کراچی (بابر علی اعوان) ملک بھر کے 127 ماحولیاتی نمونوں میں سے 40میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس نے ایک بار پھر پولیو کے پھیلاؤ کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ سندھ سب سے زیادہ متاثر رہا جہاں حاصل کیے گئے 29میں سے23انوائرمنٹل سیمپلز مثبت رپورٹ ہوئے جو وائرس کی مسلسل موجودگی اور ممکنہ ہائی رسک زون کی نشاندہی کرتا ہے،حکام کے مطابق ، 2فروری سے ملک گیر پولیو مہم کا آغاز، والدین بچوں کو پولیو بچاؤ کے قطرے پلائیں،۔ پاکستان پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹو کے تحت دسمبر 2025میں ماحولیاتی نگرانی کے لئے ملک کے 87 اضلاع سے 127سیوریج نمونے حاصل کیے گئے قومی ادارہ برائے صحت اسلام آباد کی ریجنل ریفرنس لیبارٹری برائے پولیو نے 40نمونوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی، جبکہ 87نمونے منفی قرار پائے۔ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں 34نمونوں میں سے 8مثبت، پنجاب میں 31 میں سے 6 مثبت، بلوچستان میں 23 میں سے 2 مثبت جبکہ اسلام آباد سے حاصل کیے گئے 5 نمونوں میں سے ایک نمونے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی۔ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے حاصل تمام نمونے منفی رہے، جو ان علاقوں میں مؤثر نگرانی اور ویکسینیشن مہمات کی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے۔ پولیو حکام کے مطابق مجموعی طور پر ملک میں پولیو کیسز کی تعداد میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سال 2024 میں جہاں 74 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے تھے، وہیں 2025 میں یہ تعداد کم ہو کر 31 رہ گئی۔ بلوچستان میں گزشتہ ایک سال سے زائد اور پنجاب میں گزشتہ گیارہ ماہ کے دوران کسی پولیو کیس کا سامنے نہ آنا مسلسل، معیاری اور ہدفی ویکسینیشن مہمات کا واضح ثبوت ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر برائے پولیو کے مطابق حکومتِ پاکستان کی قیادت میں 2025 کے دوران چھ اعلیٰ معیار کی ویکسینیشن مہمات کامیابی سے مکمل کی گئیں جن کے ذریعے 45 ملین سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے نیشنل ٹاسک فورس نے 2025-26 کا جامع روڈ میپ منظور کر لیا ہے، جس کے تحت بار بار ملک گیر ویکسینیشن مہمات، ہائی رسک اضلاع میں خصوصی حکمتِ عملی اور روٹین امیونائزیشن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