• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلحہ لائسنس تصدیق، پولیس حکام سے جواب طلب

پشاور(نیوز رپورٹر) پشاورہائیکورٹ کے جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس خورشید اقبال پر مشتمل بنچ نے کمپیوٹرائزڈ اسلحہ لائسنس ویری فیکیشن فارم میں بری ہونے والے ملزمان کے سابقہ ایف آئی آرکا ذکر کرنے کےخلاف دائررٹ پٹیشن پرپولیس حکام سے جواب طلب کرلیا ۔پشاور ہائیکورٹ کے دورکنی بنچ نے شکیل خان کنڈی ایڈوکیٹ کی رٹ پرسماعت کی جس میں آئی جی پولیس خیبر پختونخواسمیت دیگر کو فریق بایاگیا ہے ۔رٹ میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جب کسی کیس سے بری ہونے والا شہری اسلحہ لائسنس کیلئے آن لائن ایپلائی کرتاہے تو متعلقہ تھانہ اس کے کمپیوٹرائزڈ اسلحہ لائسنس پولیس ویریفیکشن فارم میں سابقہ یا پرانی ایف آئی آرکا اندراج بھی کرتا ہے جوکہ آئین وقانون کے خلاف ہے کیونکہ اس سے شہریوں کو مختلف رکاوٹوں اور تضحیک کا سامنا کر ناپڑتا ہے لہذافریقین کو اس بات سے روکا جائے کہ وہ بری ہونے والے ملزمان کے پولیس ویری فیکیشن فارم میں سابقہ ریکارڈ کا ذکر نہ کرے ۔عدالت نے متعلقہ حکام سے جواب طلب کرلیا۔
پشاور سے مزید