• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دوستوں کو بڑی نعمت قرار دیا جاتا ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر دوست قابلِ اعتماد نہیں ہوتا اور کبھی تو کوئی ناقابلِ اعتبار دوست’’آستین کا سانپ‘‘بھی بن جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ گزشتہ دنوں خیبر پختون خوا کے ضلع، ایبٹ آباد میں پیش آیا، جہاں بے نظیر بھٹو شہید اسپتال کی لیڈی ڈاکٹر، وردہ مشتاق اپنی قریبی دوست کے لالچ کی بھینٹ چڑھ گئی۔ 39سالہ ڈاکٹر وردہ بے نظیر بھٹو شہید ڈی ایچ کیو اسپتال، ایبٹ آباد میں میڈيکل افسر کے طور پر خدمات سر انجام دے رہی تھیں، جب کہ اُن کا تعلق ضلع اٹک سے تھا۔

وہ 2002ء میں تعلیمی مراحل طے کرنے کے لیے اپنے والد کے ساتھ اٹک سے ایبٹ آباد شفٹ ہوئی تھیں۔2009ء میں ضلع مانسہرہ کے گاؤں، خیرآباد سے تعلق رکھنے والے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، سیّد مشتاق حسین شاہ کے بیٹے، سیّد راحیل رضا سے بیاہی گئیں۔ ردا وحید کو سوشل میڈیا پر تو مقتولہ کی بچپن کی دوست کہا گیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ دونوں کی دوستی کا آغاز2022ء میں ایک لیڈیز جِم سے ہوا۔ردا اُسی کالونی کی رہائشی تھی، جہاں ڈاکٹر وردہ کا گھر تھا، درمیان میں ایک گلی کا فاصلہ تھا۔ 

موبائل نمبرز کا تبادلہ ہوا اور پھر دوستی گہری ہونے لگی۔ ردا ہر دوسرے ہفتے ڈاکٹر وردہ کو اپنے گھر بچّوں کے ساتھ کھانے پر بلانے لگی، اپنی گاڑی میں پِک اینڈ ڈراپ دیتی۔ دونوں شاپنگ کے لیے بھی ساتھ جاتیں۔ یوں دوستی مضبوط سے مضبوط تر ہونے لگی۔ردا وحید نے نہایت چالاکی سے ڈاکٹر وردہ کے سامنے خُود کو اُس کی انتہائی ہم درد، خیر خواہ ظاہر کیا۔ اُس کی ملازمت، تن خواہ اور اُس کے مستقبل کے سب ارادوں سے متعلق مکمل آگہی حاصل کرلی۔ 

یہاں تک کہ اُس نے وردہ کو بیرونِ مُلک جانے کے خواب دِکھانے شروع کردیئے اور اپنے بھائی ذوہیب اور ایک کزن شہریار کے ذریعے، جو دبئی میں مقیم تھے، ڈاکٹر وردہ کے ویزے کا انتظام کیا اور وہاں اچھی نوکری کی یقین دہانی بھی کروا دی۔ردا جانتی تھی کہ ڈاکٹر وردہ کے پاس تقریباً 67 تولا سونا ہے، جو بینک میں رکھا ہوا ہے اور درحقیقت اُسے اُن زیورات کا لالچ ہی کھائے جا رہا تھا، جو وہ ہر صُورت ہڑپ کرنا چاہتی تھی۔

دسمبر2023ء میں ڈاکٹر وردہ نے سرکاری ملازمت سے چُھٹی لی اور دبئی جانے کی لیے رختِ سفر باندھ لیا۔ تب ردا ہی نے وردہ اُس سے کہا۔’’ تم تو دُبئی جا رہی ہو اور اگر پیچھے بینک دیوالیہ ہوگئے، تو تمہارے سونے کا کیا ہوگا، کیوں کہ مُلکی حالات کا تو تمہیں پتا ہی ہے، اِس لیے بہتر یہ ہے کہ سونا بطورِ امانت میرے پاس رکھوا دو۔‘‘ پہلے تو وردہ رضامند نہیں ہوئی، مگر پھر سہیلی کے اصرار پر سونا اُس کے پاس رکھوانے پر آمادہ ہو ہی گئی۔

