انصار عباسی
اسلام آباد … پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی نئی تشکیل دی گئی سیاسی کمیٹی داخلی تضادات کا میدان بن گئی ہے، جس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ پارٹی کے اہم رہنما اپنے سابقہ جارحانہ موقف سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، اور ساتھ ہی توقع رکھتے ہیں کہ اُن کے سیاسی لحاظ سے پر خطر بیانیے کا پرچار دوسرے لوگ اُن کی طرف سے کریں گے۔ اس ابھرتے اختلاف کا مرکز خیبر پختونخوا کے وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی ہیں، جو پارٹی ذرائع کے مطابق اب اس اسٹیبلشمنٹ مخالف موقف کو عوامی طور پر اختیار کرنے سے گریزاں ہیں جو انہوں نے عہدہ سنبھالنے کے بعد ابتدائی دنوں میں اختیار کیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے برعکس وزیرِاعلیٰ چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کا مرکزی اطلاعاتی ونگ بالخصوص ڈرون حملوں کے معاملے پر ایک ’’جارحانہ‘‘ طرز عمل اختیار کرے۔ اس حکمتِ عملی نے آفریدی کو پارٹی کے انفارمیشن ونگ کے ساتھ براہِ راست تصادم میں لا کھڑا کیا ہے، جس کے ارکان نے اعتراض اٹھایا ہے کہ انہیں ایک ایسے معاملے پر فوج پر تنقید کیلئے بطور پراکسی استعمال کیا جا رہا ہے جو صوبائی حکومت کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔ یہ کشیدگی سیاسی کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں کھل کر سامنے آئی، جہاں مبینہ طور پر سہیل آفریدی نے خیبر پختونخوا میں ڈرون حملوں کی سخت مذمت پر زور دیا، جس میں فوج کو براہِ راست ذمہ دار ٹھہرانے کی بات بھی شامل تھی۔ مرکزی انفارمیشن ونگ کے ارکان، جن میں شیخ وقاص اکرم بھی شامل تھے، نے اس کی مزاحمت کی اور موقف اختیار کیا کہ وہ عمومی انداز میں ڈرون حملوں کی مسلسل مذمت کرتے رہے ہیں، تاہم فوج کو براہِ راست موردِ الزام ٹھہرانا ان کے دائرۂ کار میں آتا ہے اور نہ ہی سیاسی طور پر ایسا کرنا محتاط قدم سمجھا جائے گا۔ شرکاء کے مطابق، انفارمیشن ونگ نے مشورہ دیا کہ اگر وزیرِاعلیٰ اس موقف پر یقین رکھتے ہیں تو انہیں خود یا صوبائی حکومت کے ذریعے بیان دینا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ پارٹی بیان صرف اسی صورت میں جاری کیا جا سکتا ہے جب سیاسی کمیٹی باضابطہ طور پر اس کی منظوری دے۔ اس معاملے پر کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔ ایک اندرونی ذریعے کا کہنا تھا کہ وزیرِاعلیٰ نے عوامی سطح پر اپنا موقف نرم کر لیا ہے، لیکن بند کمروں میں وہ چاہتے ہیں کہ دوسرے وہ بات کہیں جو اب وہ خود کھل کر کہنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، علی امین گنڈاپور کی قیادت میں سابق صوبائی حکومت کے دوران ڈرون واقعات کم تھے اور ان کی فوری مذمت کی جاتی تھی، حتیٰ کہ اڈیالہ جیل سے واضح ہدایات پر ایف آئی آرز بھی درج کی جاتی تھیں۔ تاہم، موجودہ سیٹ اپ کے اقتدار میں آنے کے بعد مبینہ طور پر دو درجن سے زائد ڈرون حملے ہو چکے ہیں، لیکن صوبائی قیادت نے اس معاملے پر براہِ راست محاذ آرائی سے بڑی حد تک گریز کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ازسرِنو تشکیل دی گئی سیاسی کمیٹی کے کم از کم تین اجلاس ہو چکے ہیں، لیکن چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان ایک بھی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ ذرائع کے مطابق، عملاً یہ کمیٹی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ چلا رہے ہیں، جو باضابطہ طور پر گوہر علی خان کو پارٹی چیئرمین تسلیم نہیں کرتے۔ دو روز قبل سلمان اکرم راجہ کی طلب کردہ حالیہ میٹنگ بڑی حد تک علیمہ خان کی اس عوامی اپیل کے زیرِاثر رہی جس میں انہوں نے گزشتہ منگل کو اڈیالہ جیل کے باہر 10؍ ہزار کارکنوں کو متحرک کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس سے پارٹی قیادت میں یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ سلمان اکرم راجہ ایک غیرجانبدار تنظیمی سربراہ کے بجائے علیمہ خان کے ترجمان کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس اپیل پر کمیٹی کے اندر شدید اختلاف سامنے آیا۔ ارکان نے نشاندہی کی کہ ایک سابقہ اندرونی مفاہمت کے تحت اڈیالہ جیل کے باہر اجتماعات کی ذمہ داری باری باری منگل کے دنوں میں خیبر پختونخوا اور پنجاب کے درمیان تقسیم تھی۔ چونکہ 6 جنوری کو خیبر پختونخوا والوں کی باری تھی، لہٰذا بعض شرکاء کا موقف تھا کہ اس کی ذمہ داری مکمل طور پر خیبر پختونخوا چیپٹر پر عائد ہوتی ہے۔ اسی بحث کے دوران خیبر پختونخوا پی ٹی آئی کے صدر جنید اکبر خان نے عملی طور پر کمانڈ اینڈ کنٹرول کے بکھرنے کا عندیہ دیا۔ ذرائع کے مطابق، انہوں نے کھل کر سوال اٹھایا کہ وہ آخر کس کی ہدایات پر عمل کریں: عمران خان، بشریٰ بی بی، علیمہ خان، محمود خان اچکزئی، سلمان اکرم راجہ یا بیرسٹر گوہر علی خان؟ اس کے بعد انہوں نے واضح کیا کہ مالی وسائل کے بغیر بڑے اجتماعات ممکن بنانا عملاً ناممکن ہے۔ جنید اکبر نے یہ بھی نشاندہی کی کہ سابقہ انتظام کے تحت علی امین گنڈاپور ذاتی طور پر قانونی امداد، زخمی کارکنان اور زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ کیلئے مالی وسائل کا بندوبست کرتے تھے، لیکن اب یہ معاونت ختم ہو چکی ہے۔ شرکاء کے اندازے کے مطابق 10؍ ہزار افراد کو متحرک کرنے کیلئے کم از کم 10؍ سے 15؍ کروڑ روپے کی ضرورت ہوگی، جبکہ اس وقت فنڈز اکٹھا کرنے اور نہ ان کی تقسیم کا کوئی واضح طریقہ موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق، جنید اکبر نے عملاً ’’ہاتھ کھڑے‘‘ کر دیے اور واضح پیغام دیا کہ مشاورت، وسائل اور اختیارات کی وضاحت کے بغیر خیبر پختونخوا سے طے شدہ تعداد پوری کرنے کی امید نہیں کی جا سکتی۔ اگرچہ پارٹی کی جانب سے تمام ارکانِ اسمبلی کو ماہانہ 50؍ ہزار روپے پارٹی فنڈ میں دینے کی ہدایت کی گئی ہے، تاہم جنید اکبر نے اجلاس کو بتایا کہ خیبر پختونخوا کے ارکان صوبائی اسمبلی اس قابل نہیں کہ وہ یہ رقم ادا کریں۔ اس بات پر اجلاس میں شریک بعض دیگر ارکان شدید برہم ہوئے تھے۔ یہ تمام پیش رفت پی ٹی آئی کے اندر ایک گہرے بحران کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں سینئر رہنما اپنے ہی موقف سے پیچھے ہٹتے نظر آ رہے ہیں، تنظیمی اختیار منتشر ہو چکا ہے، اور سیاسی کمیٹی اجتماعی فیصلوں کے بجائے بیرونی دباؤ کے تحت چلتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایسے وقت میں جب پی ٹی آئی کو شدید سیاسی اور قانونی دباؤ کا سامنا ہے، اندرونی ذرائع خبردار کر رہے ہیں کہ انتشار، تضادات اور قیادت کا ’’دوسروں کے پیچھے چھپنا‘‘ بیرونی چیلنجز سے کہیں زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ سیاسی کمیٹی کے حالیہ اجلاس سے متعلق تنازعات پر جب شیخ وقاص سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ پارٹی کی اندرونی مشاورت میڈیا کے ساتھ زیرِ بحث لانے یا شیئر کرنے کے پابند نہیں۔