• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ریلوے کے محنت کشوں سے نان شبینہ چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے، آرٹی ایل

کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر)پاکستان ریلوے انقلابی یونین کے صوبائی صدر کا مرید مجید زہری نے کہا ہے کہ 93ارب روپے کے ترقیاتی دعوے کرنے والے آج ریلوے کے محنت کش ملازمین سے نان شبینہ چھیننے کے درپے ہیں، جو انتہائی افسوسناک ، قابل مذمت اور مزدور دشمن اقدام ہے ۔ پاکستان ریلوے آرٹی ایل کے ملازمین کی تنخواہوں سے کسی بھی قسم کی کٹوتی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی ۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان ریلوے انقلابی یونین کے صوبائی صدر کا مرید مجید زہری نےگذشتہ روز آرٹی ایل اسٹاف سے اظہار یکجہتی کے لیے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے کے محنت کش پہلے ہی مہنگائی ، کم تنخواہوں اور بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کا شکار ہیں ۔ ایسے میں آرٹی ایل ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کا فیصلہ سراسر نا انصافی اور محنت کش دشمن پالیسیوں کا تسلسل ہے ۔ ریلوے انتظامیہ اگر واقعی ادارے کی ترقی چاہتی ہے تو اس کا بوجھ مزدوروں کے کندھوں پر ڈالنے کے بجائے کرپشن ، ناقص منصوبہ بندی اور ناقابل قبول اخراجات کا خاتمہ کرے ۔پاکستان ریلوے انقلابی یونین اوپن لائن رجسٹرڈ، کوئٹہ ڈویژن ، اس ظالمانہ فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ محنت کشوں کے جائز حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔ اگر تنخواہوں سے کٹوتی کا فیصلہ فوری طور پر واپس نہ لیا گیا تو 25 جنوری سے آرٹی ایل اسٹاف ٹرین ورک نہیں کریں گے اور یونین تمام دستیاب آئینی، قانونی اور جمہوری آپشنز استعمال کرنے پر مجبور ہوگی ، جس کی تمام تر ذمہ داری ریلوے انتظامیہ پر عائد ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کے 2019 کے ٹی اے واجب الادا ہیں ، ریٹائر ڈملازمین کے بقایا جات اور جی پی ایف کے لیے پیسے نہیں ملازمین کو وقت پر تنخوائیں نہیں مل رہی ۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سے چمن ، چمن سے تفتان اور کوئٹہ سے سی سیکشن کے انجینئرنگ کے گھوسٹ ملازمین کو ڈیوٹی پر بلایا جائے اور ڈی ای این 2 کے ملازمین کے ترقی پر غیر منصفانہ اور من پسند افراد کو ترقی دینے کے نوٹس کو واپس کیا جائے۔ مظاہرے سے لونگ خان سرپرہ ، اکرم گل ، کمانڈو نواز بلوچ ، عبد الغنی بنگلزئی ، عمر خیام اور میر بہاول خان بنگلزئی نے بھی خطاب کیا ۔
کوئٹہ سے مزید