تحریر: شائستہ اظہر صدیقی، سیال کوٹ
مہمان: اقراء اور صبا
عبایا، اسکارفس: حجاب النساء گارمنٹس
آرائش: دیوا بیوٹی سیلون
کوارڈی نیشن: مظہر علی
عکاسی: عرفان نجمی
لے آؤٹ: نوید رشید
’’رمضان کا مہینہ وہ ہے، جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے سراپا ہدایت اور ایسی روشن نشانیوں کا حامل ہے، جو صحیح راستہ دکھاتی اور حق وباطل کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کردیتی ہیں، لہذا تم میں سے جو شخص بھی یہ مہینہ پائے، وہ اس میں ضرور روزے رکھے۔ ‘‘(البقرہ، 185) ایمان کے کھیتوں کو سر سبز و شاداب کرتے، خیروبرکت کی برسات لیے رحمتِ ایزدی کے نزول کا مہینہ پھر آن پہنچا ہے۔
یہ مہینہ اہلِ ایمان پر رحمت، مغفرت اور بخشش (نارِ جہنم سے نجات)کے بادل لیے سایہ فگن ہوتاہے۔ تہجّد کے پُرسکون اندھیرے، سحر کی نیلگوں خاموشی میں شبنم کی مانندگُھلی دُعائیں، بوقتِ افطار خُوش نما اذان اور پھر پورا ماہ اِسی معمول کی روزانہ کی بنیاد پر دہرائی، اِس ماہِ مبارک کو بہت بہت خاص بناتی ہے۔ گویا ہم صرف بھوک، پیاس کی ایک جسمانی مشقّت نہیں کاٹ رہے، بلکہ رُوح کی تربیت کر کے، نفس پر قابو پاکر اپنےاصل باطن کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔
تاہم، ان لذتوں سے وہی دل آشنا ہو پاتے ہیں، جو رمضان شریف کو اُس کی اصل رُوح کے مطابق سمجھیں اور اپنائیں۔ شیخ سعدی کے الفاظ میں ؎ ندارنےتنِ پروراں آگہی… کہ پُرمعدہ باشد زِحکمت تہی۔ تن پرستوں کو کسی قسم کی آگاہی نصیب نہ ہوگی، اس لیے کہ جو پیٹ بھر کر کھائے گا، حکمت سے محروم رہے گا۔ جب قرآن کے الفاظ خوشبو کی مانند ہوا میں پھیلتے معلوم ہوتے ہیں، تو روشنی دل کی مکین بن جاتی ہے۔
زمین پر پیشانی دھر کر کیے جانے والے سجدے آسمان تک اپنی راہ بنا لیتے ہیں اور فضا میں چہار سُو ایک پُر نور سا تقدّس پھیل جاتا ہے۔ حضرت سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ’’جنّت کے آٹھ دروازے ہیں، اُن میں سے ایک دروازے کا نام ’’الریان‘‘ ہے، اور اُس میں سے صرف روزے دار ہی داخل ہوں گے۔‘‘ (متفق علیہ مشکوٰۃ شریف) مگر یہ بات ضرور ذہن میں رکھنی ہوگی کہ روزہ محض بھوکے، پیاسے رہنے کا نام نہیں بلکہ یہ درحقیقت، بھوک کے دوران خُود پر بیتے تجربات کی روشنی میں دیگر انسانوں کےجذبات و احساسات سمجھنے کا ایک تربیتی پروگرام ہے کہ پیٹ بھوکا ہو کر دل کو نرم کرتا ہے، تو زبان کی تشنگی احساس کوجنم دیتی ہے۔
آسائش کی کمی عاجزی سکھاتی ہے اور ضرورت اور خواہش کے باریک سے فرق کا احساس ہمیں تب ہوتا ہے، جب افطار میں ایک کھجور اور محض ایک گلاس سادہ پانی کائنات کی ہر شے سے زیادہ قیمتی معلوم ہوتا ہے۔ اور اُس سمے کی خوشی انتہائی فطری عمل ہے۔ جیسا کہ حدیثِ نبویﷺ ہے۔ ’’روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں۔ ایک خوشی اُس وقت، جب وہ افطار کرتا ہے اور ایک خوشی اُس وقت، جب وہ اپنے رب سے ملتا ہے اور روزہ دار کے منہ کی بُو، اللہ کے نزدیک مشک و عنبر کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔‘‘ (بخاری شریف)
