لاہور (آصف محمود بٹ) پنجاب حکومت نے صوبے کے انتظامی اور احتسابی نظام میں ایک اہم اور بنیادی نوعیت کی قانونی ترمیم کرنے کی تیاری کرلی ہےجس کے تحت ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی کے موجودہ طریقۂ کار میں نمایاں تبدیلی لائی جا رہی ہے۔ پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی ایکٹ 2006 میں مجوزہ ترمیم کا مقصد ان مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے جو محض مقررہ مدت پوری ہونے کی وجہ سے ختم ہو جاتے تھے۔معتبر ذرائع نے ’’جنگ‘‘ کو بتایا کہ پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی ،پیڈا، (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے ذریعے ایکٹ کے سیکشن 21 کی ذیلی شق (1) کے میں ترمیم تجویز کی گئی ہے۔ موجودہ قانون کے تحت اگر کسی سرکاری ملازم کے خلاف اس کی ریٹائرمنٹ کے بعد محکمانہ کارروائی شروع کی جائے تو اس کارروائی کو لازمی طور پر ریٹائرمنٹ کی تاریخ سے دو سال کے اندر مکمل کرنا ہوتا ہے۔ قانون میں یہ شرط اتنی سخت ہے کہ اگر کسی وجہ سے کارروائی دو سال کے اندر مکمل نہ ہو سکے تو وہ ازخود غیر مؤثر ہو جاتی ہے چاہے الزام کی نوعیت سنگین ہی کیوں نہ ہو یا کارروائی اپنے آخری مراحل میں ہی کیوں نہ پہنچ چکی ہو۔مجوزہ ترمیم میں اس بنیادی شرط کو برقرار رکھا گیا ہے، تاہم اس کے ساتھ ایک اہم اور عملی نوعیت کی گنجائش شامل کی جا رہی ہے۔ ترمیم کے مطابق اگر ریٹائرڈ ملازم کے خلاف شروع کی گئی کارروائی دو سال کے اندر مکمل نہ ہو سکے تو مجاز اتھارٹی تحریری وجوہات درج کرتے ہوئے اس مدت میں مخصوص وقت کے لیے توسیع کر سکے گی۔ اس طرح دو سال کی مدت اب حتمی اور ناقابلِ توسیع نہیں رہے گی بلکہ قانونی طریقے سے بڑھائی جا سکے گی۔