خلیج فارس اور آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کی شہہ رگ ہیں۔ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلافجنگ کا ایک نہایت اہم پہلو عالمی معیشت سے جڑا ہوا ہے ایران نے اس گزرگاہ کو بند کردیا ہے جس نے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کردی ہے۔ اگر یہ راستہ مستقل طور پر متاثر ہوتا ہے تو تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی تجارت میں سست روی اور مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔ یورپ اور ایشیا کی توانائی کی ضروریات بڑی حد تک اسی خطے سے وابستہ ہیں اس لیے اس بحران کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔
ایران کے پاس تیل اور تیل کی ترسیل کے لئے آبنائے ہرمز ہے۔ ایران اور عمان کے درمیان سمندر اتنا تنگ ہو جاتا ہے کہ اس کی چوڑائی صرف 21میل رہ جاتی ہے۔ اور گہرائی بھی بہت کم۔ اس لئے صرف 2میل کی پٹی جہازوں کے لئے مختص کردی گئی ہے جہاں سے وہ گزر سکتے ہیں۔
یہ تیل کے جہاز بھی ہیں، قطر کی ایل این جی لے جانے والے بھی اور خلیجی ممالک کو غذائی اشیاء اور الیکٹرانک سامان لے جانے والے بھی۔ ہر روز تیس سے چالیس جہاز یہاں سے گزرتے ہیں۔ اب عملی طور پر یہ تجارتی راستہ بند ہے۔ جہازوں کو ایسی دھمکیاں مل رہی ہیں کے وہ اس تگنائے آب میں داخل نہیں ہو رہے اور سینکڑوں جہاز کھلے سمندر میں کھڑے ہیں کہ تنازعہ دبے اور خدشات دور ہوں تووہ اپنا سفر جاری کریں۔
امریکہ اور اسرائیل کی چھیڑی ہوئی اس جنگ کا پہلا نتیجہ تو تیل کی سپلائی میں کمی ہے اور قیمتوں میں اضافہ۔ جو تیل 60سے 70ڈالر کے درمیان تھا وہ اب 10ڈالر اضافے کے ساتھ بک رہا ہے اور عجب نہیں کے 100ڈالر کو جا پہنچے۔ دوسری طرف وہ جہاز جو خلیجی ممالک میں خوراک، ادویات یا استعمال کی اشیاء لے جا رہے تھے، پھنسے ہوئے ہیں۔ جلد یا بدیر اس قلت کے آثار نظر آنے لگیں گے اور ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔
صدر ٹرمپ ایران کو ایک سبق سکھا چکے تھے۔ پچھلے سال کی 12دن کی جنگ کی صورت میں، مگر ابھی ان کے تیور کچھ اور تھے۔ پندرہ دن سے مذاکرات ہو رہے تھے اور لگتا تھا کے معاہدہ ہو جائے گا لیکن دوسری طرف امریکی بحری بیڑے ہر سمت سے ایران کی طرف بڑھ رہے تھے اور پھروہی ہوایعنی معاہدہ ہوتے ہوتے رہ گیا اور ایران پر حملہ ہوگیا۔ ایران پر یہ پہلے بھی بیت چکی تھی۔
1951ء میں جب ڈاکٹر مصدق وزیر اعظم منتخب ہوئے تو انہوں نے تیل کو قومی ملکیت میں لے لیا۔ تیل کی پیداوار اور ریفائنری پر اینگلوپرشین آئل کمپنی کی اجارہ داری تھی۔ برطانیہ بلبلا اُٹھا اور کمیونزم کا ہوا دکھا کر امریکہ کو راضی کر لیا کہ وہ مصدق کو راستے سے ہٹا دے۔ وہ جیل بھجوا دئیے گئے اور تمام اختیارات رضا شاہ پہلوی نے اپنے ہاتھ میں لے لئے۔
