• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزرا برس بہت ہنگامہ خیز سال تھا۔ دنیا بھر سے اس برس اچھی خبریں کم ہی آئیں۔ جنگیں، تنازعات، کشیدگی، سیاسی اور اقتصادی بے یقینی، بے چینی اور طرح طرح کے خوف اور خطرات سے پوری دنیا کے انسان زیادہ تر وقت لرزتے ہی رہے۔

بعض مواقعے پر تو یوں محسوس ہونے لگا تھا جیسے دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور بس ایک چنگاری سب کچھ جلاکر راکھ کر دے گی۔ گزشہ برس کے آغاز سے قبل ہی فلسطین میں اسرائیل کی وحشت ناک کارروائیاں جاری تھیں، غزہ کو اس نے ملبے کا ڈھیر بنا دیا تھا۔

اسپتال، مدارس، مساجد، بچے، عورتیں، بوڑھے، جوان، سب اس کی جنونیت کی زد میں تھے۔ لبنان ، شام اوریمن میں بھی اس کے فضائی حملے اورعسکری کارروائیاں جاری تھیں، لیکن کوئی اسے روکنے والا نہیں تھا۔ گزرا برس اس حوالے بھی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا کہ جدید دنیا میں اقوام متحدہ کے ہوتے ہوئے اسرائیلی جنونیت کو روکنے والا کوئی موثر عالمی اقدام نظر نہیں آیا۔ بس قراردادیں منظور ہوتی رہیں، مذمت کی جاتی رہی ، بڑے بڑے مظاہرے ہوتے اور بے گناہ فلسطینی شہید ہوتے رہے۔ مغربی حکومتیں تو اس ضمن میں بالکل ایک جانب کھڑی نظر آئیں۔

حتی کہ بیش ترمغربی ذرائع ابلاغ بھی زیادہ تریک طرفہ رپورٹنگ ہی کرتےہی محسوس ہوئے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس نے بھی ان مظالم کی حقیقی تصویر پیش کرنے کی راہ میں حتی المقدور روڑے اٹکائے۔ اسلامی ممالک توبس کم زوری کی تصویر ہی بنے رہے۔

تاریخ یہ سب کچھ کیسے بھلا سکتی ہے۔ دوسری جانب روس اور یوکرین بھی جنگ میں مصروف تھے۔ ایسے میں امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بیس جنوری کو دوبارہ امریکی صدرکی حیثیت سے حلف اٹھایا۔

اس برس اگرچہ عالمی سیاسی سطح پر بہت کچھ ہوا لیکن چند بڑے عالمی تنازعات سرفہرست رہے ۔ فلسطین میں اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیاں، ایران اور اسرائیل، روس اور یوکرین کے درمین جنگیں، پاکستان اور بھارت کے درمیان عسکری جھڑپیں اور افریقا میں کانگو اور روانڈا کشیدگی۔ فلسطین میں اسرائیل کی وحشت ناک فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ایک محتاط اندازے کے مطابق اڑسٹھ ہزار سے زائد افراد شہید اور ایک لاکھ ستّر ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔

ایران اور اسرائیل کےدرمیان بارہ روزہ جنگ میں ایک ہزار60ایرانی اور 29 اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے۔ پاک، افغان، ٹی ٹی پی تنازع میں بھی بڑا جانی نقصان ہوا۔ غیرملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق2025 میں عالمی سطح پر پانچ بڑے تنازعات نے انسانی جانوں اور سیاسی استحکام کو شدید متاثر کیا۔ 

ایران اور اسرائیل کے درمیان جون میں بارہ روزہ جنگ امریکی ثالثی کے بعد عارضی جنگ بندی پرختم ہوئی، جس میں ایران کے مطابق 1060اور اسرائیل کے مطابق 29افراد ہلاک ہوئے۔ افریقا میں کانگو، روانڈا کشیدگی میں M23مسلح گروپ کے حملوں کے بعد جھڑپیں جاری رہیں اور400سے زائد شہری ہلاک ہوئے۔ 

