پشاور(نیوز رپورٹر)پشاور کے علاقے متنی اضاخیل میں تقریبا ڈھائی سال قبل آرمی کیمپ پر حملے کرنے والے مبینہ دہشت گرد کو گرفتار کرلیا گیا ، ملزم کو آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا جسے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کردیا گیا اور عدالت نے ملزم سے مزید تفتیش کیلئے اسے 4روزہ جسمانی ریمانڈ پر سی ٹی ڈی پولیس کے حوالے کردیا ہے ۔ دوران سماعت سی ٹی ڈی کے تفتیشی آفیسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم عبد الحمیدپر الزام ہے کہ اس نے دیگر ساتھیوں کے ساتھ ملکر 14 اگست 2023 کو اضاخیل متنی میں خوشحال ڈیم کے قریب قائم آرمی کیمپ پر ہلکے و بھاری ہتھیاروں سے حملہ کردیا تھا تاہم کیمپ میں موجود جوانوں نے جوابی کارروائی کے دوران دہشت گردوں کا حملہ پسپا کردیا تھا اورحملے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہواجبکہ نامعلوم حملہ آور موقع سے فرارہوگئے تھے۔ سی ٹی ڈی پشاور پولیس نے دہشت گردوں کے خلاف 7اے ٹی اے11اے ٹی اے، سیکورٹی فورسز پر حملے سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کی ۔تفتیشی آفیسر نے بتایاکہ ملزم عبدالحمید کی گرفتاری ایک آپریشن کے دوران عمل میں لائی گئی ہے جو شیرکیرہ متنی کا رہائشی تھا اور اتنے عرصہ تک روپوش رہا۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی ملزم کو 30روزکے جسمانی ریمانڈ پر حوالے کیا جائے تاہم عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر ملزم کی 4روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلی جس کے بعد ملزم سے تفتیش شروع کردی گئی ہے ۔