• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

٭…جب جنگِ عظیم اوّل ختم ہوئی اور1919ء میں صلح کا اعلان ہوا، تو سارے ہندوستان میں برطانیہ کی فتح کا جشن منایا گیا۔ ایک ہوائی جہاز شہر پر گردش کرنے لگا اور چوں کہ پہلے کسی نے یہ تماشا نہ دیکھا تھا، تو زن و مرد سب گھروں سے نکل کر آسمان کو تاکنے لگے۔

بڑے، بوڑھوں نے کہا۔ ’’یہ وہی اُڑن کھٹولا ہے جس کا ذکر داستانوں میں آیا ہے۔‘‘ شہر کے انگریز ڈپٹی کمشنر کے چوکی دار کو یہ یقین نہ تھا کہ صاحب کے کمرے میں نصب ٹیلی فون محض ایک آلۂ سماعت ہے، جس میں بذریعہ تار دوسری طرف سے آواز آتی ہے بلکہ اُس کا اصرار تھا کہ صاحب نشے کے عالم میں کمرے میں بیٹھا خُود اپنے آپ سے باتیں کیا کرتا ہے۔

(ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کی کتاب ’’گرد ِراہ‘‘ سے اقتباس)

٭……٭……٭

٭…جوش ملیح آبادی اور حفیظ جالندھری میں شروع ہی سے ادبی رقابت چل رہی تھی۔ جوش کے پاکستان آجانے کے بعد تو رقابت اور بھی بڑھ گئی تھی۔ ایک مشاعرے میں جوش و حفیظ دونوں کو شرکت کے لیے مدعو کیا گیا تھا، لہٰذا منتظمین نے فیصلہ کیا کہ دونوں کی نشستیں ریل کے الگ الگ کمپارٹمنٹ میں ہونی چاہئیں۔ 

ایک صاحب پوچھنے لگے۔ ’’کیا آپ کو یہ خدشہ ہے کہ دونوں میں جھگڑا نہ ہوجائے؟‘‘ ابھی منتظمین جواب بھی نہ دے پائے تھے کہ پاس کھڑے ابنِ انشاء بولے۔ ’’نہیں، اندیشہ یہ ہے کہ کہیں دونوں میں صُلح نہ ہوجائے۔‘‘

(’’مخزن‘‘ سے خوشہ چینی)

٭…ایک رُخ سے تو مَیں اِس بلا کا سریع الاشتعال تھا کہ ذرا ذرا سی بات پر جامے سے باہر ہوجاتا اور جو بھی سامنے آتا، اُس کو پھاڑ کھایا کرتا تھا اور ایک رُخ سے مَیں اتنا بےپناہ صاحبِ مہرو وفا اور اِس حد کا سرچشمۂ لُطف وعطا تھا کہ دوسروں کے واسطے بڑی سے بڑی قربانی پر آمادہ رہا کرتا تھا۔ 

میرے غیض وغضب کا یہ عالم تھا کہ ساتھ کھیلنے والے بچّوں سے، اگر کسی بات پہ بگڑ جاتا، توبید مار، مارکراُن بے چاروں کی کھال کھینچ لیا کرتا تھا۔ اور جب ماسٹر بن کر اپنا پڑھا ہوا سبق، ساتھ کے بچّوں کو پڑھاتا، اور دوسرے دن اُن سے آموختہ دہرواتا، اور وہ دہرا نہ سکتے، تو اُن کو ڈنڈوں سے پیٹتا اور ان کےکاندھوں پر سوار ہوکر اُن کوخچروں کی طرح اِس قدر سرپٹ دوڑایا کرتا کہ اُن کی جانوں پر بن جایا کرتی تھی۔

٭……٭……٭

٭…مَیں کبھی قوی حافظے کا مالک نہیں رہا۔ کئی مہینے کی بات ہے کہ تاروں کی چھائوں میں ٹہلنے کے لیے نکلا تھا۔ واپسی میں اپنے گھر کا راستہ بھول گیا۔ وہ تو کہیے کہ میرے ایک ہم عُمر ٹہلتے ہوئے مل گئے۔ مَیں نے اُن سے پوچھا کہ ’’یہیں کہیں، برساتی نالے کے کنارے ایک گنبد والا مکان ہے، کیا آپ اُس کا راستہ بتا سکتے ہیں؟‘‘ 

انہوں نے کہا۔ ’’کیا آپ جوش صاحب کے مکان جانا چاہتے ہیں؟‘‘ مَیں نے کہا۔ ’’جی ہاں۔‘‘ اور اُس نیک مرد نے مجھ کو میرے گھر پہنچا دیا اور رخصت ہوتے ہوئے مجھ سے کہا کہ آج سے چالیس، بیالیس برس پیش تر مَیں نے جوش صاحب کو آگرہ میں دیکھا تھا۔ میرا نام نصیر احمد ہے۔ جوش صاحب سے میرا سلام کہہ دیجیے گا اور مَیں نے فرطِ شرم سے یہ نہیں بتایا کہ مَیں ہی جوش ہوں۔

(جوش ملیح آبادی کی ’’یادوں کی بارات‘‘سے پُھل جھڑیاں)

(مرتّب: جاوید جواد حسین، گلشنِ اقبال ٹاؤن، کراچی)

سنڈے میگزین سے مزید