پشاور(جنگ نیوز)وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پشاور یونیورسٹی میں منعقدہ شہید بے نظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی پشاور کے نویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے نام پر کسی سیاسی جماعت یا قیادت کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ،ماضی کے آپریشنز میں صوبے کے اسکول، کالجز، ہسپتال، گھربار اور عبادت گاہیں تباہ ہوئیں ،بند کمروں کے فیصلے نقصان دہ ،کچھ عناصر خیبر پختونخوا کی ترقی اور بچوں کے ہاتھ میں قلم دیکھنا نہیں چاہتے، مگر ہم اس سوچ کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ وزیرِ اعلیٰ نے خیبرپختونخوا کی بچیوں کو تعلیم سے محروم رکھنے کی سوچ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بچے اور بچیاں ایک پرامن ماحول میں تعلیم حاصل کر رہے تھے مگر بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں نے حالات کو خراب کیا اور مسائل میں اضافہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بند کمروں کے فیصلے ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں، پالیسیاں عوامی مشاورت سے اور زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر بننی چاہئیں۔محمد سہیل آفریدی نے خطاب میں بتایا کہ خیبر پختونخوا میں 22 سے بڑے جبکہ 14 ہزار سے زیادہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہ ہونا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ پالیسی میں سنجیدہ تبدیلی لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کو اعتماد میں لیے بغیر کیے گئے فیصلے قابلِ قبول نہیں ہوتے ، خیبر پختونخوا پہلے ہی پاکستان کے لیے بھاری قربانیاں دے چکا ہے، اس لیے مزید قربانی سے پہلے سچ بولنا ہوگا۔