میمونہ ہارون (ریاض، سعودی عرب)
بِلاشُبہ آج بھی ہمارے معاشرے میں مَردوں کو خواتین سے زیادہ آزادی و خُود مختاری میسّر ہے اور عورت کی نسبت مَرد کی کسی غلطی یا لغزش کو بہ آسانی معاف کردیا جاتا ہے۔ دراصل، اس امتیازی رویّے کی بنیاد بچپن ہی میں رکھ دی جاتی ہے کہ جب لڑکے کی کوئی بھی خطا یہ کہہ کر معاف کردی جاتی ہے کہ لڑکے ایسے ہی ہوتے ہیں، جب کہ لڑکیوں کو ہر آن محتاط رہنے کا درس دیا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے، ہمارے معاشرے میں ایک عورت اپنی تمام تر زندگی کسی سفاک انسان کے ساتھ صرف اِس لیے گزار دیتی ہے کہ اُسے معلوم ہوتا ہے، اُس سے نجات حاصل کرنے کے بعد بھی اُسے نجات نہیں ملے گی۔ ہمارے دقیانوسی خیالات ہی کے سبب عموماً شوہر کے مظالم کی شکار عورت کے لیے اچّھی اور پُرسکون زندگی کے وہ تمام تر راستے بھی بند کردیے جاتے ہیں کہ جو اُسے شریعتِ مطہرہ نے عطا کیے ہیں۔ یاد رہے، کتنی ہی صحابیاتؓ ایسی گزری ہیں کہ جن کے عقدِ ثانی ہوئے۔
عموماً ایک لڑکی جب اپنی والدین کا گھر چھوڑتی ہے، تو وہ دل و جاں سے ایک خُوب صُورت آشیانہ بسانے کی خواہاں ہوتی ہے اور زیادہ تراِس ضمن میں بھرپور کوششیں بھی کرتی ہیں۔ دوسری جانب بے شک مرد قوّام ہے، مگر قوّام ہونے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ عورت کو اُس کی جاگیر بنایا دیا جائے۔ قوّام ہونا ایک بہت بڑی ذمّےداری ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ دن بَھر موبائل فون پر ویڈیو گیمز کھیلنے والا ایک نکمّا، نکھٹو مَرد نکاح کے تحت کسی کی بیٹی کو اپنا محکوم بنا کر اُسے بھی ویڈیو گیم ہی کا ایک کردار سمجھنا شروع کردے۔
جب اُس سے دل بَھرجائے، تو ایک نئے کھلونے کی تلاش میں نکل کھڑا ہو، جب کہ کچھ مَرد تو اس قدر بےحِس ہوتے ہیں کہ اپنی شریکِ حیات کی زندگی کےمحض قیمتی لمحات اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں کہ جب وہ اپنا سب کچھ اپنے شوہر، بچّوں، سسرال پر نچھاور کرکے ناتواں ہو جاتی ہے، تو اُسےاپنی زندگی سے ایسے نکال باہر کرتے ہیں، جیسے دُودھ سے مکھی۔
ایک عورت اپنے خاوند، بچّوں کی محبّت اور ایک آشیانے کی تعمیر کی خاطر اپنا پورا وجود جھونک دیتی ہے، اپنی ضروریات، ارمانوں، خواہشات کا گلا گھونٹ ڈالتی ہے اور برسوں یہ سوچ کر ایک ایک روپیا جمع کرتی رہتی ہے کہ اُس کی یہ جمع پونجی بچّوں کے بہتر مستقبل پرخرچ ہو گی۔ جب کہ اُس کا خود غرض، مفاد پرست شوہر اُسے ناطاقتی کی حالت میں اپنی زندگی، گھر سے نکالتے ہوئے اُس کی سب محنتیں، خدمتیں، وفائیں گویا بالائے طاق رکھ دیتا ہے۔
اب تو یہ مقولہ بھی فرسودہ ہوچُکا کہ ’’مَرد کے دل میں اُترنے کا راستہ معدے سے ہوکر گزرتا ہے‘‘ کیوں کہ بہت سی مظلوم خواتین اپنی پوری زندگیاں چولھوں کے سامنے جھونک کر بھی وہ رستہ تلاش نہ کرپائیں۔ پلاؤ پکائیں، تو صاحب کو بریانی کھانے کی خواہش ہوتی ہے۔ بریانی بنادی، تو پائے یاد آجاتے ہیں اور اگر حسبِ منشاء سب کچھ موجود ہو، تو پھر ڈائٹ پلان کی خواہش جاگ اٹھتی ہے۔
یعنی؎ ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا۔ یہ کوئی افسانوی باتیں نہیں، حقیقتاً اِن سے بھی کہیں زیادہ سنگین واقعات پاکستان جیسے اسلامی معاشرے میں پیش آرہے ہیں۔ اس کے برعکس خطّۂ عرب، بالخصوص سعودیہ میں ایسےحالات ہرگز نہیں۔ یہاں آج بھی عورت کو گوہرِ نایاب ہی سمجھا جاتا ہے۔
شادی سے پہلے لڑکی کے والدین یا متولّی کی جانب سے لڑکے کو اس بات کا پابند کیا جاتا ہے کہ وہ شادی سے پہلے لڑکی کے لیے ذاتی گھر کا بندوبست کرے اور اگر وہ اس کی طاقت نہیں رکھتا، تو پھر حق مہر میں ایک معقول رقم اور طلائی زیورات لکھوائے جاتے ہیں۔ اسی طرح شادی کے بعد لڑکے کے والدین اور اہلِ خانہ اِن میاں بیوی کی زندگی میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرتے۔ اُنہیں نہایت عزّت و اکرام کے ساتھ اپنی زندگی گزارنے کا حق دیتے ہیں۔