بھارت اور پاکستان کے درمیان مئی میں بھارتی حملوں کے بعد تین روزہ جھڑپیں ہوئیں، جس میں بارہ شہری ہلاک ہوئے اور دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے۔

یوکرین اور روس کے درمیان جنگ میں اموات کی تعداد کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے، لیکن اقوام متحدہ کے مطابق فروری 2022 سے نومبر 2025 تک 14534سے زائد شہری ہلاک ہوچکے تھے۔

دوسری جانب یوکرین کے صدر نے فروری 2024 میں اپنے اِکتّیس ہزار فوجیوں کی ہلاکت کا بتایا تھا۔ تاہم روسی فوجیوں کی ہلاکتوں کے بارے میں اعداد و شمار متضاد ہیں، جس میں بی بی سی کے مطابق2024 میں ستّائیس ہزار تین سوسے زائد روسی فوجی ہلاک ہوئے اور یہ کل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

لہو رنگ، سسکتا، تڑپتا فلسطین

اسرائیل نے اکتوبر 2023سے اکتوبر2025 تک فلسطینی عوام پر ہر طرح کے مظالم ڈھائے اور ظلم و وحشت کی نئی تاریخ رقم کی، لیکن کسی نے اس کا ہاتھ نہیں روکا۔ وہ امن معاہدے کے بعد بھی بے گناہ فلسطینیوں پر حیلوں بہانوں سے حملے کرکے انہیں شہید کرہا ہے۔

لیکن فلسطینیوں کو ان کے حقِ دفاع سے محروم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔لیکن خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔ چناں چہ اب ایسی خبریں سامنے آرہی ہیں کہ عالمی سطح پر اسرائیل کی ساکھ کو شدید دھچکا لگاہے۔ 

تازہ ترین نیشن برانڈز انڈیکس2025 کے مطابق اسرائیل دنیا کے بدترین امیج رکھنے والے ممالک میں شامل ہو گیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی ساکھ میں6.1فی صد کی تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو دو دہائیوں میں سب سے بڑی گراوٹ ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اب عالمی تنقید صرف اسرائیلی حکومت یا فوج تک محدود نہیں رہی، بلکہ اسرائیلی عوام کو بھی غزہ میں ہونے والے واقعات کا ذمے دار سمجھا جا رہا ہے۔ 

کئی ممالک میں اسرائیلی شہریوں کو ناپسندیدہ قرار دیاجا رہا ہے، جس سے عالمی سطح پراسرائیل کی تنہائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔نیشن برانڈز انڈیکس کے مطابق خاص طور پر جنریشن زی (18سے 24سال) اسرائیل کو ایک نوآبادیاتی، زہریلی اور لبرل اقدار سے متصادم ریاست کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نوجوان نسل کے رویّے نے اسرائیل کے عالمی امیج کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

غزہ میں قیامِ امن کے لیے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیس نکاتی امن منصوبہ پیش کیا تھا اور ساتھ ہی انہوں نے حماس کو دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے امن منصوبہ تسلیم نہ کیا تو پھر اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے تحت حماس کے مزاحمت کار مکمل طور پر غیر مسلح ہوں گے اور انہیں مستقبل کی حکومت میں کوئی کردار نہیں دیا جائے گا، البتہ جو ارکان پرامن بقائے باہمی پر راضی ہوں گے، انہیں عام معافی دی جائے گی۔

منصوبے کے مطابق اسرائیل تقریباً دو سال سے جاری جنگ کے بعد بہ تدریج غزہ سے نکلے گا۔ تاہم ٹرمپ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد جاری کردہ ایک وڈیو بیان میں نیتن یاہو نے کہا تھا کہ فوج غزہ کے بیش ترحصوں میں رہے گی اور واشنگٹن میں مذاکرات کے دوران انہوں نے فلسطینی ریاست کے قیام پر اتفاق نہیں کیا تھا۔

