رابعہ فاطمہ، کراچی
ہمارے مُلک کی آبادی کا ایک بڑا حصّہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، لیکن انتہائی افسوس ناک امر ہے کہ اُن کے لیے روزگار اور ترقّی کے مواقع بہت محدود ہیں اور اِس کی بڑی وجہ معیار تعلیم کا پست ہونا ہے۔ اس ضمن میں اقتصادی سروے 25-2024ء کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان میں تعلیم پر جی ڈی پی کا محض 0.8 فی صد خرچ کیا گیا اور شعبۂ تعلیم پر اس قدر کم سرمایہ کاری نہ صرف بنیادی بلکہ ثانوی اور اعلیٰ تعلیم کی رسائی اور معیار پر بھی بُری طرح اثرانداز ہوئی، کیوں کہ مالی وسائل کی شدید کمی تعلیمی اداروں کے انفرااسٹرکچر، اساتذہ کی تربیت اور نصاب کی بہتری کے ضمن میں سخت رُکاوٹ بنی رہی۔
سروے کے مطابق، پاکستان میں خواندگی کی شرح 60.6 فی صد ہے۔مَردوں میں یہ تناسب 68فی صد، جب کہ خواتین میں 52.8فی صد تک ہے۔ اِسی طرح شہروں میں شرحِ خواندگی 74.1 فی صد، جب کہ دیہی علاقوں میں صرف 51.6 فی صد ہے۔
علاوہ ازیں، اقتصادی سروے کے مطابق ’’اسکول سے باہر بچّوں‘‘ کی تعداد بھی تشویش ناک حد تک زیادہ ہے، جو ڈھائی کروڑ سےزائد ہے۔ اِسی سروے کے مطابق، پنجاب میں شرحِ خواندگی 66.3 فی صد، سندھ میں 57.5فی صد، خیبرپختون خوا میں51.1 اور بلوچستان میں42 فی صد تک ہے۔ مذکورہ اعداد و شمار اِس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ پاکستان کو اپنی شرحِ خواندگی بڑھانے کے لیے نہ صرف مالی وسائل میں اضافے بلکہ ایک مربوط حکمتِ عملی اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔
بہ صُورتِ دیگر مُلک کا انسانی سرمایہ پوری صلاحیت و استعداد سے ترقی نہیں کرپائےگا۔ نیز، یہ اقتصادی سروے ہائرایجوکیشن کمیشن میں، سرمایہ کاری میں بھی نمایاں کمی کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ سروے میں ایچ ای سی کے لیے مختص بجٹ کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم یہ رقم تحقیق، ٹیکنالوجی اور یونی ورسٹی انفرااسٹرکچر کی بڑھتی ضروریات کے لحاظ سے ناکافی ہے۔ قلیل سرمایہ کاری ہی کے باعث 2025ء میں بھی جامعات میں تحقیق کی صلاحیت محدود رہی اورعالمی مقابلے میں پاکستانی جامعات بہت پیچھے رہ گئیں۔
اِن مسائل پر قابو پانے کے لیے حکومت کو ایچ ای سی کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کرنا ہوگا اور ایک ایسا شفّاف و مؤثر مالیاتی فریم ورک تیار کرنا ہوگا کہ جو صرف سابقہ منصوبوں کی تکمیل کی بجائے، اُن کے معیار اور پائے داری پر بھی توجّہ دے۔ علاوہ ازیں، نجی شعبوں اور بین الاقوامی فنڈز کو بھی شعبۂ تعلیم کی ترقّی کے لیے بروئے کار لانے کی ضرورت ہے، تاکہ مالی بوجھ کم اور اصلاحات کی لاگت پورے نظام پر تقسیم کی جا سکے۔
اساتذہ کی تربیت اور تدریسی معیار