ماِ صیام کی انوار و تجلّی بھری راتوں کا حُسن تراویح، جب تھکن سے پُر وجود، جو دن بھر کے روزے کے بعد سو جانا چاہتے ہیں، لیکن اپنے خالق و مالک کی رضا و خوش نودی کے لیےقیام اللیل کرتے ہیں۔ نبی آخر الزمانﷺ کی غارِ حرا کی خِلوت کی پُرتقدّس ساعتوں کو دل سےمحسوس کرنےکے لیے اعتکاف ایسی عبادت، جب یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے دنیا نے اپنی آوازیں سمیٹ لی ہوں اور انسان خُود سے بھی آگے نکل کر اپنے رب کے قریب ہورہا ہو۔ اور پھرشبِ قدر، جس کی ایک ساعت بھی وقت کے پیمانوں سے بڑی ہے۔ تو بھلا ماہِ سعید کے ان اعجازات و کرامات کا کوئی نعم البدل ممکن ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ”جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیّت سے رمضان کے روزے رکھے اور اِس کی راتوں میں قیام کیا تو اُس کے سابقہ گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ اور جس نے ایمان کےساتھ اور ثواب کی نیت سے شبِ قدر میں قیام کیا تو اُس کے بھی سابقہ گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ ‘‘(ترمذی) رمضان شریف یہ سارے تحائف لے کر محض چند دنوں کے لیے ہمارا مہمان بننے آتا ہے۔ دُعا ہے کہ اللہ پاک اِس برس بھی کُل عالمِ اسلام کو اس ماہِ محترم ومکرم کی بہترین خدمت و مہمان نوازی کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اب ذرا آج کی خاص الخاص بزم پر بھی نگاہ ڈال لیں کہ جو مرصّع ومسجّع ہے، شان دارعبایا، اسکارفس سے۔ تمام تر پہناووں میں اسلامی قدر، شرم وحیا کو بالخصوص مدِنظر رکھا گیا ہے۔ ذرا دیکھیے، بلیو پرنٹڈ عبایا کے ساتھ پلین ٹی پنک رنگ اسکارف کاعُمدہ امتزاج ہے،تو ڈارک پِیچ رنگ پلین عبایا پر پھول دار پرنٹڈ عنّابی اسکارف بھی خاصابھلالگ رہاہے۔ سُرخ رنگ پلین عبایا کےساتھ سیلف پرنٹڈ سیاہ اسکارف کی موزونیت ہے، تو سبز کے مختلف شیڈز میں دھاری دار عبایا پر باٹل گرین رنگ اسکارف نے سایہ سا کر رکھا ہے۔
لیس اور بِیڈزسے مزیّن پِیچ رنگ عبایا، ہم رنگ پرنٹڈ اسکارف کے ساتھ نورانی سا تاثر دے رہاہے، توبرائون کے شیڈز میں جیومیٹریکل ڈیزائن پرنٹ کاعبایا پلین اسکارف کے ساتھ خُوب جچ رہا ہے۔ سی گرین عبایا کے ساتھ چو خانے پرنٹ کااسکارف ہے، تو عنّابی رنگ پھول دارپرنٹ کے عبایا کے ساتھ گلابی رنگ اسکارف کا منفرد وحسین امتزاج۔ اور باٹل گرین اور مٹیالے کا کامبی نیشن لیے عبایا کے ساتھ ہم رنگ اسکارف کی ہم آمیزی ہے، تو موتی ورک سے سجے نیوی بلیو رنگ عبایا کے ساتھ سفید رنگ کے دوپٹا نُما اسکارف کا تو سمجھیں کوئی مول ہی نہیں۔