کرہ ارض پر سات براعظم ہیں مگر سمندر صرف تین ہیں، بحرالکاہل، بحر اوقیانوس ، بحر ہند اور یہ تینوں جُڑے ہوئے اور ان میں جہاز رانی ممکن ہے ۔ کہیں کہیں سمندر کا پانی براعظم کے اندر دور تک داخل ہو جا آتا ہے اور ایک خلیج بن جاتی ہے جو خشکی کو دو حصوں میں بانٹ دیتا ہے ۔ اس خلیج کا جو حصہ جہاز رانی کے لئے بہت تنگ ہوتا ہے اسے آبنائے کا نام دیتے ہیں۔
آبنائے ہزمزایک قدیم تجارتی راستہ ہے ۔ظہیرالدین بابر اپنی تزک میں اس کا ذکر کرتا ہے کہ فرغانہ کے بادام کی تجارت کے لئے ہمیں آبنائے ہرمز تک پہنچنا پڑتا تھا ۔ ایران عراق جنگ دس برس جاری رہی تھی اُس وقت بھی آبنائے ہرمز سب کی توجہ کا مرکز تھا۔ ایک دفعہ تو ایرانیوں نے پوری تیاری کر لی تھی کہ یہاں بارودی سرنگیں بچھا دی جائیں، مگر اس سے ہر طرح کی تجارتی سرگرمی بند ہو جاتیں تو پھر یہ ارادہ ترک کر دیا گیا۔ لیکن آج کے حالات میں ایسی کاروائی کسی تعجب کا باعث نہ ہوگی۔
ایران پر حملہ فی زمانہ جو چالیں چلی جا رہی ہیں اس سے علیحدہ نہیں۔ سب سے پہلے تو اسے وینزویلا کے ساتھ ہونے والی کاروائی سے ملا کر دیکھیں ۔وینزویلا میں تیل کا ذخیرہ سعودیہ عرب سے بھی بڑا ہے ۔ لیکن یہ تیل بھاری ہے اس کو ریفائن کرنے میں اخراجات بہت بڑھ جاتے ہیں اور ماحول کو بھی کثافت سے بھر دیتا ہے۔
امریکہ کو اس تیل کی کوئی خاص ضرورت نہ تھی۔ وہ خود تیل کی پیداوار میں سب سے آگے ہے اور سعودیہ کا تیل اس کی دسترس میں ہے۔ وینزویلا کے صدرکا اغواء اور وہاں کی سیاست میں داخل ہونے کا اصل مقصد تیل پر اپنا کنڑول رکھنے کے سوا اور کیا ہوا ؟
یہی معاملہ ایران کے ساتھ ہے۔ ان دونوں ممالک پر تیل کی فروخت پر پہلے ہی پابندیاں لگی ہوئی تھیں اور یہ دونوں تیل کی خفیہ فروخت کرتے تھے ۔ مارکیٹ قیمت سے 10ڈالر کم پر مگر ایران ایک اور کام میں لگا ہوا تھا اور وہ تھا ایٹمی صلاحیت کا حصول جو اسرائیل کے لئے خطرے کا باعث تھا تو امریکہ کی تیل پر کنٹرول کی خواہش اور اسرائیل کا ایرانی ایٹمی صلاحیت کو روکنا دونوں کے مقاصد مل گئے اور حملہ ہو گیا۔ اس حملے کا دوسرا فائدہ آبنائے ہرمز کی تجارتی راستے پر بھی بالا دستی حاصل کرنا تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ اسوقت امریکہ کو تیل کے وسائل پر کنٹرول کی ضرورت کیوں پڑی؟ عرب ممالک کے تیل پر تو اسکی اجارہ داری ہے ہی ۔ سعودی عرب کا تیل ہو یا عراق اور کویت کا سب اسکے زیر نگیں ہیں۔ شام اور لیبیا تباہ حال ہیں اور جیسے تیسے اپنا تیل بیچ رہے ہیں البتہ روس اپنا تیل جس کو چاہے بیچے اُسے امریکی خوشنودی نہیں چاہئے لیکن اس کا انتظام چار سال پہلے ہی ہو چکا تھا جب اس نے یوکرائن پر حملہ کیا اور خیال تھا کہ چند ہفتوں کی بات ہے کہ یوکرائن گھٹنے ٹیک دے گا۔
