• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بیرون ملک سے درآمد نئے اور استعمال شدہ موبائل فونز پر کسٹم ویلیو پر نظر ثانی، 4 بڑے برانڈز کے 62 ماڈلز سستے ہونگے

اسلام آباد (مہتاب حیدر)بیرون ملک سے آنے والے پرانے موبائل فونز کی کسٹمز ویلیو میں کمی،4بڑےبرانڈز کے62 ماڈلز سستے ہونگے، ایف بی آر کسٹمز ویلیو ایشن نے 62 موبائل ماڈلز کے نئے اور کم ریٹس مقرر کر دیے۔ تفصیلات کے مطابق ایف بی آر کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیوایشن کراچی نے بیرون ملک سے درآمد کیے جانے والے پرانے اور استعمال شدہ موبائل فونز کی کسٹمز ویلیوز میں نظرثانی کی ہے۔ اس اقدام سے درآمد شدہ موبائل فون سیٹس پر عائد پی ٹی اے ٹیکس میں کمی واقع ہوگی۔ نظرثانی شدہ ویلیوایشن ریٹس کے تحت، ایف بی آر کی کسٹمز ویلیوایشن میں چار معروف برانڈز کے 62 ماڈلز شامل کیے گئے ہیں، جن میں ایپل، سام سنگ، گوگل پکسل اور ون پلس شامل ہیں، کیونکہ ان کی کسٹمز ویلیوز یا تو کم کی گئی ہیں یا پہلی مرتبہ مقرر کی گئی ہیں۔ نئے ویلیوایشن ریٹس کے تحت ایپل برانڈ کے آئی فونز کی کسٹمز ویلیو میں 32 فیصد سے 89 فیصد تک کمی کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں پی ٹی اے ٹیکس میں نمایاں کمی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ویلیو ایشن کے عمل میں شامل حکام کے مطابق سابقہ طریقہ کار میں قیمتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے ، انڈر انوائسنگ اور استعمال شدہ فونز کی ’’گریڈنگ‘‘ سے کلیئرنس میں تاخیر ، اخراجات میں اضافے کا بوجھ صارفین پر پڑتا تھا ۔تفصیلات کے مطابق ایپل کی ڈیوائسز، جو استعمال شدہ فونز کی مارکیٹ میں سب سے زیادہ مقبول ہیں، ان کے آئی فون 11، آئی فون 12، اور آئی فون 13 سیریز جیسے ماڈلز کی کسٹمز ویلیو میں نمایاں کمی کر دی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں ان کی تشخیصی قیمتیں اب ماڈل اور جنریشن کے لحاظ سے تقریباً 95 ڈالر سے 295 ڈالر تک کی رینج میں آ گئی ہیں۔ اس فہرست میں آئی فون 14 اور آئی فون 15 کے مختلف ماڈلز جیسے مہنگے استعمال شدہ فونز کو بھی شامل کیا گیا ہے، جبکہ وہ پرانے ماڈلز جو اب متروک ہونے کے قریب ہیں، ان کی قیمتوں میں ’’ڈیپریسی ایشن‘‘ (فرسودگی یا استعمال کی وجہ سے قیمت میں کمی) کے تحت زیادہ بڑی کٹوتی کی گئی ہے۔ دیگر بڑے برانڈز کی کسٹمز ویلیوز کو نسبتاً معتدل سطح پر مقرر کیا گیا ہے؛ جس میں سام سنگ گلیکسی کے ماڈلز عام طور پر 40 ڈالر سے 255 ڈالر، گوگل پکسل کی ڈیوائسز تقریباً 30 ڈالر سے 260 ڈالر، اور ون پلس کے ماڈلز زیادہ تر 60 ڈالر سے 185 ڈالر کی رینج میں رکھے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان قیمتوں کا تعین اس لیے کیا گیا ہے تاکہ یہ مقامی ریٹیل قیمتوں کے بجائے بین الاقوامی سطح پر دوبارہ فروخت کی قیمتوں اور استعمال کی وجہ سے قیمت میں ہونے والی حقیقت پسندانہ کمی کی عکاسی کریں۔ ویلیو ایشن کے عمل میں شامل حکام کے مطابق، سابقہ طریقہ کار نے درآمدی مرحلے پر مسلسل تنازعات پیدا کر دیے تھے، جن میں قیمتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے پر جھگڑے، انڈر انوائسنگ (اصل قیمت سے کم دکھانے) کے الزامات اور استعمال شدہ فونز کی ’’گریڈنگ‘‘ (حالت کے معیار) پر اختلافات شامل تھے۔ ان مسائل کی وجہ سے نہ صرف کلیئرنس میں تاخیر ہوتی تھی بلکہ اخراجات میں بھی اضافہ ہو جاتا تھا، جس کا بوجھ آخر کار صارفین پر پڑتا تھا۔

اہم خبریں سے مزید