کراچی (اسٹاف رپورٹر ) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام پر 22 کھرب روپے سالانہ کی ”گھوسٹ بجلی“ کا ناقابلِ برداشت بوجھ لادا جا رہا ہے جسے صارفین کیوں اٹھائیں ، یہ وہ بجلی ہے جو نہ پیدا ہوتی ہے، نہ استعمال ہوتی ہے مگر اس کے بل عوام کو بھرنے پڑتے ہیں یہ سب کچھ نام نہاد کیپیسٹی چارجز کے نام پر کیا جا رہا ہے، دنیا میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں گھوسٹ اسکولوں، گھوسٹ اسپتالوں اور گھوسٹ سرکاری ملازمین کے ساتھ اب گھوسٹ بجلی بھی نمودار ہو چکی ہے، اس مسلسل لوٹ مار کی پشت پناہی ریگولیٹر نیپرا خود کر رہا ہے، نیپرا عوام کی محافظ نہیں رہی، بلکہ آئی پی پیز کے مفادات کی محافظ بن چکی ہے، آئی پی پیز عوام کا خون نچوڑ رہے ہیں اور مہنگی بجلی نے صنعت سمیت پوری معیشت کو مفلوج کر دیا ہے، یہ مسئلہ اب قومی سلامتی تک جا پہنچا ہے کیونکہ غیر معمولی مہنگائی ملک میں کسی بھی وقت بڑے عوامی احتجاج کو جنم دے سکتی ہے، الطاف شکور نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مطالبہ کیا کہ اس خطرناک صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے، گھوسٹ بجلی کے نظام کو ختم کر کے بجلی کی منصفانہ اور پائیدار قیمتیں مقرر کی جائیں۔