لیکن دیکھتے ہی دیکھتے اس کے پیچھے سارے یورپی ممالک ، برطانیہ، کینیڈا اور امریکہ کھڑے ہو گئے اور اس کی مالی امداد، اسلحے کی امداد ،مہا جرین کی آبادکاری ، سب کچھ اس طرح ہوا کہ یوکرئن خود تو جانی مالی نقصان اُٹھا رہا ہے، مگر روس کو مسلسل الجھائے ہوئے ہے اور اسے کمزور کر رہا ہے۔
جنگی اخراجات پورے کرنے کے لئے روس بھی اپنا تیل کم داموں میں بیچنے کو تیار ہے اس کا بڑا خریدار بھارت ہے اور یہی ٹرمپ کی ناراضگی کا سبب ہے۔ بھارت پر بھاری ٹیکس یا ٹیرف لگا کر وہ اسے مجبور کر رہا ہے کہ وہ روس سے تیل نہ خریدے گویا روسی تیل پر بھی بالواسطہ امریکی کنڑول قائم ہو گیا۔
اب آئیے انڈونیشیا کے تیل پر۔ ٹرمپ نے بورڈ آف پیس بنایا جسے آپ اس کی ذاتی اقوام متحدہ کہہ سکتے ہیں۔ اس میں یورپی ممالک نے تو معذرت کر لی۔ وہ تو خود ٹرمپ سے اُکھڑے ہوئے ہیں جو گرین لینڈ کا سودا کرنے پر تُلا ہوا ہے۔ لیکن اس میں ایشیائی ممالک شامل ہو گئے ۔ امریکہ کی خوشنودی کے لئے وہ شامل تو ہو گئے مگر فوجیں بھیجنے میں بڑی ہچکچاہٹ ہے۔
کیونکہ آخر مقصد حماس کو غیر مسلح کرنا ہے ۔مگر ایک ملک جس نے آگے بڑھ کر آٹھ ہزار فوجی بھیجنے کا وعدہ کر لیا وہ انڈونیشیا ہے۔ اسے ایسا کرنا پڑا کیونکہ وہ اپنا تیل ان ملکوں کو بیچتا ہے جسے امریکہ آگے بڑھتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا تو گویا انڈونیشیا بھی اپنے تیل کے سودو ں میں خود مختار نہیں۔ اسے امریکہ کی رضا مندی درکار ہے جسے حاصل کرنے کے لئے وہ بورڈ آف پیس کا رکن بھی ہو گیا اور آٹھ ہزار فوجی بھیجنے کا پابند بھی۔
کیا امریکہ کے سب سے بڑے دشمن وینزویلا اور ایران ہیں جن کے سربراہوں کو ٹھکانے لگانا ضروری تھا۔ مذاکرات کا ڈھونگ ایک طرف مگر جونہی نشاندہی ملی وہاں ایرانی صدارتی محل پر ایک دو نہیں تیس بم گرا دیئے۔ کوئی بھول چوک نا ہو یہاں بھی ایران کے سربراہ کو بمعہ اہلیہ ختم کر کے دم لیا۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ امریکہ کو یکایک پوری دنیا کے تیل پر کنٹرول کرنے کی ضرورت کیوں پڑ گئی۔ ٹرمپ، جس نعرے پر آئے، وہ ہے میک امریکہ گریٹ اگین۔ امریکہ سو سال گریٹ ہے لیکن اسوقت اسے خدشہ ہے کہ مستقبل قریب میں کوئی اور گریٹ نہ ہو جائے اور یہ خدشہ اسے چین سے ہے ۔ جس تیز رفتاری سے چین نے اپنی معیشت کو مضبوط کیا ہے کہ وہ امریکہ سے زیادہ امریکی ڈالر کا مالک بن بیٹھا ہے۔
ٹیکنالوجی میں وہ آگے نکل رہا ہے، اے آئی میں اس کا ہر قدم امریکہ سے بڑھ کر ہے۔ سب جانتے ہیں کہ اے آئی ایک خطر ناک کھیل ہے۔ اس کو پروان چڑھانے والے کینیڈین سائنسدان جیوفری ہنٹن نے ایک ہاتھ سے نوبل پرائز وصول کیا اور دوسرے ہاتھ سے گوگل سے استعفیٰ دے دیا کہ میں اپنی ساری ایجادات سے براءت کا اظہار کرتا ہوں اور دنیا کو وارننگ دے رہا ہوں کہ اس کو یہیں پر روک دے۔
