کراچی (رفیق مانگٹ) ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس میں تیز رفتار ترقی کو بنیاد بناتے ہوئے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ 10سے20برس میں انسانوں کے لیے کام کرنا لازمی نہیں رہے گا، پیسے کی اہمیت ختم ہو جائے گی، لاکھوں روبوٹس افرادی قوت کی جگہ لیں گے، صحت کے شعبے میں روبوٹ سرجن عام ہوں گے، انسانی عمر میں نمایاں اضافہ ممکن ہوگا اور ریاستوں کو یونیورسل انکم جیسے ماڈلز پر جانا پڑے گا،انسانی عمر کی حد ایک پروگرامنگ مسئلہ ،اے آئی کی مدد سے اس پروگرام کو بدلا جا سکتا ہے، تاہم ماہرینِ معیشت اس وژن کے وقت، لاگت اور سماجی اثرات پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہے ہیں۔،چیٹ جی پی ٹی کے بعد روزگار پر واضح منفی اثرات نہیں آئے،امریکی جریدے فارچیون کے مطابق ایلون مسک نے واشنگٹن میں منعقدہ یو ایس سعودی انویسٹمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں کام کرنا کھیل یا ویڈیو گیم کھیلنے جیسا ہوگا۔