• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا کی وعدہ شکنی، بغاوت پر اکسانا، پھر پیچھے ہٹ جانا، امریکی جریدہ

کراچی (رفیق مانگ) امریکی جریدہ لکھتا ہے واشنگٹن کی خارجہ پالیسی میں ایک مستقل پیٹرن یہ ہے کہ وہ غیر ملکی بغاوتوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے مگر فیصلہ کن وقت پر پیچھے ہٹ جاتا ہے۔یہ طرزِ عمل محض غلطیوں کا سلسلہ نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط ایک ساختی روایت ہے فارن پالیسی کے مطابقامریکی خارجہ پالیسی کی ایک مستقل اور تلخ روایت یہ رہی ہے کہ واشنگٹن مخالف ریاستوں میں عوامی بغاوت کی حوصلہ افزائی کر کے فیصلہ کن لمحے پر پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ عراق، ہنگری، کردستان، شام اور اب ایران تک، تاریخ گواہ ہے کہ امریکی قیادت آزادی اور حمایت کے بلند بانگ دعوے تو کرتی ہے، لیکن عملی طور پر اپنے اسٹریٹجک مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے ان تحریکوں کو تنہا چھوڑ دیتی ہےجس کا خمیازہ لاکھوں جانوں، مہاجرت اور تباہی کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔1991 میں صدر جارج بش نے عراقی عوام کو صدام حسین کے خلاف اٹھنے کی ترغیب دی۔امریکی اتحادی افواج نے عراق میں بغاوت پر اکسانے والے پمفلٹس بھی گرائے۔بغاوت کے عروج پر عراق کے 18 میں سے 14 صوبے حکومتی کنٹرول سے نکل گئے تھے۔اس کے باوجود امریکا نے باغیوں کی عملی مدد سے انکار کیا اور صدام کو انہیں کچلنے دیا۔اس کریک ڈاؤن میں 50 ہزار سے زائد افراد مارے گئے اور 15 لاکھ کرد بے گھر ہوئے۔یہی وعدہ شکنی 1956 کی ہنگری بغاوت میں بھی دہرائی گئی۔
اہم خبریں سے مزید