امریکہ میں ایسی بہت سی آوازیں ہیں جو اے آئی کے حق میں نہیں ہیں ۔ لیکن چین خود مختار ملک ہے وہ اپنی پالیسیوں کے تحت Aiکو ترقی دے رہا ہے اور دنیا دانتوں میں انگلیاں دبائے بیٹھی ہے۔ امریکہ کو اس کو فکر ہے کہ اگر Aiپر کچھ اخلاقی پابندیاں امریکہ میں ہوں تو چین کو بھی آگے بڑھنے نہ دیا جائے ۔ مگر کیسے ؟
دوسری چیز آج کے صنعتی اور ٹیکنالوجیکل دور میں ریر ارتھ منرلز REEہیں۔ کچھ عرصہ پہلے انہیں کوئی نہیں پوچھتا تھا لیکن یہ سترہ دھاتیں ایسی برقی مقناطیسی خصوصیات رکھتی ہیں کہ ان کے بغیر الیکڑونکس، ایرواسپیس، میڈیکل آلات اور کمپیوٹر ممکن ہی نہیں۔ ان کی ڈیمانڈ بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ دھاتیں صرف دس ملکوں میں پائی جاتی ہیں اور سب سے بڑا ذخیرہ چین کے پاس ہے ۔اور یہ دھاتیں جہاں کہیں بھی ہیں ان کی مائننگ اور ریفائننگ ایک مشکل اور طویل المدتی عمل ہے۔
چین اس سارے عمل سے گزر چکا ہے اور اس ٹیکنالوجی پر حاوی ہو چکا ہے۔ REEمعدنیات گرین لینڈ اور کینیڈا میں بھی ہیں اور ٹرمپ کی نظر ان دونوں ملکوں پر بھی ہے۔ کینیڈا پڑوسی بھی ہے اور دیرینہ دوست بھی ۔ امریکہ اور کینیڈا کا بارڈردنیا کا سب سے طویل بارڈر ہے جہاں کوئی خاردار تار نہیں۔ لیکن ٹرمپ اس سے بھی چھیڑ چھاڑ سے باز نہیں آتا۔
کینیڈا نے اس معاملہ کو سنجیدہ لیا ہے اور ڈیفنس بجٹ دوگنا کر دیا ہے۔ اور ڈیووس میں اس کے وزیراعظم نے تاریخی تقریر کی جس میں اس نے صراحت سے بتایا کہ طاقت کے نشے میں چور ملکوں سے کمزوروں کو کس طرح محتاط اور ہمہ وقت تیار رہنے کی ضرورت ہے ورنہ کوئی اخلاقیات یا کوئی بین الاقوامی قانون انہیں نہ بچا سکے گا۔
امریکہ ہر ملک سے جب چاہے جنگ کا بہانہ ڈھونڈ لیتا ہے۔ ویتنام کی جنگ اس لئے تھی کہ وہاں کمیونزم طاقت نہ پکڑے ۔ کوریا میں بھی وہ اسی لئے کودا۔ عراق میں بہانہ تھا کہ صدام کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں۔ حملہ ہوا، کچھ نہیں نکلا۔ لیکن ملک برباد ہو گیا دس سال بعد ٹونی بلیئر صاحب نے معافی مانگی کہ ہم سے غلطی ہوئی۔
شام کی خانہ جنگی میں بشارالاسد کی صدارت کا بہانہ بنا کر داخل ہوا اور اُس داعش کی مدد کی جس سے عراق میں وہ نبرد آزما تھا۔ وینزویلا کے لئے تو کسی بہانے کی بھی ضرورت نہیں پڑی کوئی سا بھی الزام لگا کر اپنے بندے بھیجے اور صدارتی محل سے اُٹھوا لیا۔ ان تمام ملکوں کے مقابلے میں چین کے ساتھ جنگ چھیڑنا آسان نہیں۔
تائیوان بہانہ ہو سکتا ہے مگر چین کی متعین پالیسی یہ ہے کہ اپنی سرحد کے باہر نہ نکلا جائے اور مسائل کو حکمت سے حل کیا جائے۔ امریکہ کو اصل چیلنج چین سے ہے جو صنعتی پیداوار میں ، برآمدات کی معیشت میں، ایشیاء اور افریقہ کے ملکوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے میں اور ٹیکنالوجی کی نت نئی ایجادات میں غرض، ہر شعبے میں آگے نکل چکا ہے یا اس جدو جہد میں ہے۔