اساتذہ کی تربیت، تعلیمی نظام کا ایک بنیادی ستون ہے۔ گرچہ 2025ء میں اِس پہلو پر کچھ زیادہ توجّہ دی گئی، تاہم، موجودہ پالیسی دستاویزات اور سروے رپورٹس کے مطابق اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے مربوط اور مسلسل تربیّتی پروگرامز کی ضرورت ہے، جو نہ صرف تدریسی معیار کو بلند کرنے میں معاون ثابت ہوں گے بلکہ طلبہ کی تخلیقی و منطقی صلاحیتوں کو بھی فروغ دیں گے۔
اقتصادی سروے اور سرکاری تعلیمی رپورٹس کے مطابق، اساتذہ کی تربیت پر کی جانے والی سرمایہ کاری محدود ہے۔ اکثر تربیّتی سرگرمیاں غیرمتواتر اور رسمی نوعیت کی ہوتی ہیں۔ یہ تربیّتی پروگرامز،عملی مشقوں اور جدید تدریسی تیکنیکس پرکم توجّہ دیتے ہیں۔
اِن میں نصابی ہم آہنگی یا طلبہ کی تنقیدی سوچ کو فروغ دینے والے پہلو بھی کم شامل ہوتے ہیں۔ نتیجتاً، بعض اساتذہ وہی پرانا تدریسی ماڈل اپنائے رکھتے ہیں، جو صرف رٹّے لگانے پر مشتمل ہونے کے سبب طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کا ماند کرتا ہے۔
دوسری جانب اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقّی میں ایک اوراہم رُکاوٹ اُن کی کارکردگی کے جائزے کا غیرمؤثر نظام ہے۔ یاد رہے، جب اساتذہ کی کارکردگی ماپنے اور پیش رفت کو تسلیم کرنے کے لیے کوئی خصوصی طور پر مرتّب کردہ نظام نہیں ہوگا، تو ان تربیّتی پروگرامز کا اثر وقتی اور سطحی رہ جاتا ہے اور یہ صُورتِ حال تعلیمی معیار کے استحکام میں رُکاوٹ بنتی ہے، خاص طور پراُس وقت کہ جب اساتذہ کو ادراکی اورفنی تربیت کی جانب راغب کرنا مقصود ہو۔
علاوہ ازیں، اساتذہ کی کمی خصوصاً دیہی اور کم وسائل والے علاقوں میں تعلیم و تدریس کے چیلنجز کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ وہ اسکولز کہ جن میں اساتذہ کی تعداد کم یا غیر تربیت یافتہ عملہ موجود ہے، طلبہ کو اُس سطح کا تعلیمی تجربہ فراہم نہیں کر پاتے کہ جو انہیں فکری طور پر مضبوط اور مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنائے اور اس طرح کا امتیاز صرف تعلیمی معیار ہی میں نہیں بلکہ سماجی مساوات میں بھی فرق پیدا کرتا ہے۔ لہٰذا، اساتذہ کی تربیتی نظام کو جدید، تسلسل پر مبنی اور نتیجہ خیز ہونا چاہیے۔
اس ضمن میں تربیّتی ڈیزائن میں عملی مشق، جدید تدریسی تیکنیکس اور ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال ضروری ہے۔ مزید برآں، اساتذہ کی کارکردگی کی منظّم جانچ اور پیش رفت کی پیمائش کے ذریعے اُن کی پیشہ ورانہ ترقّی کو مستحکم بنیاد فراہم کی جانی چاہیے، تاکہ وہ اپنے طلبہ کی فکری و علمی ترقّی کے حقیقی سفیر بن سکیں۔
انفرااسٹرکچر، ڈیجیٹل تعلیم اور ٹیکنالوجی کا منظرنامہ
گرچہ 2025ء میں ٹیکنالوجی نے پاکستان کے تعلیمی منظر نامے میں اہم مقام حاصل کرنا شروع کیا، مگر اس کی رسائی وسیع اور یک ساں نہ تھی۔ اس ضمن میں اقتصادی سروےرپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ کئی سرکاری اور نجی درس گاہوں میں آن لائن تعلیم کی سہولت فراہم کرنے کی کوششیں ہوئیں، مگر بنیادی انفرااسٹرکچر اورانٹرنیٹ کی عدم دست یابی ایک بڑی رُکاوٹ بنی رہی۔