ردا نے ایک اسٹیمپ پیپر بھی وردہ کی طرف سے لکھوا لیا کہ’’ داکٹر وردہ اپنا سونا اپنی دوست کے پاس امانتاً رکھوا رہی ہے اور واپسی پر ردا سے اپنی امانت واپس لے گی۔‘‘ اِس پر دونوں نے دست خط بھی کیے تا کہ وردہ کے دل میں کوئی شک ہو، تو وہ دُور ہو جائے۔ ردا نے یہ بھی یقین دلایا کہ اگر اُسے دُبئی میں ضرورت پیش آئی، تو وہ اُس کی امانت خود وہاں پہنچائے گی۔ اس لکھت پڑھت کے بعد ڈاکٹر وردہ نے اپنا سارا سونا اپنی دوست کے حوالے کیا اور خُود دبئی چلی گئی۔

اُس نے دُبئی میں ملازمت کے لیے بہت کوششیں کیں، مگر ناکام رہی۔ ڈاکٹر وردہ تین ماہ بعد ہی جان چُکی تھی کہ اُس کے ساتھ نوکری کے نام پر فراڈ ہو رہا ہے، جب کہ وہ اپنی جمع پونجی بھی ضائع کر بیٹھی تھی۔ بہرحال، وہ دُبئی سے دوبارہ پاکستان آگئی۔ ڈاکٹر وردہ اپنی سہیلی، ردا وحید کے ارادے بھی بھانپ چُکی تھی، تب ہی اُس نے واپس آتے ہی اُس سے سونے کی واپسی کا تقاضا کیا، مگر وہ مستقل ٹال مٹول سے کام لے رہی تھی۔

ڈاکٹر وردہ کو اپنے اندھے اعتماد پر سخت افسوس تھا۔ وہ بہت پریشان، سہمی ہوئی رہنے لگی تھی، مگر جانے ایسی کون سی مجبوری یا خطرہ تھا کہ وہ اپنی فیملی کو صُورتِ حال سے آگاہ کر سکی اور نہ ہی پولیس سے کوئی رابطہ کیا۔ ایک دن ڈاکٹر وردہ نے ردا کے شوہر، وحید کو کال کرکے کہا کہ وہ اپنی بیوی کے پاس رکھا اُس کا سونا واپس دلوائے، جس پر وحید نے اُسے سخت لہجے میں جوب دیا کہ’’ ہم نے تمہارا سونا کسی بیوپاری کے پاس رکھ کر اُس سے پیسے لیے ہیں، اب جب پیسے واپس ہوں گے، تو ہی سونا واپس ملے گا اور فی الحال ہمارے پاس رقم کا انتظام نہیں ہے۔‘‘

یہ سُن کر ڈاکٹر وردہ مزید پریشان ہوگئی کہ اُس کا سونا تو اب ردا کے پاس بھی نہیں ہے۔ چند دن گزرے، تو ردا وحید نے دس لاکھ گارنٹی چیک اپنے ملازم، ندیم بیگ کے ذریعے وردہ کو بھجوا کر تقریباً دو ماہ کے لیے خاموش کردیا۔ پھر ایک پیر صاحب کے ذریعے کہہ کہلوا کر مزید چند ماہ خاموش کیے رکھا۔ اِس دوران ردا نے ڈاکٹر وردہ سے مزيد بیس لاکھ روپے یہ کہہ کر طلب کیے کہ’’جس بیوپاری کے پاس تمہارا سونا گروی رکھوایا تھا، اُس سے واپس لینے کے لیے رقم کا انتظام ہوگیا ہے، مگر بیس لاکھ کم پڑ رہے ہیں، تم اگر یہ رقم دے دو، تو سونا واپس مل جائے گا۔

مقتولہ کے والد میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے
مقتولہ کے والد میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے 

