لاہور (محمد صابر اعوان سے) پاکستان فارما سیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) نے پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں میڈیکل ریپریزنٹیٹوز کے داخلے پر عائد پابندی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ پنجاب سے اس فیصلے پر فوری نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔پی پی ایم اے کے چیئرمین ڈاکٹر محمد طاہر اعظم نے صوبائی وزیرِصحت خواجہ سلمان رفیق کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے سرکاری ہسپتالوں میں میڈیکل ریپریزنٹیٹوز کے داخلے پر مکمل پابندی نہ صرف طبی ماہرین کے لیے سائنسی و تعلیمی معلومات کے تبادلے میں رکاوٹ بنے گی بلکہ اس کے منفی اثرات ملک کے دیگر صوبوں تک بھی پھیل سکتے ہیں،ڈاکٹر محمد طاہر اعظم نے حکومتِ پنجاب سے اپیل کی کہ اس فیصلے پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے میڈیکل ریپریزنٹیٹوز کو واضح ضوابط کے تحت سرکاری ہسپتالوں میں رسائی دی جائے تاکہ صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ڈاکٹر محمد طاہر اعظم کا کہنا تھا کہ میڈیکل ریپریزنٹیٹوز صحت کے نظام میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں اور وہ ڈاکٹروں کو ادویات کے اجزا، جدید علاج، ادویات کی حفاظت اور طبی تحقیق میں ہونے والی تازہ پیش رفت سے آگاہ کرتے ہیں، جس کا براہِ راست فائدہ مریضوں کو بہتر علاج کی صورت میں پہنچتا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سرکاری ہسپتالوں میں میڈیکل ریپریزنٹیٹوز پر مکمل پابندی برقرار رکھی گئی تو ڈاکٹروں کو بروقت اور مستند سائنسی معلومات تک رسائی محدود ہو جائے گی، جس سے طبی فیصلوں اور مریضوں کی دیکھ بھال متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پی پی ایم اے کے چیئرمین نے واضح کیا کہ مکمل پابندی کے بجائے اگر ایک منظم اور ضابطہ شدہ نظام متعارف کرایا جائے تو خدشات پر قابو پاتے ہوئے پیشہ ورانہ فوائد کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