پشاور(نیوز رپورٹر)پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز انور نے عدالتی احکامات کے باوجود سرکاری اشتہارات کی مد میں اخبارات کو بقایا جات کی عدم ادائیگی پر سیکرٹری فنانس کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت مانگ لی ہے۔ عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے یہ احکامات گزشتہ روز کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) خیبر پختونخوا کے چیئرمین طاہر فاروق کی جانب سے شاہد نسیم چمکنی اور احسن مسعود ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائر توہین عدالت کی درخواست پرجاری کئے اس موقع پر عدالت کو بتایاگیا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے اخبارات کو جاری کردہ سرکاری اشتہارات کی مد میں تقریبا ایک ارب 80 کروڑ روپے کی ادائیگی کے لئے سال 2023 میں رٹ پٹیشن دائر کی گئی اور رٹ کی سماعت کے دوران بقایا جات کو تسلیم کیاگیا تاہم ری کنسی لیشن کے لئے مہلت طلب کی گئی اور عدالت عالیہ نے 22 مئی 2024 کو اخبارات کو بقایاجات کی ادائیگی کے احکامات جاری کرتے ہوئے رٹ پٹیشن نمٹا دی تاہم اتناعرصہ گزرنے کے باوجود تاحال بقایا جات ادا نہیں کی جا رہے ہیں۔ اس بناء پر متعلقہ حکام کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے گزشتہ روز فاضل بنچ کو بتایا گیا کہ ری کنسی لیشن تقریبا مکمل ہو گئی ہے محکمہ فنانس سے 800 ملین روپے طلب کئے ہیں تاہم محکمہ فنانس رقم ادا نہیں کر رہا ہے ،جس پر فاضل جسٹس اعجاز انور نے توہین عدالت کی درخواست پر سیکرٹری فنانس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اگلی پیشی پر وضاحت مانگ لی اور سماعت ملتوی کر دی۔