• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شاپنگ پلازہ، 85 لاپتا افراد کے زندہ ہونے کی امیدیں ماند، اموات 28 ہوگئیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی میں آتش زدگی کا شکار گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں فائر بریگیڈ اور ریسکیو اہلکاروں کی کارروائیاں جاری ہیں جہاں دو فلورز کو کلیئر کردیا گیا ہے‘دم گھٹنے اور جھلس کر جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد28ہوگئی جبکہ 85لاپتہ افرادکی تلاش جاری ہے جن کے زندہ ہونے کی امیدیں ماند پڑنے لگیں‘خاتون سمیت 8لاشیں لواحقین کے سپردکردی گئیں۔ سربراہ شناخت پروجیکٹ سی پی ایل سی عامر حسن کے مطابق گل پلازہ سے انسانی اعضاء نکالے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔مزید تین افراد کے انسانی اعضاء سول اسپتال منتقل کیے گئے ہیں‘پوسٹ مارٹم کیا جا چکا ہے اور59افرادکے نمونے ڈی این اے کے لیے حاصل کیے جا چکے ہیں ۔تمام نمونے سندھ فرانزک ڈی این اے لیبارٹری جامعہ کراچی کو ارسال کر دئیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ منگل کو 33 سالہ خاتون مصباح کی شناخت ان کے گلے میں موجود لاکٹ کے ذریعے ان کے لواحقین نے کی ہے۔ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے بتایا کہ 85افرادکی اب تک گمشدگی ہیلپ ڈیسک پر رپورٹ ہوئی ہےجبکہ 27اموات اب تک کنفرم ہوئی ہیں ‘ہماری کوشش ہے کہ شناخت کا عمل جلد از جلد مکمل ہو۔انہوں نے بتایا کہ رمپا پلازہ کی مضبوطی سے متعلق ایس بی سی اے سے رپورٹ مانگ لی ہے۔ایس بی سی اے کی رپورٹ کی بنیاد پر رمپا پلازہ سے متعلق فیصلہ کریں گے۔ آپریشن مکمل ہونے میں وقت لگ سکتا ہے ۔ڈی سی ساؤتھ نے بتایا کہ تحقیقاتی کمیٹی کا منگل کوپہلا اجلاس ہوا ہے۔ایس ایس پی سٹی عارف عزیز نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے بتایا کہ جاں بحق افراد کی تعداد بیس سے زائد ہوچکی ہے۔ ہم ریسکیو ٹیموں کے ڈیٹا کو کنفرم نہیں کریں گے، ابھی تک 13 لاشوں کی تصدیق کرسکتا ہوں جس کے قانونی تقاضے پورے ہو گئے ہیں‘دکانوں سے نکالا گیاملبہ اور سامان کے ایم سی گراونڈ منتقل کیا جارہا ہے ۔گل پلازہ سانحے میں جاں حق افراد کی مزید چھ سوختہ لاشوں کے نمونے منگل کوجامعہ کراچی لائے گئے جبکہ پیر کو کو بھی 6 چھ سوختہ لاشوں کے نمونے لائے گئے تھے ‘جامعہ کراچی کے مطابق لاشوں کی شناخت کے لیے متاثرہ خاندانوں سے منگل کو 37 ریفرینس نمونے بھی موصول ہوئے ہیں جبکہ پیر کو 10 موصول ہوئے تھے اس طرح ریفرینس نمونوں کی تعداد 47 ہوگئی۔علاوہ ازیں نیو کراچی کے رہائشی یاسین آدم بھی سانحہ گل پلازہ میں لاپتہ افراد میں شامل ہیں۔ معمر حاجی محمد حسین کو خالہ زاد بھائی کی تلاش ہے۔یاسین آدم دو بچوں کے باپ اور گل پلازہ میں جیولری شاپ میں ملازم تھے۔حاجی محمد حسین نے بتایا کہ جب سے واقعہ ہوا ہے یاسین آدم کا کچھ پتہ نہیں لگ رہا ۔

اہم خبریں سے مزید