ہم یہ رقم بھی بعد میں تمہیں واپس کردیں گے۔‘‘ڈاکٹر وردہ نے اپنے سونے کی واپسی کی خاطر مزيد بیس لاکھ روپے دے دیئے، مگر اُس کے بعد بھی سونا نہیں ملا، تو وردہ نے تنگ آکر پولیس کو اطلاع دینے کی بات کی۔ جواباً ردا اور اُس کے شوہر نے چند افسران کے’’کچھ راز‘‘ ڈاکٹر وردہ کو دِکھا کر خاموش رہنے کو کہا۔ مگر ڈاکٹر وردہ نے اپنی امانت واپس لینے کے لیے کوششیں تیز کردیں اور ردا کو مسلسل کالز کرنے لگی۔

3دسمبر2025ء کو ردا نے ڈاکٹر وردہ کو ویڈیو کال کی اور اپنی بیٹی کے سَر پر ہاتھ رکھ کر قسم اُٹھائی کہ اُسے کل ہر صُورت سونا واپس مل جائے گا۔ یہ سُن کروردہ کو کچھ تسلّی ہوئی اور اُس نے اپنے پندرہ سالہ بیٹے، حیدر سے کہا کہ’’کل سب سے پہلے سونا لا کر تمہیں دِکھاؤں گی اور بتاؤں گی کہ اس میں تمہارا کتنا اور تمہاری نو سالہ بہن، حمدہ کا کتنا ہے۔‘‘

4دسمبر کو ڈاکٹر وردہ اپنی ڈیوٹی پر اسپتال میں موجود تھی کہ دن کے تقريباً ساڑھے گیارہ بجے ردا وحید کی فون کال آئی اور وردہ کو باہر بُلایا۔ اُس نے اسپتال سے نکلتے وقت ساتھی لیڈی ڈاکٹر کو بتایا کہ وہ دس منٹ میں واپس آ رہی ہے، جب کہ اپنے والد کو بتایا کہ وہ اپنی دوست، ردا کے گھر جا رہی ہے۔ وہ اس اُمید کے ساتھ اسپتال سے روانہ ہوئی کہ آج تو اُس کی امانت اُسے مل ہی جائے گی۔

ڈاکٹر وردہ اپنی امانت لینے کے لیے ردا وحید کی گاڑی میں بیٹھی اور پھر کچھ دیر بعد اُس کا موبائل فون بند ہوگیا۔ جب زیادہ وقت گزر گیا، تو والد کو فکر ہونے لگی۔ اُنھوں نے بیٹی کے نمبر پر کال کی، مگر وہ بند ملا، جس پر اُن کی پریشانی مزيد بڑھ گئی۔ اُنھوں نے اُس کی دوست، ردا کو فون کیا، تو اُس نے بتایا کہ’’وردہ آئی تھی، لیکن اپنی امانت لے کر چلی گئی ہے۔‘‘

والد تھانے پہنچے، مگر پولیس نے معمولی کیس سمجھ کر زیادہ سنجیدگی ظاہر نہیں کی۔ وہ ایک سے دوسرے تھانے کے چکر لگاتے رہے۔ دوسری طرف، وردہ کی پُراسرار گم شدگی پر ساتھی ڈاکٹرز نے بھی احتجاج شروع کردیا۔ معاملہ پیچیدہ ہوا، تو پولیس نے وردہ کے والد سے تمام تر تفصیلات جانیں، جس پر اُنھوں نے ساری رُوداد من و عن سُنائی۔ 

پولیس نے ردا کو تھانے بُلا کر پوچھ گچھ کی تو پتا چلا کہ اُس کا خاوند ایبٹ آباد کا معروف تاجر ہے۔ پولیس نے ردا کے شوہر سميت دیگر تاجروں کو ساتھ بٹھا کر معاملہ حل کرنے کی کوشش کی۔ ردا اور اُس کے خاوند، وحید کو چوں کہ اپنے کرتوتوں کا علم تھا، اِس لیے پولیس کو کہانی سُنائی کہ وردہ کے پاس بھاری مالیت کا سونا تھا، ہوسکتا ہے کہیں چور لٹیرے اُسے نقصان پہنچا گئے ہوں۔ 

