محمّد صفدرخان ساغر، گوجرانوالہ
رمضان کا مبارک مہینہ اُن عظیم نعمتوں میں سے ایک انتہائی عظیم نعمت ہے، جو اللہ تعالیٰ نے اُمّتِ مُسلمہ کو عنایت فرمائی ہیں۔ اس ماہ میں ہمیں قرآنِ مجید عطا کیا گیا، جو ہدایت، رحمت، فرقان، نور اور شفا ہے۔ اِسی ماہ بدر کا وہ ’’یوم الفرقان‘‘ اُمّت کو نصیب ہوا، جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ جن کو ہلاک ہونا تھا، وہ ہلاک ہوئے اور جن کو زندہ رہنا تھا، وہ دلیلِ روشن کے ساتھ زندہ رہے۔
اِسی ماہ میں وہ ’’یوم الفتح‘‘بھی ہےکہ جس روزایک قطرۂ خون بہائے بغیر اُس شہر کی کُنجیاں اُمّت کے حوالے کردی گئیں کہ جو اُمّ القریٰ، یعنی دُنیا کا مرکزاور بیت اللہ، سلسلۂ توحید کے امامِ عالی مقام، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بندگی و وفاداری کی بے نظیر روایات اور حضرت محمدﷺ کی دعوت کا امین ہے۔
ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اُمّتِ مسلمہ کی بقا وسربلندی کا راز دعوتِ محمدیﷺ کے لیے جہاد میں پوشیدہ ہے۔ سب سے پہلے انسانوں کے دل جیتنے کے لیے اور پھر تہذیبی غلبے کے لیے جہاد۔
نیز، اپنے نفس سے جہاد، تاکہ تقویٰ حاصل ہو اور یہ تقویٰ انفرادی بھی ہونا چاہیے اور اجتماعی بھی، جب کہ خِلوتوں میں نالۂ نِیم شبی، آہِ سحرگاہی، اشکوں سے وضو اورجلوتوں میں صداقت،دیانت، امانت، شجاعت، اخوّت اورحقوقِ انسانی کااحترام بھی لازم ہے۔ اور رمضان علم وعمل کا وہ راستہ ہے، جس کے ذریعے یہ سب کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
کس قدر خوش بخت ہیں ہم کہ ایک مرتبہ پھر رمضان کا مبارک مہینہ ہم پر سایہ فگن ہے۔ رحمتوں کی بارش زندگیاں سیراب کرنے کو چہار سُو برس رہی ہے۔ اس مہینے کی عظمت و برکت کا کیا کہنا،جسےخُود نبیٔ کریم حضرت محمدﷺ نے’’شھرِعظیم‘‘ اور ’’شھرِمبارک‘‘ قرار دیا۔
ماہِ صیام بڑی عظمت،بڑی برکت والا مہینہ ہے۔ ہم اس ماہ کی عظمت کا تصور کرسکتے ہیں اور نہ ہماری زبان اُس کے تمام تر فضائل و برکات ہی بیان کرسکتی ہے۔ بس، اتنی ہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس ماہِ مبارک کے فیوض وبرکات سمیٹنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین۔