• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تنازعات کے حل کے لیے نئی عالمی تنظیم ’بورڈ آف پیس‘ کے قائم کا اعلان کردیا ہے، تاہم اس کی مستقل رکنیت کے لیے ممالک سے بھاری رقم طلب کرلی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ چارٹر کے مطابق ٹرمپ حکومت نے بورڈ آف پیس کی مستقل رکنیت کے لیے ممالک سے ایک ارب ڈالر فیس طلب کی ہے۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ بورڈ ابتداً غزہ کی تعمیرِ نو کی نگرانی کے لیے تصور کیا گیا تھا، تاہم دستاویز میں اس کے کردار کو صرف فلسطینی علاقوں تک محدود نہیں کیا گیا۔

بورڈ کا کردار کیا ہوگا؟

چارٹر کے مطابق بورڈ آف پیس کی صدارت خود ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے جبکہ اسے تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں امن کے قیام کےلیے بنایا گیا ہے۔

چارٹر میں کہا گیا کہ یہ ایک بین الاقوامی تنظیم ہے جو استحکام کے فروغ، قابلِ اعتماد اور قانونی طرزِ حکمرانی کی بحالی اور تنازعات سے متاثرہ یا خطرے سے دوچار علاقوں میں دیرپا امن کے قیام کی کوشش کرے گی۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ بورڈ بین الاقوامی قانون کے مطابق امن سازی سے متعلق فرائض انجام دے گا۔

بورڈ کو کون چلائے گا؟

چارٹر کے مطابق ٹرمپ بورڈ کے چیئرمین ہوں گے اور چیئرمین کو ذیلی ادارے قائم کرنے، ان میں ترمیم یا انہیں ختم کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہوگا تاکہ بورڈ آف پیس کے مشن کو پورا کیا جا سکے۔

ٹرمپ ایک ایگزیکٹو بورڈ کے ارکان کا بھی انتخاب کریں گے، جو عالمی رہنما ہوں گے اور دو سالہ مدت کے لیے خدمات انجام دیں گے، تاہم چیئرمین کے پاس اختیار ہوگا کہ وہ کسی بھی وقت انہیں ہٹا سکیں گے۔

چیئرمین بورڈ کی جانب سے قراردادیں یا دیگر ہدایات بھی جاری کر سکتے ہیں۔

چیئرمین کو صرف رضاکارانہ استعفیٰ یا نااہلی کی صورت میں تبدیل کیا جا سکے گا۔

رکن کون بن سکتا ہے؟

رکن ممالک کو امریکی صدر کی جانب سے دعوت دی جائے گی اور ان کی نمائندگی سربراہِ مملکت یا حکومت کرے گی۔

چارٹر کے مطابق ہر رکن کی مدت زیادہ سے زیادہ تین سال ہوگی۔ تاہم یہ شرط ان ممالک پر لاگو نہیں ہوگی جو چارٹر کے نفاذ کے پہلے سال میں بورڈ آف پیس کو ایک ارب ڈالر سے زائد نقد رقم فراہم کریں گے۔

بورڈ سال میں کم از کم ایک مرتبہ ووٹنگ اجلاس منعقد کرے گا اور ہر رکن ملک کو ایک ووٹ حاصل ہوگا۔

تمام فیصلے موجود اور ووٹنگ میں حصہ لینے والے ارکان کی اکثریت سے ہوں گے لیکن انہیں چیئرمین کی منظوری بھی درکار ہوگی۔ ٹائی کی صورت میں چیئرمین کو فیصلہ کن ووٹ دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔

ایگزیکٹو بورڈ میں کون شامل ہے؟

وائٹ ہاؤس کے مطابق ایگزیکٹو بورڈ تنظیم کے مشن کو عملی شکل دے گا۔ اس کی صدارت بھی ٹرمپ کریں گے اور اس میں سات ارکان شامل ہوں گے۔ جن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف، ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر، امریکی ارب پتی فنانسر مارک روون، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا، اور نیشنل سیکیورٹی کونسل میں ٹرمپ کے قریبی معاون رابرٹ گیبریل شامل ہوں گے۔

کن ممالک کو دعوت دی گئی؟

درجنوں ممالک اور رہنماؤں نے تصدیق کی کہ انہیں دعوت موصول ہوئی، جن میں چین، بھارت، روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن، یوکرین کے صدر وولودومیر زیلنسکی اور کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور ارجنٹائن کے صدر خاویر میلی نے بھی دعوت کی تصدیق کی ہے، جبکہ دیگر ممالک میں اردن، برازیل، پیراگوئے، پاکستان سمیت یورپ، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک شامل ہیں۔

کون شامل ہوگا؟

البانیا سے ویتنام تک کئی ممالک نے بورڈ میں شمولیت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

یورپی یونین میں ٹرمپ کے سب سے بڑے حامی ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

کینیڈا نے شرکت کی تصدیق تو کی ہے، تاہم مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر ادا کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔

یہ واضح نہیں کہ آرمینیا، بیلاروس، قازقستان، مراکش اور ویتنام جیسے دیگر مثبت جواب دینے والے ممالک یہ رقم ادا کریں گے یا نہیں۔

کون شامل نہیں ہوگا؟

امریکا کا دیرینہ اتحادی فرانس اس بورڈ میں شامل نہیں ہوگا۔ اس اعلان کے بعد ٹرمپ نے فرانسیسی شراب پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی۔

دوسری جانب یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس کے ساتھ ایک ہی کونسل میں شامل ہونا انتہائی مشکل ہوگا، تاہم سفارتی سطح پر بات چیت جاری ہے۔

آغاز کب ہوگا؟

چارٹر کے مطابق تین ممالک کی جانب سے باضابطہ رضامندی ظاہر کیے جانے کے بعد یہ معاہدہ نافذ العمل ہوجائے گا۔

خاص رپورٹ سے مزید