ڈاکٹر وردہ، بچّوں اور شوہر کے ساتھ
ڈاکٹر وردہ، بچّوں اور شوہر کے ساتھ

پولیس نے اُن کی باتوں پر یقین کیا اور تاجروں کے کہنے پر ردا کو چھوڑ دیا۔24گھنٹے اِسی طرح گزر گئے۔ جب وردہ کا کہیں سراغ نہ ملا، تو شہر بَھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔ دباؤ بڑھا، تو پولیس نے ایک بار پھر ردا کو گرفتار کرلیا۔ ردا نے تفتیش کے دوران بتایا کہ اُس کے ڈرائیور نے وردہ کو اُس کے گھر کی گلی میں اُتار دیا تھا، جس پر پولیس نے ڈرائیور کو بھی گرفتار کرلیا۔ مگر ڈرائیور اور ردا کے بیانات آپس میں نہیں مل رہے تھے۔

ڈرائیور نے بتایا۔’’مَیں اپنی مالکن اور اُن کی دوست کے ساتھ اُن کے نئے گھر گیا، جہاں اُترنے کے بعد میری مالکن نے مجھے پانی لینے بھیج دیا۔ جب مَیں پانی کی بوتل لے کر واپس آیا، تو مالکن یعنی ردا، اکیلی گيٹ پر کھڑی تھیں۔ اُنھوں نے مجھے کہا کہ’’جلدی چلو، اسکول سے بچّوں کو لینا ہے‘‘۔جس پر مَیں صرف اپنے مالکن کو ساتھ لے کر واپس آگیا، اُن کی دوست ہمارے ساتھ نہیں آئیں۔‘‘

پولیس نے جب ردا سے سختی سے پوچھ گچھ کی، تو اُس نے بتایا کہ’’میرے پاس ڈاکٹر وردہ کا 67 تولے سونا تھا، جو اُس نے بطور امانت رکھوایا تھا۔ ہم کاروبار کرتے ہیں، جس میں ہمیں نقصان ہوگیا تھا۔ ہم وردہ کا سونا واپس نہیں کر سکتے تھے، کیوں کہ سونا بینک میں رکھوا کر کاروبار کے لیے لون لیا تھا۔ لہٰذا، مَیں نے وردہ کو بُلايا اور گاڑی میں اپنے ساتھ لے گئی، جہاں ہمارا نیا مکان ہے۔ 

وہاں پہلے سے موجود تین ملازمین نے اُس کی زندگی کا خاتمہ کردیا اور لاش تھانہ بکوٹ کی حدود میں لڑی بنوٹہ کے جنگل میں گڑھا کھود کر دفن کردی۔‘‘پولیس نے چار ملزمان گرفتار کیے، جن کی نشان دہی پر چار دن بعد لاش گڑھے سے نکالی گئی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر وردہ پر تشدّد بھی کیا گیا، گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی، جب کہ موت دَم گُھٹنے سے ہوئی۔

دائیں کندھے، دائیں بازو اور دائیں ہتھیلی پر خراشیں پائی گئیں، مقتولہ کی آنکھوں پر سوجن اور ناک سے خون بہنے کے شواہد بھی ملے۔ گرفتار ملزمان میں ردا، اُس کا شوہر وحید، ندیم زیب اور پرویز ولد ایّوب شامل تھے، جب کہ کرائے کا قاتل، شمریز بعدازاں ایک مبيّنہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ ردا وحید نے دورانِ تفتیش بتایا کہ ڈاکٹر وردہ کے قتل کا سودا ایک کروڑ روپے میں ملزم ندیم سے طے کیا، جب کہ ندیم نے آگے اپنے ایک رشتے دار، شمریز کے ساتھ30لاکھ روپے میں سودا کیا۔

