نہیں، کہیں بھی نہیں درد کا مِرے درماں
عجیب زیست کہ جس کو نہ مل سکا عنواں
کہیں تو یہ دلِ مضطر قرار بھی پاتا
کبھی پِھرا ہے یہ در در، کبھی مکاں تا مکاں
مِلے تھے راہ میں خُوش رنگ کچھ مناظر بھی
بغور اُن کو جو دیکھا، وہ تھے چمک یا دھواں
عجب تھی درد کی ہستی میں کارفرمائی
طلب تھی سُود، مقدّر میں تھا زیاں ہی زیاں
سفر طویل تھا، منزل نظر سے تھی اوجھل
ستم کہ زادِ سفر میں رہا یقیں نہ گماں
شکستہ پائی کے احساس میں قیامت تھی
بس اِک خیالِ ستم گر تھا میرے ساتھ رواں
نہ جانے کون تھا، اِک پَل جو کر گیا روشن
کہ خُود مجھے نہیں ملتا مِرا ہی نام و نشاں
یہ کیسا ساتھ تھا، جو ساتھ تھا، وہ ساتھ نہ تھا
عجیب درد کا قصّہ قمرؔ کیا ہے بیاں