• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نشتر ہسپتال ٹو کے ملازمین کا چار ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کیخلاف احتجاج

ملتان (سٹاف رپورٹر) نشتر ہسپتال ٹو کے ملازمین نے چار ماہ سے تنخواہوں کی مبینہ عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج کیا ، 400 سے زائد ورکرز نے کام چھوڑ ہڑتال کی ، جس کے باعث ہسپتال کے معمولات بری طرح متاثر ہوئے ،احتجاجی ملازمین ہسپتال سے باہر روڈ پر آگئے اور شجاع آباد روڈ پر دھرنا دے کر سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا، مظاہرین نے نشتر ہسپتال ٹو کا مرکزی گیٹ بھی بند کر دیا ،مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ چار ماہ سے باقاعدگی سے ڈیوٹیاں انجام دے رہے ہیں، مگر اس کے باوجود انہیں تنخواہیں ادا نہیں کی جا رہیں، کام کرنے کا معاوضہ نہ ملنے کے باعث گھروں میں فاقوں کی نوبت آ چکی ہے ،ملازمین کا کہنا تھا کہ بارہا انتظامیہ کو تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق آگاہ کیا گیا، مگر کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا،احتجاج کے پیش نظر مقامی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور مظاہرین سے مذاکرات شروع کیے ۔ پولیس حکام نے مظاہرین کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے مطالبات متعلقہ حکام تک پہنچائے جائینگے،جس پر مظاہرین منتشر ہوگئے،۔شہریوں اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ نشتر ہسپتال ٹو جیسے بڑے سرکاری ادارے میں تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور انتظامی خلا صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ انکا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری نوٹس لے، ملازمین کے واجبات ادا کرے اور ہسپتال کو مستقل انتظامی ڈھانچہ فراہم کرے ۔ذرائع کے مطابق نشتر ہسپتال ٹو اس وقت مستقل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) کے بغیر چلایا جا رہا ہے۔ سابق ایم ایس ڈاکٹر اظہر نقوی کے تبادلے کے بعد تاحال کسی مستقل ایم ایس کی تعیناتی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔ احتجاج کے باعث مریضوں اور ان کے لواحقین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ملتان سے مزید