دوحہ کا حملہ اہم موڑ ثابت ہوا

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق دوحہ میں حماس کے مذاکرات کاروں پر اسرائیلی حملہ اسرائیل کے لیے بہت تباہ کن غلطی ثابت ہوا۔ کیوں کہ اس کی وجہ سے ایک جانب قیامِ امن کی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچا تو دوسری جانب اسلامی اور عرب ممالک کو نیا پیغام ملا تھا۔ اگر یہ حملہ نہ ہوتا تو شاید اسرائیل اتنی جلد امن معاہدے کے لیے تیار نہ ہوتا۔

اس حملے نے امریکا کو اپنی پالیسی واضح کرنے پر مجبور کیا اور اس نےقطر کو واضح سیکورٹی گارنٹیز دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ قطر کی سرزمین پر کسی بھی مسلح حملے کو واشنگٹن اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے گا اور اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ 

صدر ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈرکے مطابق امریکا قطر کی سلامتی اور علاقائی خود مختاری کے دفاع کے لیے سفارتی، اقتصادی اور ضرورت پڑنے پر فوجی اقدامات کرنے کا پابند ہوگا۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب9ستمبر کو اسرائیلی حملے میں حماس کے راہ نماؤں کو نشانہ بنایا گیا جو غزہ میں تصادم روکنے کے حوالے سے امریکی امن منصوبے پر بات کر رہے تھے۔ 

وائٹ ہاؤس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہونے قطر کے وزیر اعظم سے معذرت کی اور آئندہ ایسے حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ یاد رہے کہ قطر کو خلیج میں امریکا کا کلیدی اتحادی سمجھا جاتا ہے اور وہاں العدید فوجی اڈہ واقع ہے، جو خطے میں امریکی سینٹرل کمانڈ کا اہم مرکز ہے۔

پاکستان نے عالمی توجّہ حاصل کی

تاہم تمام تر مشکلات کے باوجود 2025پاکستان کے لیے کئی حوالوں سے غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا ۔ ہمارےلیے دفاعی اور سفارتی محاذ پر یہ سال بہت سود مند رہا۔

پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیت، پیشہ ورانہ مہارت اور اسٹریٹجک بصیرت کا بھرپور مظاہرہ کرکے نہ صرف اپنی خودمختاری کا کام یابی سے دفاع کیا، بلکہ عالمی سطح پر اپنی ساکھ کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ دوسری جانب بھارت کو دفاعی اور سفارتی محاذ پر نمایاں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا اور خطے میں طاقت کے توازن میں واضح تبدیلی محسوس کی گئی۔

مئی میں بھارت نے بلا اشتعال پاکستان کی شہری آبادیوں پر میزائل داغ کربے گناہ شہریوں کو شہید کیا تو پاکستان نے بھارت کو کرارا عسکری جواب دے کر دنیا بھر میں اس کی فوجی طاقت کا گھمنڈ خاک میں ملادیا۔ پاکستان کی جانب سے بھارت کے جدید ترین لڑاکا طیارے، رفال، گرانے، ایس چارسو، فضائی دفاعی نظام تباہ کرنے، سائبر اور ڈرون حملوں کے ذریعے اس کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے اور انہیں مفلوج کر دینے، بھارت کی جانب سے بلاجواز عسکری کارروائی کرنے کے باوجود اپنے اعصاب کو قابو میں رکھنے اور بہترین حکمتِ عملی اور نپے تُلے، لیکن دندان شکن جواب دینے سے دنیا بھر میں اس کی ساکھ بہت بہتر ہوئی اور دنیا کئی حوالوں سے اس کی بات سننے اور اس پر توجّہ دینے پر مجبور ہوگئی۔

