• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماہِ صیام... نئی امید، نیا موقع، نیا آغاز

رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی فضا پُرنور ہو جاتی ہے، ہر سُوانوار کی بارش ہونے لگتی ہے اور اللہ کے پسندیدہ بندے اپنے ربّ کی رحمتوں، نعمتوں سے فیض یاب ہونے کے لیے کمر بستہ ہو جاتے ہیں۔ تاہم، ماہِ صیام صرف عبادات کا مہینہ نہیں، بلکہ یہ دل کی طہارت، رُوح کی تربیت، تذکیۂ نفس اور صبر کی مَشق کا مہینا بھی ہے۔ 

اس ماہ ہر طالبِ خیر کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لے اور اللہ کی رضا حاصل کر کے اپنی زندگی و آخرت بہتر بنائے۔ تاہم، گھریلو اور پیشہ ورانہ مصروفیات کے سبب بعض خواتین کو کبھی کبھار روزہ رکھنا نہایت مشکل اَمر لگتا ہے۔ اُنہیں رمضان میں خاصی تھکاوٹ و نقاہت محسوس ہوتی ہے، دن غیر معمولی طویل لگتے ہیں اور دل و دماغ میں بار بار یہ سوال اُٹھتاہے کہ ’’کیا مَیں بخیرو عافیت روزے رکھ پاؤں گی؟‘‘

یاد رہے، یہ احساسات و جذبات بالکل فطری ہیں، کیوں کہ ہمارا نفس آرام کا طلب گار ہے، جب کہ روزہ صبر اور کٹھنائیوں کا تقاضا کرتا ہے اور ماہِ رمضان کے دوران ہم بُھوک و پیاس سمیت دیگر خواہشاتِ نفس پر قابو پا کر اپنی رُوح کو سیراب کرنے کے علاوہ قُربِ الہٰی اور روحانی بالیدگی حاصل کرتے ہیں۔ 

یہاں قابلِ ذکر اَمر یہ بھی ہے کہ جب ہم بیمار یا تھکاوٹ کا شکار ہوتے ہیں، تو ڈاکٹر کبھی بھی ہمیں زیادہ سے زیادہ کھانے اور سونے کا مشورہ نہیں دیتا بلکہ وہ خوراک اور نیند پر کنٹرول اور ورزش کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔ یعنی ہماری ذہنی و جسمانی بہتری کے لیے مشقّت ناگزیر ہے اور اسی طرح مشقّت اٹھائے بغیر روحانی تربیت اور اللہ کی رضا کا حصول بھی ممکن نہیں۔ 

جس طرح ہم جِم میں ورزش کرتے ہوئے پسینے میں بھیگ جاتے ہیں اور ہماری سانس پُھول جاتی ہے، لیکن اس کے باوجود ہم مستقل مزاجی سے محنت جاری رکھتے ہیں، تاکہ ہمیں جسمانی صحت حاصل ہو، اسی طرح رمضان المبارک میں اُٹھائی جانے والی روحانی مشقّت بھی ہمارے بدن، رُوح اور ایمان کو قوّت بخشتی ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک کی سورۃ العنکبوت میں فرماتا ہے کہ ’’اور جو لوگ ہماری راہ میں جدوجہد کریں گے ہم لازماً اُن کی راہنمائی کریں گے اپنے راستوں کی طرف اور یقیناً اللہ احسان کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ مذکورہ آیت ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں کوشش کرتے ہیں، اللہ اُن کی رہنمائی فرماتا ہے اور رمضان کا ہر روزہ، ہر عبادت اور ہر نیک عمل اللہ کی راہ میں جدوجہد ہی کی ایک شکل ہے۔ 

یاد رہے، اللہ تعالیٰ ہم سے کمال کی توقع نہیں رکھتا، بلکہ صرف ہماری نیّت اور کوشش دیکھتا ہے اور چاہے کوئی کم زور ہو یا بیمار یا گناہ گار، رمضان سبھی کے لیے رحمت کا مہینہ ہے۔ اس ضمن میں نبی ٔکریم ﷺ نے فرمایا کہ ’’تمام اعمال کا دارومدار نیّتوں پر ہے، ہر شخص کو وہی کچھ ملے گا جو اس نے نیّت کی۔ (صحیح البخاری و مسلم)۔ 

یہ حدیثِ نبویؐ ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری نیّت دیکھتا ہے اور اپنے راہ میں کی گئی ہماری معمولی سی سعی کو بھی رائیگاں نہیں جانے دیتا۔ روزہ صرف بُھوک اور پیاس کا نام نہیں، بلکہ نفس کی تربیت، صبر اور رضائے الہٰی کی طلب کا مہینہ ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ’’روزے ایمان اور احتساب کے ساتھ گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہیں۔‘‘

اگر آپ بیماری کے بعد پہلی بار روزہ رکھ رہی ہیں یا روزے میں کم زوری و نقاہت محسوس کر رہی ہیں، تو اس میں پریشان یا نادم ہونے کی کوئی بات نہیں، کیوں کہ خلوصِ نیّت سے کی جانے والی آپ کی ادنیٰ سی کوشش بھی اللہ کے نزدیک بیش قیمت اور اجر کا باعث ہے اور پھر رمضان کا ہر ہر لمحہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے عرش سے اپنے محبوب بندوں کو محبّت سے دیکھ رہا ہے اور اُن کے حُسنِ نیّت پر شاداں ہے۔ پھر رمضان المبارک سے ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ ہر مشکل و سختی کے ساتھ راحت ہے اور ہر اندھیرا روشنی میں بدل سکتا ہے۔

لہٰذا، رمضان کو تجدیدِ نو اور آغازِ نو کا موقع سمجھیں۔ یہ بابرکت مہینہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم نیک نیّتی کے ساتھ اللہ کے راستے پر چلتے ہوئے اپنے ماضی کے گناہوں، غلطیوں اور پچھتاوے سے نجات حاصل کریں اور دوسروں کے دیے گئے دُکھوں اور تکالیف کے نتائج اللہ کے سُپرد کریں۔ اللہ تعالیٰ ماہِ رمضان کو ایسے بھیجتا ہے کہ جیسے اُبھرتا ہوا سورج، تاکہ معصیت کی طویل رات کا خاتمہ ہو اور ہمارا دل نور سے معمور ہو جائے۔ 

یہ مہینہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اسے ہم دردی، خدمت اور محبّت کے جذبے کے ساتھ گزاریں۔ اپنے ارد گرد موجود ضرورت مند افراد کے لیے وقت نکالیں اور اُن کی مدد کر کے خُوب دعائیں لیں۔ رمضان المبارک ہمیں اس بات کا بھی موقع دیتا ہے کہ ہم ہر رنج و غم سے، جو ہمارے دِلوں پر بوجھ بنا ہوا ہے، آزاد ہو جائیں اور ایک نئے عہد اور امید کے ساتھ آگے بڑھیں۔

سنڈے میگزین سے مزید