امریکہ نے سوویت یونین سے کم و بیش چالیس برس سرد جنگ لڑی۔ براہ راست جنگ کیوبا کے میزائل کے معاملے میں ہوتے ہوتے رہ گئی ۔ چالیس سالہ سرد جنگ نے سوویت یونین کو کھوکھلا کر دیا اور خراب معیشت کے بوجھ تلے دب کر بکھر گیا۔ اگر صدر ٹرمپ کی دوسری صدارت کے تمام ایکشن دیکھیں تو واضح ہو جائے گا کہ ان کا ہدف چین کے گرد گھیرا تنگ کرنا ہے اور سوویت یونین والے تجربے کو دہرانا ہے ۔ چین کی دکھتی رگ پیٹرولیم کی کمی ہے۔
اس کے پاس تیل اور گیس کی پیداوار صرف اتنی ہے کہ وہ اپنی ضرورت کا چوتھائی پورا کر سکتا ہے ۔ 75%تیل اسے اوپن مارکیٹ سے خریدنا پڑتا ہے ۔ وہ یہ تیل روس، برازیل، انڈونیشیا، وینزویلا اور ایران سے آتا ہے ۔ صنعتیں تیل سے چلتی ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ معیشت کا پہیہ ہی تیل سے چلتا ہے اورAi کو جو توانائی چاہیے اس کے لئے بھی تیل درکار ہے ۔ روزانہ کی بنیاد پر چین ان پانچ ممالک سے ایک کروڑ بیرل تیل خریدتا ہے ۔ اگر امریکہ ان ممالک کو اپنے زیر نگیں کر لے اور تیل کی سپلائی روک دے تو پھر چین سے کسی جنگ کی ضرورت نہیں ۔
وینزویلا کا صدر امریکہ کی جیل میں ہے اور وینزویلا کے دارالحکومت میں موجود نائب صدر کو ہدایات دے کر امریکی عملاً حکومت کر رہے ہیں۔ ایران میں اگر امریکی اور اسرائیلی حملے جا ری رہے، تیل کے کنویں تباہ ہوتے رہے، آبنائے ہرمز تجارتی راستہ بند رہا تو چین کو تیل کی سپلائی تقریباً کٹ جائے گی۔
دو ملکوں ایران اور وینزویلا سے جانے والے تیل پر تو امریکہ کی اجارہ داری ہو گئی۔ انڈونیشیا امریکی بورڈ آف پیس میں شامل ہو گیا ہے اور اپنے فوجی دستے بھی ٹرمپ کے حکم پر حماس کو غیر مسلح کرنے کے لئے بھیج رہا ہے۔ تو سمجھ لیجئے کے انڈونیشیا سے بھی تیل کی ترسیل مخدوش ہو گئی۔
روس خود حالت جنگ میں ہے ،تیل بیچنا اس کے لئے اشد ضروری ہے تو چین کو وہاں سے تیل ملتا رہے گا لیکن اس سے بڑھ کرکوئی مدد اسے نہیں ملے گی ۔ اب رہ گیا برازیل تو ٹرمپ کوئی نہ کوئی بہانہ نکال کر اس کا بھی حساب کر دینگے۔
یہ ہے وہ گرانڈ اسٹریٹجی جو امریکی کرتا دھرتاؤں نے تیار کی ہے۔ لیکن ہاتھیوں کی لڑائی میں گھاس کچل جاتی ہے ، ایران اور وینزویلا تو براہ راست پس گئے۔ لیکن پورے مشرقی وسطیٰ پر نظر ڈالیے تو کہاں کہاں بم دھماکے ہوئے اور میزائل کے نشانے لگے ۔ ہوائی سفر بند اور ایئر پورٹ سنسان ہو چکے ہیں۔
تیل کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ تجارت ٹھپ اور اشیائے ضرورت کی قلت ہے۔ جنگ طول کھینچتی ہے تو عرب ممالک میں کام کرنے والے لاکھوں جنوبی ایشیائی افراد کی ملک واپسی کا اندیشہ ہے۔ کچھ حفاظتی نقطہ نظر سے کچھ قلت اشیاء کے باعث اور جب کاروبار زندگی ہی ٹھپ ہونے لگے تو مزدور یاں اور نوکریاں بھی داؤں پر لگ جائیں گی ۔
