لگ بھگ چھے عشرے قبل، ایک اصطلاح ’’گلوبل ویلیج ‘‘ (عالمی گاؤں) نے جنم لیا، جو دراصل ایک نئے دَور کی ترجمانی کی عکّاس تھی۔یہ اصطلاح1960ء کی دہائی میں مارشل میکلوہن نے متعارف کروائی۔ جس کا مطلب تھا کہ جدید ٹیکنالوجی کے سبب دنیا ایک ایسے چھوٹے گاؤں میں تبدیل ہوگئی ہے، جہاں لوگ فوری طور پر معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں، ثقافتیں ملتی ہیں اور ہر کوئی ایک دوسرے سے خود کو منسلک محسوس کرتا ہے۔
یہ ایک ایسا تصوّر ہے، جہاں جغرافیائی سرحدیں کوئی معنی نہیں رکھتیں اور دنیا بھر کے لوگوں کے درمیان فکری، ثقافتی اور معاشی تعلقات بڑھ جاتے ہیں۔ بنیادی طور پر اس کے پسِ پردہ جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً الیکٹرانک میڈیا، ٹیلی وژن، ریڈیو اور دیگر تیز ترین رابطوں کا بنیادی کردار تھا، جنہوں نے انسانی تاریخ میں پہلی بار کرئہ ارض کے انسانوں کو اس طرح ایک دوسرے کے قریب کردیا، جیسے سب ایک ہی گاؤں کے باسی ہوں۔ اور پھر یہیں سے ٹیکنالوجی کے بَل بوتے پر جدید دنیا کی راہیں کُھلتی چلی گئیں۔
بعدازاں، اس نئے دَور کو ’’ڈیجیٹل ورلڈ‘‘ کا نام دیا گیا۔ ماہرین کے مطابق، ڈیجیٹل ورلڈ نے جہاں مادّی ترقی کے نام پر انسانی رابطوں کو جِلا بخشی، وہیں دوسری طرف بدسلوکی، ہراسانی اور تشدّد کی ایک نئی اور خاموش لہر کو بھی جنم دیا، جس سے زیادہ تر خواتین، بالخصوص نوجوان لڑکیاں متاثر ہورہی ہیں۔ موجودہ دَور میں یہ جسمانی تشدّد کے برعکس ذہنی اور اعصابی ہراسانی اور تشدّد کی ایک نئی شکل ہے، جسے ’’ڈیجیٹل یا آن لائن تشدّد‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔
اگرچہ ڈیجیٹل دنیا باہمی رابطوں میں بہتری اور لوگوں کو بااختیار بنانے کا وعدہ تھا، لیکن لاکھوں خواتین /لڑکیوں کے لیے یہ ایک ایسی جگہ بنتی جارہی ہے، جو تشدّد اور بدسلوکی سے عبارت ہے اور یہ طرزِ عمل خطرناک رفتار سے بڑھ رہا ہے۔ آن لائن ہراسانی اور تعاقب سے لے کر بدنامی، رضامندی کے بغیر تصاویر اور ویڈیو شیئرنگ اور ڈیپ فیک اور غلط معلومات کے پھیلاؤ تک کئی طرح کے تشدّد اب انٹرنیٹ کے ہر گوشے میں سرایت کرچکے ہیں، اس کے ذریعے خواتین کو خاموش، بدنام کرنے اور ڈرانے دھمکانے کا کام لیا جارہا ہے۔
ڈیجیٹل تشدّد میں آن لائن جنسی ہراسانی، تعاقب، دھمکی آمیز پیغامات اور مخالف فریق کی منشا و رضامندی کے بغیر تصاویر اور ویڈیوز کا منفی انداز میں استعمال نمایاں ہے۔ اور پھر حال ہی میں ’’آن لائن ٹرولنگ‘‘ کے بڑھتے رجحان نے ڈیجیٹل تشدّد کی جو نئی صنف متعارف کروائی ہے، اس نے معاشرتی استحکام کا ڈھانچا ہی بگاڑ کرغیر متوازن کردیا ہے۔
جس کے نتیجے میں سوشل میڈیا پر اکثر و بیش تر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے توہین آمیز، اشتعال انگیز اور گُم راہ کُن مواد پوسٹ کرکے کسی جماعت یا فردِ واحد کی ذاتی زندگی کو نشانہ بناکر اُس کی ساکھ متاثر کی جاتی ہے۔ ماہرین بھی اب یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ ڈیجیٹل دنیا نے جہاں رابطوں میں آسانی پیدا کی، وہیں تشدّد کی ایک ایسی بدترین لہر کو بھی جنم دیا ہے، جو خاص طور پر خواتین کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔
آن لائن حملے اکثر سادہ گفتگو کی آڑ میں شروع ہوتے ہیں اور آہستہ آہستہ نفسیاتی دباؤ، خوف اور بداعتمادی میں بدل جاتے ہیں۔اور پھر سوشل میڈیا پلیٹ فارمزسے جھوٹی، بے بنیاد معلومات کا پھیلاؤ کردار کشی، اے آئی کے ذریعے تیار کردہ جعلی مواد اور ذاتی تصاویر کا غلط استعمال محض اسکرین تک محدود نہیں رہتا، لوگوں کی حقیقی زندگیوں میں داخل ہوکر انھیں بھی سبوتاژ کرتا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل تشدّدکے خاتمے کے لیے سالِ گزشتہ2025ء میں، 25نومبر سے 10دسمبرتک صنفی بنیادوں پر اقوامِ متحدہ کے ادارے کے تحت ایک عالمی مہم بھی چلائی گئی، جس کا موضوع ’’تمام خواتین اور لڑکیوں کے خلاف ڈیجیٹل تشدد کے خاتمے کے لیے اکٹھے ہوں‘‘ تھا۔ مہم کا مقصد خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے آن لائن اور آف لائن تشدد کے خطرات سے آگاہی اور ڈیجیٹل حفاظت کی اہمیت اُجاگر کرنا تھا۔
اس موضوع پر اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں پاکستان سے متعلق بتایا گیا کہ ’’گزشتہ پانچ برسوں کے دوران پاکستان میں لگ بھگ18لاکھ خواتین کو ہراسانی، ڈیجیٹل تعاقب اور بلیک میلنگ کا سامنا کرنا پڑا، جب کہ اس کے مقابلے میں صرف تین سے چار فی صد مجرموں کو سزادی جاسکی، ‘‘ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ پر پاکستان کے سنجیدہ حلقوں میں اس لیے بھی حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ملک میں اس طرح کے جرائم کے خلاف پہلے ہی سے ’’پیکا‘‘ کے تحت سزائیں مقرر ہیں، جن میں سائبر اسٹاکنگ، سائبر دہشت گردی، بے بنیاد اور غلط معلومات پھیلانا، بلااجازت انفارمیشن سسٹم تک رسائی اور ڈیٹا کو نقصان پہنچانا وغیرہ قابلِ ذکر ہیں اور ان میں ملوث افراد کے لیے تین سے پانچ سال تک قید کی سزا سے لے کر20لاکھ روپے تک جرمانہ یا بہ یک وقت دونوں سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔
اس حوالے سے پاکستان میں اقوامِ متحدہ کی قائم مقام ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر، پرنیلے آئرن سائیڈ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ’’ دنیا کی تقریباً نصف خواتین ڈیجیٹل تشدّد کے خلاف قانونی تحفّظ سے محروم ہیں، حالاں کہ ڈیجیٹل تشدّد بھی حقیقی تشدّد ہے کہ ایسی آن لائن زیادتی کا کوئی جواز نہیں۔
سو، آن لائن اور حقیقی دنیا میں صنفی تشدّد کے خلاف جنگ میں ہر شعبے کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ دراصل، ’’یہ ڈیجیٹل تشدد یا آن لائن حملے اکثر سادہ گفتگو کی آڑ میں شروع ہوتے ہیں، مگررفتہ رفتہ نفسیاتی دباؤ، خوف اور بداعتمادی میں بدل جاتے ہیں۔‘‘ جب کہ چند برس قبل ’’ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن‘‘ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھاکہ ’’2023ءتک ڈیجیٹل تشدّد کا نشانہ بننے والوں میں50فی صد تعداد صرف خواتین کی تھی، جس میں اب پچھلے چند برسوں کے دوران مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔‘‘
