اسلام آباد( خالد مصطفیٰ) پاکستان کا گیس گردشی قرضہ بڑھ کر 3200ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، جو پہلے 2600ارب روپے تھا۔ اس اضافے کی بڑی وجہ لیٹ پیمنٹ سرچارج (LPS) میں نمایاں اضافہ ہے جو اب 1450ارب روپے تک جا پہنچا ہے، حکام کے مطابق باقی 1750ارب روپے میں سے تقریباً 210ارب روپے انکم ٹیکس اور جی ایس ٹی کی مد میں جمع ہوئے ہیں،باقی ماندہ 1.5 کھرب گردشی قرضے کی ادائیگی کے لیے انرجی ٹاسک فورس نے KPMG اور پیٹرولیم ڈویژن کے ساتھ مل کر کئی تجاویز پیش کی ہیں۔ ان میں پیٹرول اور ڈیزل پر 5روپے فی لیٹر تک پیٹرولیم لیوی عائد کرنا، آر ایل این جی کارگوز کو عالمی مارکیٹ کی طرف موڑنا، اور سرکاری تیل و گیس کمپنیوں کے منافع (ڈویڈنڈ) کو بجٹ کی حد تک محدود کرکے قرض کی ادائیگی میں استعمال کرنا شامل ہیں۔ حکومت LPS معاف کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ گیس سپلائرز یعنی ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیاں (E&P) اور خریدار یعنی سوئی گیس کمپنیاں سرکاری ادارے ہیں اور انہوں نے یہ رقم بینکوں سے قرض لے کر ادا نہیں کی۔ البتہ پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) کو اپنا LPS ادا کرنا ہوگا، کیونکہ اس نے یہ ادائیگیاں کرنے کے لیے بینکوں سے قرض لیا تھا۔ حکومت 210 ارب روپے کے انکم ٹیکس اور جی ایس ٹی واجبات ختم کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔15ارب روپےکے گردشی قرضے کی ادائیگی کے لیے انرجی ٹاسک فورس نے اور پیٹرولیم ڈویژن کے ساتھ مل کر کئی تجاویز پیش کی ہیں۔ ان میں پیٹرول اور ڈیزل پر 5 روپے فی لیٹر تک پیٹرولیم لیوی عائد کرنا، آر ایل این جی کارگوز کو عالمی مارکیٹ کی طرف موڑنا، اور سرکاری تیل و گیس کمپنیوں کے منافع (ڈویڈنڈ) کو بجٹ کی حد تک محدود کرکے قرض کی ادائیگی میں استعمال کرنا شامل ہیں۔منصوبے کے تحت حکومت 2026 میں 35 ایل این جی کارگوز عالمی منڈی کی طرف بھیجے گی۔