دیہی علاقوں میں اسکولزکی عمارات اُس معیار پر پوری نہیں اُترتیں کہ جو معیاری تعلیم کے لیے ضروری ہے۔ کلاس رُومز کی کمی کے ساتھ لائبریریز، لیبارٹریز جیسی سہولتوں کا فقدان، نیز، صفائی اور پانی جیسی بنیادی ضروریات کی عدم فراہمی بھی بڑا مسئلہ ہے، جس سے طلبہ اور اساتذہ دونوں کی فعالیت متاثر ہوئی اور تعلیمی معیار مزید پست ہوگیا۔
دوسری جانب، اعلیٰ تعلیم کے شُعبے میں جدّت لانے کی کوششیں جاری رہیں۔ ایچ ای سی کی جانب سے تیکنیکی انفرااسٹرکچر اپ گریڈ کرنے کے منصوبے شروع کیے گئے۔ مثال کے طور پر ایچ ای سی اور ورلڈ بینک کےاشتراک سے ہائر ایجوکیشن ڈیولپمنٹ پروگرام شروع ہوا، جس کا مقصد جامعات کے طلبہ میں تیکنیکی صلاحیتوں کوفروغ دینا ہے۔ تاہم، ان اقدامات کے نتیجے میں ’’ڈیجیٹل تقسیم‘‘ بھی گہری ہوئی۔
یعنی انٹرنیٹ اور کمپیوٹر تک رسائی نہ رکھنے والے طلبہ آن لائن ذریعۂ تعلیم سے محروم رہے اور اس عدم مساوات نے سیکھنے کے مواقع میں فرق کو مزید بڑھایا، جب کہ پیداواری صلاحیت کو بھی محدود کیا۔ سو، مستقبل میں تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ حکومت بنیادی انفرااسٹرکچر کی تیاری کوترجیح دے۔
بجلی، انٹرنیٹ اور کمپیوٹر لیبز کو دوسرے منصوبوں کے مساوی اہمیت دی جائے۔ نیز، اسکولز کی تجدید اور ڈیجیٹل ماڈلز (جیسے ہائبرڈ کلاس رومز) کو مقامی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے تیزی سے فروغ دیا جائے، تاکہ ہر طالبِ علم، چاہے وہ دیہی ہو یا شہری، ٹیکنالوجی کے فوائد سے مستفید ہوسکے۔
صنفی عدم مساوات اور لڑکیوں کی تعلیم
پاکستان میں صنفی عدم مساوات ایک دیرینہ مسئلہ ہےاور 2025ء کے مختلف سرویز کے اعدادوشمار بھی اس حقیقت کو اُجاگر کرتے ہیں۔ اقتصادی سروے کے مطابق، مُلک میں خواندگی کی مجموعی شرح 60.6 فی صد ہے، مگر مَردوں میں یہ تناسب 68فی صد اور خواتین میں 52فی صد ہے، جو شرحِ خواندگی کے اعتبار سے مَرد و خواتین میں پائے جانے والے واضح فرق کو ظاہر کرتا ہے، نیز یہ فرق اس اَمر کی بھی عکّاسی ہے کہ ہمارے مُلک میں خواتین کی تعلیم کی راہ میں اب بھی کئی اقسام کی رُکاوٹیں حائل ہیں۔
مزید برآں، سروے میں ’’اسکول سے باہر بچّوں‘‘ کی صنفی تقسیم کے اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے، جن سے پتا چلتا ہے کہ مُلک کے تقریباً 38فی صد بچّے اسکول نہیں جاتے، جن میں 35فی صد لڑکےاور42 فی صد لڑکیاں شامل ہیں۔مطلب، صنفی عدم مساوات تعلیم تک رسائی کے ضمن میں ایک سنگین رُکاوٹ ہے، لہٰذا لڑکیوں کو اسکول بھیجنے یا ان کا تعلیمی سلسلہ برقراررکھنے کےلیے معاشرتی اور اقتصادی فیصلہ سازی میں بھی خاصی بہتری لانے کی ضرورت ہے۔