دوسری جانب بھارت نے آپریشن سندور شروع کرکے اپنے ہی پاؤں پر ایسی زبردست کلہاڑی چلادی کہ اس سے لگنے والا زخم وہ آج تک چاٹ رہا ہے اور برسوں اس کے اثرات علاقائی اور عالمی سطح پر محسوس کیے جاتے رہیں گے۔بھارت صرف عالمی سطح ہی پر رسوا نہیں ہوا، بلکہ مودی سرکار اپنے دیس میں بھی بُری طرح ذلیل و رسوا ہوگئی۔

یہ ہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان کی جانب سے لگائے گئے گہرے زخم اپنوں اور غیروں سے چھپائے ہوئےہے۔ لیکن ساری دنیانے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی موثر جوابی کارروائی کے بارے میں تفصیل سے فراہم کردہ معلومات کی تصدیق کی ہے۔ امریکا کے صدر ٹرمپ نے بھی پاکستان کی فوجی طاقت کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے ہر بڑے پلیٹ فارم پر اعلانیہ تعریف کی ۔

امریکی جریدے ڈپلومیٹ نے اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا کہ2025میں پاکستان کئی برس بعد دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بن گیا۔ میگزین کے مطابق 2025 پاکستان کے لیے اسٹریٹجک میدان میں خود کو منوانے اور عسکری اعتماد کا سال ثابت ہوا۔

پاکستان کی عسکری قیادت نے ریاستی سطح پر انتہا پسندی کے خلاف واضح اور طاقتور پیغام دیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دو ٹوک موقف اختیار کیا کہ جہاد کے اعلان کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے۔ آرمی چیف کا یہ پیغام انتہا پسندی کے خلاف اہم سنگ میل قرار پایا۔

علاوہ ازیں، عسکری قیادت نے ریاستی مفادات کے بھرپور تحفظ کے لیے موثر حکمت عملی بھی اپنائی۔ رپورٹ میں کہا گیاکہ عسکری قیادت کے وژن نے ریاستی رٹ اور نظم و ضبط کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔

ٹرمپ: کہیں کام یاب، کہیں ناکام

امریکا کے صدر، ڈونلڈ ٹرمپ سال بھر مختلف حوالوں سے دنیا بھر میں خبروں میں رہے۔ کبھی انہوں نے ٹیرف کی جنگ چھیڑی، کبھی جنگیں اور تنازعات ختم کرانے میں کام یابی حاصل کی اور کبھی ایران کے خلاف سب سے بڑا بم استعمال کیا۔

انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان عسکری جھڑپیں رکوائیں، غزہ میں امن معاہدہ کرایا اور ایران اور اسرائیل کی جنگ میں بھی امریکی صدر کا کرداربہت اہم رہا۔ اس جنگ کے بعد پاکستان اور ایران کے درمیان قربتیں تیزی سے بڑھیں، کیوں کہ پاکستان نے کھل کر عالمی سطح پر سفارتی محاذ پر اپنے برادر ملک کی حمایت کی۔

صدر ٹرمپ کے دباؤ پر اسرائیل اور حماس کے درمیان امن معاہدہ ہوا جس سے اسرائیلی اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی ممکن ہوئی۔ اس دوران غزہ میں انسانی امداد کا سلسلہ بڑھا جہاں 70 ہزار کے قریب فلسطینی شہریوں کو اسرائیل نے شہید کیا،جن میں زیادہ تر بچے تھے۔

تاہم امن معاہدے کے بعد بھی اسرائیل نے غزہ پر فضائی حملےجاری رکھے اورخطے میں کشیدگی برقرار رہی۔ دوسری جانب ٹرمپ روس اور یوکرین کے درمیان تین برس سے جاری جنگ ختم کرانے میں ناکام رہے۔ روس کے2022میں حملے کے بعد سے یوکرین میں جاری جنگ کے خاتمے کےلیے امریکا کی کوششیں کام یاب نہیں ہو سکیں۔