مذکورہ حقائق کے تناظر میں کسی فرد، تنظیم یا حکومتی سطح پربھی کسی نے اس نکتے پر غورنہیں کیا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے اس ڈیجیٹل ہراسانی اور تشدّد کے نتیجے میں خواتین کس طرح ڈیپریشن، اضطراب اور نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوکر سماجی علیٰحدگی کا شکار ہو جاتی ہیں؟اور اس دورِ جدید میں اگرکچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ سوشل میڈیا کے محدود استعمال کے سبب ڈیجیٹل بدسلوکی یا ڈیجیٹل حملوں سے محفوظ ہیں، تو اُن کی خوش فہمی دُور کرنے کے لیے ایک فیملی کے ساتھ پیش آنے والا یہ واقعہ کافی ہے۔
جس میں ایک متوسّط، پردے دار گھرانے سے تعلق رکھنے والی ایک بیس سالہ لڑکی، جو خاندان کی ایک شادی کی رسمِ حنا میں شریک تھی اور جو خالصتاً خواتین کا فنکشن تھا، اُس میں ہم عُمر سہیلیوں کے اصرار پر وہ دورانِ رسم ایک رقص میں شامل ہوگئی، تو اگلے روز سوشل میڈیا پر رقص کی وہ ویڈیو موجود تھی، جسے کیمرے نے زوم کرکرکے دکھایا۔
ویڈیو پر لائیکس اور کمنٹس کی بھر مار تھی، یہاں تک کہ کچھ مَردوں کے غیر اخلاقی ریمارکس بھی موجود تھے۔ لڑکی نے اکاؤنٹ کی ایڈمن سے اُسے فوری ڈیلیٹ کرنے کو کہا۔ ایڈمن نے ویڈیو ڈیلیٹ تو کردی، لیکن اُس وقت تک سیکڑوں پیجز اور اکاؤنٹس ’’کِلکس‘‘ اور ’’لائیکس‘‘ کے حصول کے لیے طرح طرح کے کمنٹس کے ساتھ اُسے شئیر کرچکے تھے۔
اصل المیہ یہ ہے کہ بنیادی طور پر ’’ڈیجیٹل ورلڈ‘‘ جو باہمی رابطوں میں ہم آہنگی اور لوگوں کو بااختیار اور باصلاحیت بنانے کا نعرہ لے کر میدان میں آیا تھا، اب بدقسمتی سے تشدّد اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کے ایک ایسے پلیٹ فارم کا رُوپ دھار چُکا ہے، جس میں کسی کی ذاتی معلومات، بغیر اجازت کھینچی گئی تصاویراور ویڈیوز بآسانی اَپ لوڈ کردی جاتی ہیں اور اس کا زیادہ تر نشانہ خواتین ہی بن رہی ہیں۔
عالمی طور پر بھی اب ماہرین بھی اس خدشے کا برملا اظہار کرتے نظر آرہے ہیں کہ جس خطرناک رفتار سے ڈیجیٹل تشدّد دنیا بھر میں پھیل رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ موثر قوانین و احتساب کی عدم دست یابی کے ساتھ ساتھ تیزی سے پھیلتے مصنوعی ذہانت کے ناسور کا منفی استعمال اور حکومتوں کی اس سے مسلسل چشم پوشی اور یہ امر اب اقوامِ عالم کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے۔
گرچہ اقوامِ متحدہ نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو محفوظ اور اخلاقی معیار کے مطابق بنانے کے لیے عالمی سطح پر تعاون کی اپیل کی ہے اور تجویز کیا ہے کہ ’’ڈیجیٹل تشدّد کے متاثرین کی حمایت اور مدد کو یقینی بنا کر مجرموں کا بہتر قوانین اور اُن پر مؤثر عملدرآمد کے ذریعے احتساب کیاکیا جانا چاہیے۔
‘‘نیز، ٹیکنالوجی پرووائڈر کمپنیز پر بھی زور دیا کہ وہ آن لائن پلیٹ فارمز کو محفوظ بنانے کے عمل میں خواتین کو شامل کریں، نقصان دہ مواد فوری طور پر ہٹائیں اور صارفین کی شکایات سنجیدگی سے حل کریں۔
تاہم، ضرورت اس بات کی ہے کہ آن لائن تشدّد کے خلاف ایک متحد محاذ قائم کرکے نقصان دہ مواد ہٹانے اور شکایات پر فوری کارروائی کے لیے اقدامات کے ساتھ خواتین میں ڈیجیٹل خواندگی بڑھائیں۔ اور آن لائن حفاظت کی تربیت اور زہریلے آن لائن کلچر کے مقابلے کے لیے مزید مربوط پروگرامز تشکیل دیئے جائیں۔