جتنا نقصان ہو چکا دنیا کو اسی سے سنبھلنے میں وقت لگے گا۔ لیکن ابھی کتنی تباہی اور ہونا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے مگر یہ یقینی ہے کہ، جنگ شروع ہوتی ہے ایک چھوٹے ہدف کے لئے لیکن پھر وہ کہاں کہاں پھیلے گی کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں ہوتا۔
دو سال پہلے آٹھ اکتوبر کو جب حماس نے اسرائیل میں گھس کر کاروائی کی تھی تو کسی نے سوچا تھا کے یہ آگ پورے مشرق وسطیٰ کو جلانے لگے گی۔ اور تباہی کا یہ راستہ صرف مشرق وسطیٰ تک ہی رہے گا یا اور بھی کچھ لپیٹ میں آئے گا۔ دو عظیم جنگوں کے خاتمے کے بعد نوع انسانی کو کچھ عقل آئی تھی اور 75برس کسی بڑے ٹکراؤ سے ہم بچتے رہے لیکن ہم پھر اسی مقام پر آگئے ہیں۔ امن کی خواہش کافی نہیں ہوتی اس کے لئے جدو جہد درکار ہوتی ہے۔
فوجی بوٹس لبنان میں داخل ہوچکے اور ایران کو دھمکی مل چکی کہ کب امریکی اس کی سرزمین پر دھمک آئیں ۔ یہ دوسری جنگ عظیم کا منظر نامہ ہے جب پولینڈ، چیکوسلواکیہ، آسٹریا، ہالینڈ اور فرانس پر ہٹلر کا مکمل قبضہ ہو چکا تھا اور باقی یورپ دہشت زدہ تھا۔ برطانیہ پر بم باری ایسی ہوتی تھی کہ اب گیاکہ تب گیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس جنگ کا اختتام کیسے ہوگا۔
ایران کا جواب کیا ہے ؟ ایران کے پاس آبنائے ہرمز اور تیل ہے۔ تیل کی قلت ہر ملک کے نظام کو متاثر کرے گی اور تجارتی راستے بند ہونے سے زندگیاں دشوار ہونے لگیں گی اور اس صورت میں عوامی دباؤ جنگ کی دیوانگی پر غالب آسکتی ہے اور جنگ بندی کی باتیں شروع ہو سکتی ہیں۔
دوسری صورت یہ ہے کہ جنگ ان طاقتوں کو لپیٹ میں لے لے جو امریکی فوجی بالا دستی کو زک پہنچا سکتی ہیں۔ لیکن یہ زیادہ بھیانک صورت حال ہو گی اور نوبت یہاں تک نہ پہنچے تو اسی میں خیر ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ ٹرمپ صاحب کو اطمنان ہو جائے کہ وہ جو چاہتے تھے انہیں حاصل ہوگیا۔
خیال رہے کےصدر ٹرمپ ایک بزنس مین ہیں، وہ سیاست میں بھی سودا کرتے ہیں اور ہر دوسرے دن اپنا بیان بدل دیتے ہیں اسے بھاؤ تاؤ کرنا، دام گرانا یا انگریزی میں Haglingکہتے ہیں۔ گرین لینڈ اور کینیڈا میں انہوں نے دام پوچھے مگر سودا بنتا نہ دیکھ کرچھوڑ دیا، وینزویلا کی گردن ایک ہی دفعہ میں انکے پنجے میں آگئی اور کسی نے نہ پوچھا کہ کس قانون کے تحت؟
ایران پر وہ چند مہینے پہلے ایک حملہ کر کے بیٹھ گئے تھے لیکن اب پوری تیاری اور قوت کے ساتھ معاملہ کرنے آئے ہیں۔ انہیں ایرانی عوام کے بنیادی حقوق سے کوئی مطلب ہے نہ ہی رجیم چینج ان کے لئے کوئی معنی رکھتا ہے۔ رہا جوہری توانائی کی فکرتو وہ اسرائیل کو ہے، ٹرمپ کو نہیں، انہیں ایران کے تیل پر کنڑول چاہیے اور جس شکل میں بھی انہیں حاصل ہوگیا، اسی دن وہ جنگ بند کر دیں گے۔