علاوہ ازیں، صوبائی تقسیم میں بھی صنفی فرق واضح ہے۔ مثلاً، صوبۂ بلوچستان میں شرحِ خواندگی نہ صرف مُلک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں خاصی کم ہے، بلکہ وہاں لڑکیوں کے حصولِ تعلیم کا تناسب بھی بہت زیادہ کم ہے۔ اقتصادی سروے کے مطابق، بلوچستان میں خواندگی شرح 42 فی صد ہے، جو مُلکی تناسب کے لحاظ سےنچلی ترین سطح پر ہے اور یہ صُورتِ حال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ تعلیمی پالیسیوں کو علاقائی اور صنفی دونوں اعتبار سے زیادہ نفوذ پذیر اور حسّاس ہونا چاہیے۔
علاوہ ازیں، سماجی عوامل بھی اس فرق کو بڑھاوادیتے ہیں۔ مثال کے طور پر روایتی سوچ، حفاظتی خدشات، خاندانی دباؤ اور اسکول تک جانے کے لیے مناسب ذرائع نقل و حمل کی کمی لڑکیوں کی تعلیم میں رُکاوٹ بنتی ہے۔ اس کے علاوہ خواتین اساتذہ کی کمی بھی طالبات کی تعلیم کی راہ میں بڑی رُکاوٹ ہے۔
اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت نہ صرف تعلیم کے میدان میں سرمایہ کاری پر توجّہ دے، بلکہ اس ضمن میں لڑکیوں میں تعلیمی شعور کی بےداری کی مہمات بھی چلائی جائیں۔ نیز، لڑکیوں کے لیے خصوصی اسکول پروگرامز تشکیل دیے جائیں۔
دیہی اور شہری تعلیمی فرق
پاکستان میں دیہی اور شہری علاقوں میں شرحِ خواندگی میں فرق بھی ایک نمایاں عُنصر ہے۔ اقتصادی سروے 2024-25ء کے مطابق، شہری علاقوں میں خواندگی کی شرح 74.1فی صد، جب کہ دیہی علاقوں میں 51.6 فی صد ہے اور یہ تفاوت اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ ترقّیاتی اقدامات اور تعلیمی رسائی میں دیہی آبادی کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔
دوسری جانب دیہی علاقوں کے اسکولز میں انفرااسٹرکچر کی کمی ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔ اکثر دیہی علاقوں میں کلاس رومز کی حالتِ زار، صفائی، پانی اور دیگر بنیادی سہولتوں کی کمی نے مقامی طلبہ کی تعلیم تک رسائی محدود کردی ہے۔ اس کے علاوہ، اساتذہ کی عدم دست یابی اور تربیت بھی دیہی تعلیمی اداروں میں معیارِ تعلیم کو مزید متاثر کرتی ہے۔ یاد رہے، جب ماحول اور وسائل محدود ہوں، تو دیہی طلبہ کا تعلیمی تجربہ شہری طلبہ کے مقابلے میں خاصا مختلف ہوتا ہے۔
مزید برآں، شہریوں کی معاشی صُورتِ حال بھی اس فرق کو بڑھاتی ہے۔ دیہی علاقوں میں غُربت اور بے روزگاری زیادہ ہے اور کئی خاندانوں میں بچّوں کو اپنی آمدنی میں اضافے کے لیے اسکول جانے کی بجائے کام کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ واضح رہے، مُلک بَھر میں تقریباً2 کروڑ48 لاکھ بچّےاسکولز سے باہر ہیں اور اُن میں بڑی تعداد دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے بچّوں کی ہے۔
اس فرق کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے، وفاقی اور صوبائی حکومتیں دیہی تعلیم کو ترجیح دیں۔ اسکولوں کی بحالی، بنیادی سہولتوں کی فراہمی، اساتذہ کی تربیت و وقار بڑھانے کے اقدامات مؤثر اور تیز رفتار ہونے چاہئیں۔ ساتھ ہی کمیونٹی انگیج مینٹ اور والدین کی شمولیت بڑھا کر دیہی علاقوں میں تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہوگا۔