اِن سب باتوں کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ نکاح کو اس قدر مشکل اَمر بنا دیا جائے کہ لڑکوں کے لیے گھر بسانا ہی محال ہوجائے۔ مگر ہمارے معاشرے میں لڑکیاں اور اُن کے والدین جس ظلم وزیادتی کا شکار ہیں، یہ طرزِ عمل نہ صرف اُس کا سدِباب کرسکتا ہے بلکہ اس طور لڑکیوں کو معاشرے میں ایک باوقار مقام بھی حاصل ہوگا، جو شریعتِ اسلامی کے عین مطابق ہے۔
دوسری جانب نام نہاد حقوقِ نسواں کی علم بردار تنظیمیں اسلامی تعلیمات سے دُوری کے سبب ہمارے معاشرے میں خواتین پر جاری مظالم کی آڑ میں بالخصوص نوجوان لڑکیوں کو اسلامی طرزِ زندگی و معاشرت سے بدظن اور متنفّر کرنے کے درپے ہیں۔ یاد رہے، شوہر کا گھر ہی ایک عورت کی سب سے بڑی جائے پناہ ہوتی ہے اور ہر عورت ہی فطری طور پر محبّت و اُلفت سے گُندھی، خلوص ووفا کی مُورت ہوتی ہے۔
محبّتیں بانٹنے سے اُس کی رُوح کو غذا ملتی ہے، توحُسنِ سلوک گُھٹی میں پڑا ہوتا ہے۔ ایک ذمّےدار اور اچّھے شوہر کی اطاعت سے اُسے دلی سکون ملتا ہے۔ اُس کے نازک و ناتواں کندھے بڑے بڑے کاموں کا بوجھ نہیں اُٹھا سکتے، سو یہ اُس کی تخلیق کا تقاضا ہے کہ اُس کے محرم مَرد اُسے بڑے بڑے بُحرانوں اور طوفانوں سے محفوظ رکھیں۔
تو ہمیں بھی اِن آبگینوں سے یہی کہنا ہے کہ یاد رکھو، اپنے مَردوں کی اطاعت ظلم نہیں، بلکہ عقل مندی اور جینے کا قرینہ ہے۔ اغیار ایک سازش کےتحت ہمیں اپنے اصل سے دُور کر رہے ہیں، مگر تمھیں اپنی اقدار و روایات کا خیال رکھنا، شعور کو بےدار کرنا ہے۔ ٹھیک ہے، ظُلم کو سہنا بھی ایک بڑا ظُلم ہے، مگر مرض کی غلط تشخیص اور غلط علاج زیادہ مُہلک ثابت ہورہے ہیں۔
یاد رکھو، حلال بندھن میں بندھ کر مَردوزن کا ایک دوسرے کی جائز ضروریات پوری کرنا ایک ربط، ایک تعلق کا آغاز ہے اور یہ تعلق بتدریج مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ کسی کی خدمت، کسی کے کام آنا یا کسی کی کوئی ادنیٰ سی ضرورت پوری کرنا بھی دراصل ایک نئے تعلق کی کڑی ہوتی ہے، جو وقتی ضرورت کی تکمیل کے بعد پھر مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی جاتی ہے۔
پیاری حوّا زادیو! تم جذبات و احساسات سے گندھی، اللہ کی ایک حسین ترین تخلیق ہو۔ احساس تمہاری رُوح کا جوہر ہی نہیں، تمہاری رگوں میں گردش کرنے والا ایک خُوب صُورت عُنصر بھی ہے اور پیارومحبّت، ایثاروقُربانی اور مہر و وفا اس کی ٹہنیوں پر اُگنے والے وہ مہکتے پھول ہیں، جن کے گُل دستے بنا کر تم صُبح و شام اپنے گھروں کے مکینوں کو پیش کرتی ہو۔ جب کہ جواب میں صرف تھوڑی سی توجّہ اور قدر مانگتی ہو کہ ؎ مِرے خدا مُجھے اتنا تو معتبر کردے…مَیں جس مکان میں رہتا ہوں، اُس کو گھر کر دے۔
یہ تمہارا حق ہے اور تمہیں تمہارا حق ضرور ملنا چاہیے، لیکن اگر تمہیں تمہارا حق نہیں ملتا، تو کیا تمہیں اپنے دل کے گلستاں سے پُھولوں کو نوچ پھینکنا چاہیے؟ اگر ہمارے خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو رہے، تو کیا ہم خواب دیکھنا ہی چھوڑ دیں؟ یاد رکھنا، اگر ہم نے اپنے ٹھنڈے، میٹھے جذبات سے مہکتے گلاب اپنے دامن سے گرا دیے، تو یہ بہت بڑا خسارہ ہوگا، کیوں کہ اِن کی خوش بُو تو ہمارے مَن آنگن میں مہکتی ہے۔
ہماری رُوح کا جوہر، سانسوں کا ایندھن ہے۔ اِسےخُود سے جُدا کر کے شاید ہم، ’’ہم‘‘ ہی نہ رہیں، ہمارا تشخّص ہی الٹ جائے کہ یہی جذبے تو ہماری نسوانیت کی پہچان ہیں۔ ہم خُود ملکہ بن جائیں اور اپنے شوہروں کو بادشاہ بنادیں۔ بےشک، ہمیں ہی شبِ سیاہ کو فروزاں کرنا اور طلوع ہوتے سورج کی کرنیں بننا ہے۔