کراچی (ٹی وی رپورٹ) چیئرمین پاک چائنہ انسٹیٹیوٹ مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ غزہ امن بورڈ سے پاکستان کو فلسطین اور کشمیر پر بات کرنے کا پلیٹ فارم مل گیا ۔رہنما تحریک تحفظ آئین پاکستان مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ پاکستان کشمیر پر بات نہیں کرسکے گا چونکہ غزہ امن بورڈ کے چارٹر کے مطابق ٹرمپ وہاں ہونے والی گفتگو کا فیصلہ کریں گے ۔ جبکہ پیٹرن پاک فلسطین فورم کے مشتاق احمد اورکالم نگار زاہد حسین نے غزہ امن بورڈ کی مخالفت کی ۔ وہ جیو نیوز کے کیپٹل ٹاک میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہے تھے۔ تفصیلات کے مطابق پروگرام کے آغاز میں میزبان حامد میر نےکہا کہ پاکستان آخر کار غزہ امن بورڈ کا باضابطہ رکن بن گیا ہے ۔ پاکستان کا موقف تھا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کا حصہ نہیں بنیں گے جبکہ ٹرمپ کہتے ہیں کہ حماس نے اگر ہتھیار نہ ڈالے توجو لبنان میں حزب اللہ نے کیا یعنی لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ اسرائیل نے جو کیا ۔ چیئرمین پاک چائنہ انسٹیٹیوٹ مشاہد حسین سید نے کہا کہ صرف پاکستان کا فیصلہ نہیں ہوا ہے آٹھ مسلم ممالک جس میں پاکستان، ترکیہ، انڈونیشیا ، سعودی عرب یو اے ای قطر سب شامل ہیں اور سب نے متفقہ فیصلہ کیا ہے ۔ ٹرمپ نے کہا ہے یہ اقوام متحدہ کا متبادل نہیں ہے دوسرا یہ عالمی امن کے لئے ہوگا تو پاکستان کو ایک پلیٹ فارم مل گیا ہے آپ اپنا موقف پیش کریں گے۔