کراچی (رفیق مانگٹ)امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق دنیا بھر میں ہسپتال مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال کی سب سے بڑی تجربہ گاہ بنتے جا رہے ہیںجہاں یہ ٹیکنالوجی ایک طرف علاج کے عمل کو تیز، مؤثر اور کم خرچ بنا رہی ہے تو دوسری جانب اس کی خطرناک خامیوں کو بھی بے نقاب کر رہی ہے۔ مریضوں کے اسکین پڑھنے، طبی رپورٹس تیار کرنے، ڈاکٹروں کے نوٹس محفوظ کرنے اور انشورنس کمپنیوں کی جانب سے مسترد کلیمز کے خلاف اپیلیں لکھنے تک، صحت کا شعبہ غیر معمولی رفتار سے اے آئی کو اپنا رہا ہے‘اس ٹیکنالوجی نے ریڈیولوجی کے شعبے میں انقلاب برپا کردیاہے جبکہ اس کے ذریعے چھاتی کے کینسر کی خاموش علامات کو بھی بہترطورپر پکڑاجاسکتاہے ‘ ڈاکٹرز کی رائے کے مطابق مصنوعی ذہانت مددگار ہے مگر انسانی فیصلہ اورنگرانی ناگزیر ہے ۔ تازہ اعدادوشمار کے مطابق صحت کے نظاموں میں 27 فیصد ادارے باقاعدہ طور پر کمرشل اے آئی لائسنس خرید چکے ہیں جو کہ پوری امریکی معیشت میں اے آئی اپنانے کی اوسط شرح سے تین گنا زیادہ ہے۔