• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غزہ امن بورڈ، فلسطینی نمائندگی غائب، ٹرمپ نے امن بورڈ کیلئے ٹونی بلیئر، مارکو روبیو، اسٹیووٹکوف، اپنے داماد جیرڈکشنر اور دیگر کو نامزد کردیا

واشنگٹن ،کراچی (اے ایف پی، نیوز ڈیسک) امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کیلئے امن بورڈقائم کردیا،بورڈ میں فلسطینی نمائندگی غائب ،بورڈ کے سربراہ صدر ٹرمپ نےمشرق وسطیٰ میں متنازع ترین شخصیت ٹونی بلیئر،امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، اپنے داماد جیرڈ کشنر ، ارب پتی کاروباری شخصیت مارک روون اپالو گلوبل، ورلڈ بینک کے سربراہ اجے بانگا ، امریکی قومی سلامتی کی ٹیم کے رکن گیبریل،بلغارین سیاستدان نکولے ملادینوف کی نامزدگی کا اعلان کر دیا ہے،وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ بورڈ میں مزید نمائندے بھی شامل ہوں گے ، امریکی صدر نے ترک صدر رجب طیب ایردوان اور مصری صدرعبدالفتاح السیسی کو بھی امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت دے دی ہے، اسی طرح کینیڈین وزیراعظم اور ارجنٹائن کے صدر کو بھی بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے ، بورڈ کا کام غزہ کے مستقبل کیلئے سیاسی حکمت عملی بنانا، عالمی سطح پر فنڈز اکٹھا کرنا اور سیکورٹی کے بڑے معاملات کی نگرانی کرنا ہے،یہ بورڈ آف پیس اور غزہ کی مقامی انتظامیہ کے درمیان پُل کا کام کریگا۔ ناقدین کا شدید تنقیدکرتے ہوئے کہنا ہےفلسطین کا مستقبل صرف فلسطینی خود ہی طے کریں، بورڈ آف پیس میں شمولیت کی حیثیت یہی ہے کہ ممبران اسرائیلی نسل کشی منصوبے کے حامی ہیں، یا ان لوگوں کو مجرمانہ ٹھہرایا ہے جو اس کے خلاف ہیں،دوسری جانب صدر ٹرمپ نے باضابطہ طور پر امریکی میجر جنرل جیسپر جیفرز کو غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) کا کمانڈر نامزد کر دیا ہے، امریکی میجر جنرل غزہ کی سیکورٹی کے سربراہ ہوں گے ۔ اسرائیل نےغزہ میں حکومت کیلئے فلسطینی ٹیکنو کریٹس کی اس کمیٹی کی تشکیل پر اعتراض کیا ہے جسے جنگ کے بعد غزہ کا نظم و نسق سنبھالنا ہے اور جس نے رواں ہفتے قاہرہ میں اپنے کام کا آغاز کیا ہے۔یہ کمیٹی امن بورڈ کے ماتحت کام کرے گی ۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیاغزہ ایگزیکٹو بورڈ کی تشکیل کے حوالے سے اسرائیل کے ساتھ مربوط رابطہ نہیں تھا اور یہ اس کی پالیسی کے منافی ہے۔سابق فلسطینی اتھارٹی کے نائب وزیر علی شعث کی سربراہی میں قائم 15 رکنی کمیٹی کے بارے میں بیان میں مزید کہا گیاکہ اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنے وزیر خارجہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکی وزیر خارجہ سے رابطہ کریں۔فلسطینی مزاحمتی گروپ اسلامک جہاد نے غزہ میں حکمرانی کی نگرانی کے لیے قائم کردہ امن بورڈکی تشکیل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اسرائیل کے مفادات کے لیے کام کر رہا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کی جنگ کے بعد تعمیرِ نو اور عبوری حکمرانی کے اگلے مرحلے کی نگرانی کے لئےایک نیا سات رکنی ادارہ بورڈ آف پیس قائم کردیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق بورڈ کے ہر رکن کو غزہ کے استحکام، حکمرانی کی صلاحیت سازی، علاقائی تعلقات، تعمیرِ نو، سرمایہ کاری اور مالی وسائل کی فراہمی جیسے اہم شعبوں کی ذمہ داری دی جائے گی اور امریکا اسرائیل، اہم عرب ممالک اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر اس عبوری فریم ورک کی مکمل حمایت کرے گا۔وائٹ ہاؤس کے مطابق، بورڈ آف پیس کا دائرہ اختیار صرف سیکورٹی تک محدود نہیں ہوگا، بلکہ اسے غزہ کی مکمل بحالی اور مستقبل کے ڈھانچے کی تعمیر کی وسیع تر ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ ٹونی بلیئر کی شمولیت خطے میں متنازع سمجھی جاتی ہے، کیونکہ وہ عراق جنگ میں کردار کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں ایک متنازع شخصیت رہے ہیں، ٹونی بلیئر نے اپنی نامزدگی کو اعزاز قرار دیا ہے ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کو غزہ کے لیے قائم کیے گئے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے، جس کا مقصد غزہ میں عارضی حکومت اور جاری نازک جنگ بندی کی نگرانی کرنا ہے۔ ترک صدارت کے مطابق اردوان نے دعوت موصول کر لی ہے جبکہ مصر نے السیسی کی شرکت پر غور شروع کر دیا ہے۔ کینیڈین وزیراعظم اور ارجنٹائن کے صدر کے دفاتر نے بھی کہا ہے کہ دونوں رہنما بھی بورڈ میں شمولیت پر غور کررہے ہیں ۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ بورڈ امریکی سرپرستی میں امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھائے گا، جس کے تحت فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی روزمرہ انتظام چلائے گی، بین الاقوامی اسٹیبلائزیشن فورس سکیورٹی کی نگرانی کرے گی، مگر امدادی قلت، جزوی تشدد، اسرائیلی انہدامی کارروائیوں اور حماس کو غیر مسلح کرنے پر غیر یقینی صورتحال نے اس منصوبے کے مستقبل پر سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔ خاص طور پر آشیش پرشار جو ٹونی بلیئر کے معاون کے طور پر کام کر چکے ہیں نے ’بورڈ آف پیس‘ کے قیام پر سخت تنقید کی ہے ۔

اہم خبریں سے مزید