• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

200 ٹریفک پولیس اہلکاروں کیخلاف ضابطہ سیکورٹی زون میں تبادلے کا انکشاف

کراچی(مطلوب حسین /اسٹاف رپورٹر) 200 نوجوان ٹریفک پولیس اہلکاروں کے خلاف ضابطہ سیکورٹی I میں تبادلہ کرنے کا انکشاف ہوا ہے،ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے کہا کہ ای چالان سسٹم کا آغاز ، گاڑیوں کو روک کر پوچھ گچھ کا اور چالان کے خاتمے کے بعد اہلکار ضلعی پولیس میں تبادلہ کرانے لگے،پولیس رول کے مطابق کسی اہلکار کو اپنے مدر ونگ میں 5سال مکمل ہونے سے قبل تبادلہ نہیں کیا جاسکتا، کراچی پولیس آفس کا کہنا ہے کہ تبادلے کا حکم خلاف ضابطہ ہے۔ تفصیلات کے مطابق شہر میں بے ہنگم ٹریفک کو بہتر بنانے اور ٹریفک پولیس کے استعداد کار کو بڑھانے کیلئے بھرتی کئے جانے والے 200 نوجوان ٹریفک پولیس اہلکاروں کا خلاف ضابطہ سیکورٹی I میں تبادلہ کرنے کا انکشاف ہوا ہے، ٹریفک پولیس کی افرادی قوت میں شدید کمی کے باعث 14 جولائی 2023 کو ٹریفک پولیس نے نوجوان اہلکاروں کی تعینات کا عمل شروع ہوا جن کی بیسک ٹرینگ کورس ٹریفک مکمل ہونے کے بعد اپریل 2024 میں پاسنگ آوٹ پریڈہوئی اور انہیں مختلف اضلاع میں سندھ پولیس کے ٹریفک ونگ میں تعیناتی کی گئی ،شہر میں ای چالان کا نظام متعارف کرانے کے بعد ڈی آئی جی ٹریفک سید پیر محمد شاہ کی جانب سے ٹریفک پولیس افسران و اہلکاروں کو براہ راست شہر میں چلنے والی گاڑیوں کے چالان اور گاڑیوں کو روک کران سے پوچھ گچھ کرنے کے اختیارات ختم کردیئے گئے ہیں، جسکے بعد ڈی آئی جی ٹریفک نے انکشاف کیا تھا کہ کراچی میں ای چالان سسٹم کے آغاز کے بعد سے ٹریفک اہلکار تبادلے کرانے لگ گئے ہیں اور کام نہ کرنے والے اہلکار ٹریفک پولیس سے ضلعی پولیس میں تبادلے کرا رہے ہیں۔ ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے انکشاف کے بعد آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے7 نومبر کو ٹریفک پولیس اہلکاروں کے تبادلوں پر پابندی عائد کردی، جس میں پہلے سے جاری شدہ تبادلوں کے احکامات بھی شامل تھے ،اس وقت کے آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی جانب سے جاری اس حکم نامہ میں کہا گیا تھا کہ پابندی کا مقصد ای-چالان نظام کے مؤثر نفاذ اور ٹریفک انتظام میں استحکام لایا جا سکے، کسی بھی اہلکار کو ٹریفک سے ضلعی پولیس میں نہیں منتقل کیا جائیگا۔
اہم خبریں سے مزید