی نجی زندگی اور دو خاندانوں کے درمیان توازن قائم رکھنے کا انوکھا انداز بھی ایک بار پھر زیرِ بحث ہے۔
بلاک بسٹر کلاسک فلموں ’شعلے‘ اور ’دھرم ویر‘ کے ہیرو کی ذاتی زندگی اکثر موضوع بحث رہی ہے، دھرمیندر نے 1954ء میں پرکاش کور سے شادی کی تھی جن سے ان کے 4 بچے سنی دیول، بوبی دیول، وجیتا اور اجیتا ہیں۔
بعد ازاں 1980ء میں انہوں نے ہیما مالنی سے دوسری شادی کی اور ایشا اور آہانہ کے والد بنے، دوسری شادی کے باوجود دھرمیندر نے پرکاش کور کو کبھی طلاق نہیں دی اور دونوں گھروں کو اپنے طریقے سے سنبھالا۔
دھرمیندر کی پہلی فیملی اپنے پرانے خاندانی گھر میں مقیم رہی، جبکہ ہیما مالنی اور ان کی بیٹیاں وہاں کبھی نہیں گئیں، دونوں خاندانوں نے دہائیوں تک ایک باوقار فاصلہ برقرار رکھا، تاہم 2015ء میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے سالوں پرانی اس روایت کو توڑ دیا۔
2015ء میں دھرمیندر کے بڑے بھائی اور اداکار ابھے دیول کے والد اجیت دیول شدید بیمار ہو گئے، وہ دھرمیندر کے اسی پرانے گھر میں زیرِ علاج تھے جہاں پہلی فیملی رہتی تھی، ایشا اور آہانہ اپنے انکل اور ابھے دیول کے بے حد قریب تھیں۔
اپنی کتاب ’ہیما مالنی: بیونڈ دی ڈریم گرل‘ میں ایشا دیول نے اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں اپنے انکل سے ملنا اور ان کی عیادت کرنا چاہتی تھی، وہ مجھ سے اور آہانہ سے بہت پیار کرتے تھے، ہمارے پاس ان کے گھر جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ وہ اسپتال میں نہیں تھے، میں نے سنی بھیا کو فون کیا اور انہوں نے ملاقات کے مکمل انتظامات کر دیے۔
اس دورے کے نتیجے میں ایشا دیول کی اپنی سوتیلی ماں پرکاش کور سے تقریباً 30 سال بعد پہلی بار ملاقات ہوئی، کتاب میں انکشاف کرتے ہوئے ایشا نے لکھا ہے کہ میں نے ان کے پاؤں چھوئے اور انہوں نے مجھے رخصت کرنے سے پہلے دعائیں دیں۔
اگرچہ دھرمیندر نے دونوں خاندانوں کو الگ رکھا تھا، لیکن یہ لمحہ اس خاموش احترام کی عکاسی کرتا ہے جو خاندان میں موجود تھا۔
لیجنڈری اداکار کے انتقال کے بعد جمعرات کو دیول خاندان نے ایک دعائیہ تقریب منعقد کی، رپورٹس کے مطابق ہیما مالنی اور ان کی بیٹیاں اس تقریب میں شریک نہیں ہوئیں، اس کے بجائے انہوں نے اپنی ممبئی کی رہائش گاہ پر دعائیہ تقریب کا اہتمام کیا۔