مزید برآں، دیہی اور شہری فرق کو کم کرنے کے لیے ڈیجیٹل تعلیم کا استعمال ایک اہم ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر دیہی اسکولوں میں انٹرنیٹ اور کمپیوٹرلیبز فراہم کی جائیں، تو وہاں کے طلبہ کو بھی آن لائن اور ہائبرڈ ماڈلز کے ذریعے معیاری تعلیمی مواقع حاصل ہو سکتے ہیں۔
مستقبل کے لیے سفارشات، اصلاحی اقدامات
پاکستان کے تعلیمی مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ بڑے پیمانے پر مربوط، مستحکم اور منظّم تعلیمی اصلاحات کی جائیں۔ اس ضمن میں سب سے پہلے حکومت کو تعلیمی بجٹ بڑھانے اور اسے مؤثر اندازمیں تقسیم کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف جی ڈی پی کے 0.8 فی صد کی سرمایہ کاری کافی نہیں۔ تعلیمی بجٹ کو کم ازکم بین الاقوامی سفارشات کے قریب لے جانا چاہیے، تاکہ بنیادی تعلیم، اساتذہ کی تربیت اور انفرااسٹرکچر کی مضبوطی ممکن ہوسکے۔
دوم، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کو اوّلین ترجیح دی جائے۔ ایسے تربیّتی پروگرامز ڈیزائن کیے جائیں، جو محض ’’فارمیٹیو ورکشاپس‘‘ تک محدود نہ ہوں، بلکہ عملی، مسلسل اور تدریسی تیکنیکوس پر مبنی ہوں۔
اساتذہ کو نہ صرف کلاس رُوم مینجمینٹ بلکہ تنقیدی سوچ، کے فروغ، ٹیکنالوجی کے استعمال اور جدید نصاب پر عبور کی بھی تربیت فراہم کی جائے، تاکہ وہ طلبہ کی فکری نشوونما میں اہم کردار ادا کر سکیں۔ تیسرا اہم پہلو تعلیمی پالیسی کو صوبائی اور وفاقی سطح پر ہم آہنگ اور شفّاف بنانا ہے۔
اس ضمن میں صوبائی انتظامیہ کو مالی وسائل فراہم کیےجائیں، مانیٹرنگ اور احتساب کا نظام مضبوط کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ دیہی و پس ماندہ علاقوں میں پہلے ترجیحی منصوبے نافذ ہوں۔ اس کے علاوہ کمیونٹی اور والدین کو شامل کرنے کے لیے تعلیمی شعور و آگہی سے متعلق مہمّات چلائی جائیں تاکہ مقامی سطح پر شمولیت کو فروغ ملے۔ چوتھی اہم بات یہ ہے کہ ڈیجیٹل تعلیم کو ایک مکمل ایکوسسٹم کے طور پر اپنایا جائے۔ اس ضمن میں اسکولز میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی، کمپیوٹر لیبز اور آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز کی تعداد میں اضافہ نہایت ضروری ہے۔
لہٰذا، ایچ ای سی اور عالمی اداروں کے اشتراک سے ایسے منصوبے بنائے جائیں، جو خاص طور پر دیہی و پس ماندہ علاقوں کے طلبہ کے لیے ہائبرڈ اور آن لائن ماڈل کو مقامی ضروریات کے مطابق ڈھال سکیں۔ لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے مالی معاونت، اسکولز تک رسائی اور خواتین اساتذہ کی تعداد بڑھائی جائے۔
ایسے خصوصی پروگرامز تشکیل دیے جائیں، جو والدین اور کمیونٹی کو تعلیم کی اہمیت پرقائل کریں اورلڑکیوں کی حاضری اور تسلسل کو یقینی بنانے میں مدد دیں۔ ساتھ ہی کارکردگی کی پیمائش اور مانیٹرنگ کا شفّاف نظام قائم ہونا چاہیے تاکہ صنفی فرق کو مسلسل کم کیا جا سکے۔