صدر ٹرمپ نے مختلف مواقع پر یوکرین کے صدر زیلنسکی اور روسی صدر ولادی میر پوتن کے درمیان تعلقات میں توازن قائم کرنے کی کوشش کی، مگر مذاکرات ناکام رہےاور تادمِ تحریر یہ جنگ جاری ہے۔

دوسری جانب امریکا میں صدرٹرمپ کی مقبولیت گر کر 39فی صد تک پہنچ گئی، ملکی معیشت باعث تشویش قرار پائی، ریپبلکن ووٹرز نے معیشت کے بارے میں ٹرمپ کےاقدامات پر عدم اطمینان ظاہر کیا۔ 

منہگائی3 فی صد کےقریب برقرار رہی۔ برطانوی خبررساں ادارے کے ایک سروے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت حالیہ دنوں میں تقریباً اس سال کی نچلی سطح تک گر گئی ہے، جس کا سبب ریپبلکن ووٹرز میں معیشت کے انتظام پر عدم اطمینان ہے۔ امریکی بالغوں میں سے 39فی صدنے ٹرمپ کی مجموعی کارکردگی کی منظوری دی، جو گزشتہ سروےمیں41فی صد تھی۔ معیشت کے معاملے میں ان کی مقبولیت کم ہو کر 33 فی صد رہ گئی۔

افغانستان سے کشیدگی

افغانستان سے ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کی پاکستان میں داخل ہوکر دہشت گردی کی کارروائیاں کرکے واپس بھا گ جانےاور افغانستان کی حکومت کی اس جانب بارہا توجہ دلانے کے باوجود چشم پوشی نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ کردیے۔ 

اگرچہ پاکستان نے بارہا افغان حکومت کو اس بارے میں ٹھوس ثبوت بھی فراہم کیے، لیکن نہ تو اس نے دہشت گردوں کو افغانستان کی سرزمین استعمال کرنے سے روکا اور نہ مطلوب افراد کو پاکستان کے حوالے کیا۔ ترکی اور قطر کی کوششوں سے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے، لیکن افغانستان کی جانب سے واضح موقف سامنے نہ آنے اور ٹھوس یقین دہانیاں نہ کرائے جانے پر وہ ناکام رہے۔

افغانستان کے بارے میں پاکستان کی شکایات پر اب تو بیرونی دنیا بھی ہمارے موقف کی حمایت کرتی نظر آتی ہے۔ حال ہی میں امریکی جریدے ’’دی جیو پالیٹکس‘‘ کی جانب سے کہا گیا کہ ٹی ٹی پی افغانستان میں موجود امریکی ہتھیاروں سے پاکستان میں دہشت گردی کر رہی ہے۔

افغانستان سے انخلا کےبعد امریکی ہتھیار خطے کی سکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ بن گئے ہیں۔ امریکی جریدے نے انکشاف کیا کہ ٹی ٹی پی، فتنہ الخوارج، افغانستان میں موجود امریکی ہتھیاروں سے پاکستان میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور شہریوں پر حملےکر رہی ہے، جریدے کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی، فتنہ الخوارج نے خیبرپختون خوا میں دہشت گرد کارروائیاں اور پُر تشدد حملے کیے۔

جریدے کے مطابق افغانستان میں موجودجدید امریکی ہتھیاروں کی مالیت سات ارب ڈالرز سے زائد ہے۔ان میں ایم فوررائفلز، نائٹ ویژن سائٹس اور سازو سامان دہشت گردوں کی دست رس میں ہے۔

پاکستان اور عالمی تعلقات میں توازن کا امتحان 

پاکستان کے لیے گزرا برس بین الاقوامی تعلقات کے حوالےسے بہت اہم ہونے کے ساتھ پے چیدہ بھی تھا۔ ایک جانب چین کی دوستی تھی،دوسری جانب امریکا سے تعلقات کی بہتری کی کوششیں تھیں اور تیسری جانب مشکل اقتصادی حالات تھے۔ لیکن پاکستان اس ضمن میں توازن برقرار رکھنے میں کافی حد تک کام یاب نظر آیا۔ 

