محمد آصف قریشی، حیدر آباد
سپرہائی وے (M-9) کراچی سے حیدر آباد جاتے ہوئے، جب ’’سر شاہ محمد سلیمان انٹرچینج‘‘ کا بورڈ آویزاں نظر آتا ہے، تو خیال آتا ہے کہ کتنے لوگ ہوں گے، جو سر شاہ محمد سلیمان سے واقف ہوں گے؟ سفر کے دوران مختلف مسافروں سے بھی دریافت کیا کہ جانتے ہیں، سر شاہ محمد سلیمان کون تھے؟ تو جواب نفی ہی میں آیا۔
یہ انتہائی افسوس ناک امر ہے کہ ہم نہ اپنے آباء کو یاد رکھتے ہیں، نہ ان کی گراں قدر خدمات سے واقف ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم آج علمی و فکری اعتبار سے دنیا میں بہت پیچھے ہیں۔ بہرحال، اس عظیم شخصیت کی خدمات و کارہائے نمایاں جاننے کی جستجو میں جو تفصیلات سامنے آئیں، پیشِ خدمت ہیں۔
مسلم یونی ورسٹی، علی گڑھ کے سابق وائس چا نسلر اور الٰہ آباد ہائی کورٹ کے پہلے چیف جسٹس، سرشاہ محمد سلیمان، اترپردیش کے ضلع جونپور کے ایک معزز علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد محمد عثمان جونپور کا شمار شہر کے بڑے وکلاء میں ہوتا تھا، جب کہ خانوادے کے ایک بزرگ، ملّا محمود، نیوٹن کے ہم عصر اور برصغیر کے مشہور طبیعات دان تھے۔
سر شاہ محمد سلیمان زندگی بھر علم و ہنر کے حصول کے لیے کوشاں رہے۔ 1906ء میں الٰہ آباد یونی ورسٹی سے نمایاں نمبرز سے گریجویشن میں کام یابی کے بعد کیمبرج یونی ورسٹی میں داخلہ لیا اور 1910ء میں قانون کی اعلیٰ ڈگری حاصل کرنے کے بعد وکالت کا پیشہ اختیار کیا۔ اسی سال یونی ورسٹی آف ڈبلن (آئرلینڈ) نے انہیں LL.Dکی ڈگری تفویض کی۔ 1912ء میں الٰہ آباد منتقل ہوگئے اور ہائی کورٹ میں پریکٹس شروع کردی۔
علم و فہم کا غیر معمولی ملکہ رکھنے کے سبب الٰہ آباد ہائی کورٹ میں معروف، جیّد قانون دانوں میں بہت جلد اپنی جگہ بنانے میں کام یاب ہوگئے اور محض 43 سال کی عُمر میں قائم مقام چیف جسٹس اور 46سال کی عُمر میں چیف جسٹس کے عہدے تک جا پہنچے۔ پانچ سال بعد انہیں فیڈرل کورٹ میں ترقی دے دی گئی۔ جو بذاتِ خود برطانوی دولتِ مشترکہ میں ایک ریکارڈ ہے۔
چیف جسٹس کی حیثیت سے میرٹھ سازش کیس جیسے اہم مقدمے میں مختصر وقت میں اُن کا دیا گیا تاریخی فیصلہ ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ برطانوی دورِ حکومت میں، جب نوکر شاہی کے ہر اقدام کو حرفِ آخر سمجھا جاتا تھا، انھوں نے ان مشکل ترین ایّام میں بھی عدلیہ کی آزادی مقدم رکھی، اُن کے دورِ منصبی میں حکومت اور قانون ساز اداروں کو عدلیہ کے معاملات میں مداخلت کی قطعی اجازت نہیں تھی۔
سرشاہ سلیمان ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ نہ صرف ایک بہترین ماہرِ تعلیم، عظیم قانون دان، بلکہ یوں کہیے، اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ اُنھوں نے الٰہ آباد اور علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سمیت کئی اداروں کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں وائس چانسلر کے طور پر بلامعاوضہ خدمات سرانجام دیں۔
اس دوران بے شمار اصلاحات کیں اور ادارے کو انتظامی و مالی بحران سے نکال کر ترقی کی راہ پر گام زن کردیا۔ خواتین کی تعلیم کے فروغ اور اردو زبان کو گریجویشن کی سطح تک مستقل مضمون کی حیثیت دینے کے علاوہ اعلیٰ سائنسی تحقیق اور زرعی و تیکنیکی اداروں کی ترقی کے متعدد منصوبے مکمل کروائے۔
ایک بہترین قانون دان کے علاوہ ریاضی اور سائنس کے شعبے میں بھی اُن کا کام نمایاں ہے۔ نیز، انہوں نے معروف سائنس دان، آئن اسٹائن کے نظریۂ اضافیت کو غلط قرار دے کر جب اس کی تردید میں ایک آرٹیکل لکھا، تو گویا پوری دنیا میں ہل چل مچ گئی۔
اس نابغۂ روزگار ہستی کا 13مارچ 1941ءکو محض 52برس کی عُمر میں مختصر علالت کے بعد دہلی میں انتقال ہوا۔ اُن کے جنازے میں قائدِ اعظم، محمد علی جناح سمیت بہت سی معزز شخصیات شریک تھیں اور آپ دہلی میں حضرت نظام الدین کی درگاہ میں معروف صوفی بزرگ امیر خسرو کے مزار کے احاطے میں آسودئہ خاک ہوئے۔