شمریز نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر ڈاکٹر وردہ مشتاق کو گلا گھونٹ کر قتل کیا۔ قاتلوں کو لاش ٹھکانے لگانے کے بھی الگ سے پیسے دیئے۔ جب تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوا، تو پتا چلا کہ ردا وحید نے مختلف افراد کے ناموں سے17بینک اکاونٹس کھلوا رکھے تھے۔ پولیس کے مطابق ملزمہ نے بینک سے دو کروڑ سے زائد کا قرض بھی حاصل کیا۔ ان اکاؤنٹس میں سے آٹھ مَردوں اور آٹھ خواتین کے نام پر ہیں، جب کہ صرف ایک اکاؤنٹ ردا کے اپنے نام پر ہے۔ 

واقعے کے بیس دن بعد پولیس نے مزيد ایک ملزم کو گرفتار کیا۔ ملزم فیصل نے بیان دیا کہ قتل کی منصوبہ بندی شازمان کالونی میں واقع ایک گھر میں کی گئی۔ جس روز ڈاکٹر وردہ کو قتل کیا گیا، اُسی دن شمریز نے لاش دفنانے کے لیے گڑھا کھودنے کا کہا۔ اُس نے فیصل نامی شخص کے ساتھ مل کر گڑھا کھودا اور مقتولہ کی لاش دفن کی۔

ایس پی انویسٹی گیشن، ایاز خان کے مطابق، ملزم کی نشان دہی پر شمریز کے گھر پر، جو پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا تھا، چھاپہ مار کر مقتولہ کا شناختی کارڈ، اے ٹی ایم کارڈ، گاڑی کے کاغذات اور موبائل فون کے علاوہ بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کرليا ہے۔27 دسمبر کو پولیس نے مزید دو اہم ملزمان حسنین اور فیصل کو گرفتار کیا۔ فیصل نے عادل کے ساتھ مل کر لاش چُھپانے کے لیے گڑھا کھودنے کا اعتراف کیا۔

اِس واقعے کا ایک افسوس ناک پہلو پولیس کا کردار بھی ہے کہ مقتولہ کے والد پہلے دن سے پولیس پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’’پولیس ملزمان سے ملی ہوئی ہے اور کیس خراب کر رہی ہے۔ جس وقت میری بیٹی اغوا ہوئی، اُسی دن سے پولیس ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔ڈی پی او بھی ملزمان کی طرف داری کر رہے ہیں۔‘‘مقتولہ کے جیٹھ، سیّد توحید رضا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’ملزمان کو، کینٹ پولیس کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ اگر بروقت کارروائی کی جاتی، تو ڈاکٹر وردہ کو بچایا جاسکتا تھا۔

ہم نے وقوعے کی جگہ ٹریس کی، لوکیشن پولیس کے ساتھ شیئر کی، لیکن پولیس دوسری جگہ سرچ کرتی رہی۔ جائے وقوعہ پر تالا لگا ہوا تھا، پوچھنے پر ملازم نے بتایا کہ’’گیٹ کی چابی نديم کے پاس ہے۔‘‘ پولیس چاہتی، تو گیٹ کُھلوا سکتی تھی، مگر ایسا نہ ہوا۔ ایس ایچ او نے ملزمان کی مکمل سہولت کاری کی۔

جس وقت ہم رپورٹ درج کروانے گے، تھانے میں موجود سِول کپڑوں میں ملبوس ایک مشکوک شخص پولیس کی توجّہ ہٹانے کے لیے بار بار کہتا رہا ہے کہ’’ ڈاکٹر وردہ کا فون آخری وقت لاہور کی لوکیشن بتاتا ہے، ہوسکتا ہے وہ سونا لے کر لاہور نکل گئی ہوں۔‘‘جب ہم نے دوبارہ لوکیشن چیک کی، تو ايبٹ آباد ٹھندا چوہا کی لوکیشن ٹریس ہوئی، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ تھانے میں موجود شخص ملزمان سے ملا ہوا تھا۔‘‘

سنڈے میگزین سے مزید