چناں چہ حال ہی میں امریکی اخبار واشنگٹن ٹائمز نے پاک امریکا تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 2025 پاک امریکا تعلقات میں انقلابی تبدیلی کا سال رہا۔ واشنگٹن ٹائمز نے اپنے تبصرے میں لکھا کہ رواں سال واشنگٹن کا ’’انڈیا فرسٹ‘‘ دور ختم ہوا اور پاکستان کو فوقیت حاصل رہی۔ 

امریکی اخبار کے مطابق امریکی پالیسی میں تبدیلی کی بنیاد مئی کی پاک بھارت جنگ بنی۔واشنگٹن ٹائمز کےمضمون میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تعلقات کا خصوصی تجزیہ بھی شامل کیا گی ۔

اخبار کے مطابق پاکستان ناپسندیدہ ریاست سے شراکت دار ملک بن گیا۔ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا کی پالیسی میں پاکستان کو مرکزی ستون قرار دیا گیا ہے۔ اخبار کے مطابق ابتدا میں بھارت کو کواڈ اور دیگر فورمز کے ذریعے بالادست بنانے کی سوچ تھی اور اسلام آباد کو سائیڈ لائن کرنے کی توقع کی جا رہی تھی۔

تاہم بھارت کے سیاسی حالات، شخصی آزادیوں پر پابندیاں،اتار چڑھاو کی شکار عسکری کارکردگی اور سفارتی سختی نے بھارت کو ریجنل اسٹیبلائزر کے طور پر مشکوک بنا دیا۔

اخبار کے مطابق مارچ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں پاکستان کی غیر متوقع تعریف کی، جس نے واشنگٹن میں پالیسی کا رُخ بدل دیا۔ اسلام آباد نے موقع فوراً کیش کرایا اور ہر محدود تعاون غیر متوقع کریڈٹ میں بدلتا گیا۔

واشنگٹن ٹائمز کے مطابق پاک امریکا تعلقات میں فیصلہ کن موڑ مئی کی مختصر، مگر شدید پاک بھارت جھڑپ بنی جس میں پاکستان کی فوجی کارکردگی نے ٹرمپ کو حیران کردیا۔

مزید بر آں گزشتہ برس اگست کے مہینے میں امریکا نے کالعدم بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو دہشت گرد گروپ قرار دے دیاتھا۔ امریکی محکمہ خارجہ کا کہناتھا کہ کالعدم بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کردیا گیا ہے۔اس سے بھارت کو بہت دھچکا لگا۔

اب اگر ہم یہ کہیں کہ امریکا کے ساتھ ہمارے تیکنیکی تعلقات ہیں اور چین کے ساتھ ہماری اسٹریٹجک دوستی ہےتو غلط نہ ہوگا۔چین نے ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکا اور یورپ کو پیچھے چھوڑ دیاہے۔ ہم1960کی دہائی کے آغاز میں اس وقت چین کے دوست بنے جب یہ بہت مشکل کام تھا۔

اس خطے میں بھارت، امریکا کا اتحادی اور چین مخالف ہے۔ یہ امریکا میں گزشتہ سال کے پالیسی پیپر میں واضح طورپر تحریر ہے۔اب پاکستان کے ایف16لڑاکا طیاروں کے بیڑے کے لیے 68 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز مالیت کے امریکی فوجی اپ گریڈ پیکج کو امریکی کانگریس کے قانونی نوٹیفکیشن کے تحت کلیئر کردیا گیا ہے۔ 

ایف 16لڑاکا طیارے بنانے والی امریکی ایرواسپیس اور دفاعی کمپنی، لاک ہیڈ مارٹن کو مجوّزہ فروخت کے لیے مرکزی کنٹریکٹر نام زد کیا گیا ہے جو طویل عرصے سے عالمی صارفین کے لیے ان طیاروں کے ڈیزائن، اپ گریڈ اور دیکھ بھال کے پروگرامز کی ذمے دار رہی ہے ۔ یہ فروخت آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ اور سالانہ مالی قوانین کے تحت فراہم کردہ موجودہ اختیارات کے تحت عمل میں لائی گئی۔

طاقت کا بدلتا توازن

مئی 2025کی پاک بھارت عسکری جھڑپوں کے بعد سے دنیا بھر اور بالخصوص ہمارے خِطّے میں بہت کچھ بہت تیزی سے تبدیل ہوا۔اب بہت سے ماہرین ِ عالمی سیاست واضح لفظوں میں یہ کہہ رہے ہیں کہ مغرب سے مشرق کی طرف عالمی طاقت کی منتقلی واضح ہے، یہاں تک کہ صدر ٹرمپ کی قومی سلامتی کی حکمت عملی نے بھی اس نئی حقیقت کو تسلیم کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یوریشیا اب عروج پذیر گلوبل ساؤتھ کا مرکزِ ثقل ہے۔

ادہر امریکا-پاکستان دفاعی تعلقات نے بھارت میں تشویش بڑھا دی ہے۔ایف سولہ اور ریکوڈک منصوبے بھارت کی تشویش کی وجہ بن گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی پاک فوج کے سربراہ سے ملاقات نے بھارت کی فکرمندی بڑھائی۔امریکا کی یقین دہانی کے باوجود بھارت میں خوف اور الجھن برقرار ہے۔ 

چین اور امریکا کے مشترکہ مفادات نے بھارت کی بالادستی محدود کی۔ امریکا اور پاکستان کے بڑھتے دفاعی اور معدنی تعاون نے بھارت میں تشویش پیدا کر دی ہے اور نئی دہلی اس پیش رفت کو خطے میں عسکری اور تجارتی توازن پر اثر ڈالنے والا ایک اہم مسئلہ سمجھ رہا ہے۔ 

امریکا کے ایف سولہ اپ گریڈیشن اور بلوچستان کے ریکوڈک منصوبے میں شمولیت کے فیصلے کے بعد بھارت کی تشویش نمایاں ہو گئی ہے۔ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے پاکستان کے ایف سولہ جنگی طیاروں کی اپ گریڈیشن اور اہم معدنی منصوبوں میں امریکی سرمایہ کاری کی منظوری کو نئی دہلی میں ایک مضطرب کردینے والی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حالاں کہ امریکا مسلسل بھارت کو یقین دہانی کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس سے خطے میں طاقت کا توازن متاثر نہیں ہوگا۔ اب بھارت کے قریب واقع، بنگلادیش میں بھی ہواوں کے رخ بدلے ہوئے محسوس ہورہے ہیں۔

وہاں بھارت نواز آوازیں حسینہ واجد کی حکومت سے بے دخلی کے بعد سے بہت کم زور ہوچکی ہیں اور حال ہی میں وہاں ایک طالب علم راہ نما کے قتل کے خلاف بھارت سے جس نفرت کا اظہار کیا گیا ہے اور جس طرح جنرل ضیا الرحمن اور بیگم خالدہ ضیا کے صاحب زادے کا سترہ برس بعد ڈھاکا پہنچنے پر شان دار استقبال ہوا ہے، اس نے بھارت کو بہت تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔اس کے ساتھ ہی بنگلادیش سے پاکستان کے تیزی سے بہتر ہوتے ہوئے تعلقات نے بھی نئی دہلی میں خطرے کی گھنٹیاں بجا رکھی ہیں۔

گزرے برس شام، لبنان، یمن، تھائی لینڈ، کمبوڈیا، وغیرہ میں بھی بہت کچھ ہوا۔کہیں جنگ ہوئی، کہیں تختہ الٹا،کہیں مسلح تنازعات نے خبریں بنائیں۔ لیکن پوری دنیا سے اچھی خبریں کم ہی آئیں۔

عالمی منظر نامہ سے مزید